امریکہ نے حملے بحال کیے تو ’جنگ خطے سے باہر‘ تک پھیل جائے گی: پاسداران انقلاب
صدر ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ کو ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑ سکتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے حملوں کا سلسلہ بحال کیا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی۔
عرب نیوز کے مطابق بدھ کو پاسداران انقلاب کی ویب سائٹ سپاہ نیوز پر جای کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو اس بار خطے تک محدود رہنے والی جنگ اس سے باہر تک پھیل جائے گی۔‘
بیان کے مطابق ’ہمارے تباہ کن حملے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔‘
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ کو ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے سے محض ایک گھنٹہ دوری پر تھے جب انہوں نے یہ حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’میں آج حملہ کرنے کا فیصلہ کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھا۔‘
نہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی قیادت ڈیل کرنے کے لیے منتیں کر رہی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو آنے والے دنوں میں امریکہ کی جانب سے نیا حملہ کر دیا جائے گا۔
خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور وقت کی حساسیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ’دیکھیں، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ دو یا تین دن، شاید جمعہ، سنیچر، اتوار یا پھر کچھ ایسا، شاید اگلے ہفتے کے آغاز میں۔۔۔ ایک محدود وقت کے لیے، کیونکہ ہم انہیں نیا جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے۔‘
خیال رہے 28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے تقریباً پانچ ہفتے بعد پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی ہو گئی تھی جو ابھی تک چل رہی ہے۔
اس دوران اپریل میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مذاکرات بھی ہوئے تاہم بے نتیجہ رہے تھے جبکہ اگلا دور نہیں ہو سکا تھا۔
اس وقت بھی دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی وساطت سے تجاویز کا تبادلہ چل رہا ہے اور کوششیں کی جا رہی ہے کہ جنگ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔