ایران کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات نازک موڑ پر ہیں اور ایک سخت گیر ایرانی جنرل جن کا نام گذشتہ دہائیوں میں ملک اور بیرونِ ملک بدنام حملوں سے جڑا رہا ہے، سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے اقتدار کے مرکز میں جگہ بنا لی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی ایران کے پاسدران انقلاب کی سربراہی کرتے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ وہ ایران کے سخت موقف کو تشکیل دینے میں بڑا کردار ادا کر رہے ہیں، تاکہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے ممکنہ خاتمے پر بات چیت کی جا سکے۔
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک چھوٹے حلقے کا حصہ ہیں جو براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطے میں ہے۔
مزید پڑھیں
ایران میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے فیصلہ سازی پر کس کا کنٹرول ہے، یہ غیر یقینی ہے۔
ایران کی مذہبی قیادت کے اعلیٰ طبقات میں طاقت کی کشمکش جاری ہے، اور افراد جلدی مقبول یا غیر مقبول ہو سکتے ہیں۔ خود وحیدی 8 فروری کے بعد کئی ماہ تک عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، یہاں تک کہ جمعرات کو ایرانی اخبارات نے ان کی تصاویر شائع کیں جن میں وہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ سے تہران میں ملاقات کر رہے تھے۔ وزیرِ داخلہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پیغام لے کر آئے تھے۔
وحیدی کئی برسوں سے نظام کا حصہ ہیں اور انہوں نے خطے میں عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کو تشکیل دیا، ان پر 1994 میں ارجنٹینا کے ایک یہودی مرکز پر بم دھماکے میں کردار کا الزام ہے، اور 2022 میں انہوں نے مظاہرین پر خونریز کریک ڈاؤن کی قیادت کی۔
اس سال جنگ کے آغاز میں اپنے پیشرو کی ہلاکت کے بعد گارڈ کے کمانڈر بننے والے وحیدی اب ایران کی سب سے طاقتور فورس کی قیادت کر رہے ہیں، جس کے پاس بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ اور خلیجِ عرب میں جہاز رانی کو خطرے سے دوچار کرنے والی والی چھوٹی کشتیوں کا بیڑا ہے۔
واشنگٹن میں انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار نے کہا کہ ’وحیدی اور ان کے قریبی حلقے کے افراد نے غالباً نہ صرف ایران کے فوجی ردعمل بلکہ مذاکراتی پالیسی پر بھی کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔‘

ایران کی جنگی حکمتِ عملی آبنائے ہرمز پر گرفت قائم رکھنا ہے، تاکہ تیل اور گیس کی برآمدات کو روکا جا سکے اور عالمی توانائی بحران پیدا ہو۔ ساتھ ہی اس نے خلیجی عرب ممالک میں تیل کی تنصیبات، ہوٹلوں اور بنیادی ڈھانچے پر سخت حملے کیے ہیں۔
مذاکرات میں ایران نے امریکہ کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کیا ہے کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرے، اور کہا ہے کہ وہ امریکہ کو اس تنازعے میں شکست دے سکتا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ براہِ راست جنگ دوبارہ شروع کرنے سے ہچکچائیں گے جو امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کو زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ وحیدی کے جارحانہ انداز کی عکاسی کرتا ہے۔
نیویارک کے تھنک ٹینک ’دی سوفان گروپ‘ کے سینیئر فیلو کینیٹھ کاٹزمین نے کہا کہ ’وہ کبھی نہ ختم ہونے والی انقلاب اور مزاحمت کے نظریے والے لوگوں میں سے ہیں۔‘ کاٹزمین کے مطابق وحیدی کا ماننا ہے کہ ’امریکہ کو ہر موقع پر چیلنج کرنا ضروری ہے۔‘
وحیدی نے جنوری میں دعویٰ کیا کہ ایران کی دفاعی طاقت اس سطح تک پہنچ گئی ہے جو کسی بھی دشمن کے فوجی اقدام کے لیے ’انتہائی خطرہ‘ ہے۔
وحیدی اب مذاکرات کا مرکز
اپریل میں پاکستان نے ایرانی وفد (جس کی قیادت سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے) اور امریکی وفد (جس کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے) کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی۔ لیکن کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔

قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی وطن واپس آئے تو انہیں اس بات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ بہت زیادہ رعایت دینے پر تیار تھے۔ قالیباف کو عوامی سطح پر کہنا پڑا کہ مذاکرات کو سپریم لیڈر کی حمایت حاصل ہے۔
ثالثی کے عمل سے براہِ راست واقف ایک عہدیدار نے بتایا کہ وحیدی ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والوں کے لیے مرکزی رابطہ بن گئے ہیں۔
سپریم لیڈر کی گوشہ نشینی اور نامعلوم حالت نے قیادت تک رسائی اور اثر و رسوخ کے لیے قیادت کے درمیان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ مئی کے اوائل میں صدر مسعود پزشکیان، جنہیں گارڈ کے اثر سے باہر سمجھا جاتا ہے، نے کہا کہ انہوں نے ’ہمارے عزیز رہنما سے ملاقات کی‘ اور تقریباً دو گھنٹے بات کی۔
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کی ہالی ڈاگریس نے کہا کہ غالباً نیا سپریم لیڈر ’اپنے والد کی طرح زیادہ سخت گیر گارڈ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہا ہے، لیکن زیادہ جری اور غیر لچکدار انداز میں۔‘
تجزیہ کار کامران بخاری نے لکھا کہ وحیدی جیسے افراد ’صرف جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ وہ جانشینی کو دوبارہ تشکیل دے رہے ہیں، کمزور سپریم لیڈر کے گرد اختیار کو مضبوط کر رہے ہیں، اور بحران کے ذریعے ریاست کو ’قبضے‘ میں لے رہے ہیں۔‘
قدس فورس میں وحیدی کی تربیت
1958 میں ایران کے جنوبی شہر شیراز میں احمد شاہچراغی کے نام سے پیدا ہونے والے وحیدی نے 1979 کے انقلاب کے بعد انقلابی گارڈ میں شمولیت اختیار کی اور صدام حسین کے حملے کے خلاف آٹھ سالہ خونریز جنگ میں حصہ لیا۔

انہوں نے گارڈ کے خفیہ شعبے میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی ایران سے باہر کارروائیوں کی نگرانی کرنے لگے۔ انہیں طاقتور سرپرستوں کی حمایت ملی، جن میں بعد کے صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی بھی شامل تھے۔ رفسنجانی نے اپنی سوانح میں لکھا کہ وحیدی ایران-کانٹرا سکینڈل میں شامل تھے، جس میں ریگن انتظامیہ نے ایران کو اسلحہ بیچا تاکہ لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یرغمالیوں کو رہا کرایا جا سکے۔
اسی دوران وحیدی نے نئی تشکیل شدہ قدس فورس کی کمان سنبھالی۔ اس فورس نے مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی گروہوں اور اتحادی حکومتوں کا نیٹ ورک بنایا۔ ارجنٹینا کے یہودی مرکز پر 1994 کے بم دھماکے میں 85 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوئے، جس کا الزام قدس فورس پر لگایا گیا۔ ایران نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
امریکی تحقیقات کے مطابق، وحیدی کے دور میں ایران نے 1996 میں سعودی عرب میں ’خوبر ٹاورز‘ پر بم دھماکہ منظم کیا، جس میں 19 امریکی فوجی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ تہران نے اس حملے میں ملوث ہونے سے بھی انکار کیا۔
وحیدی نے 1998 میں قدس فورس چھوڑ دی۔ 2010 میں جب وہ وزیرِ دفاع تھے، امریکہ نے ان پر ایران کے جوہری پروگرام اور ہتھیاروں کی تیاری میں مبینہ کردار کے باعث پابندیاں عائد کیں۔
حالیہ برسوں میں، وزیرِ داخلہ کے طور پر، وحیدی نے پولیس یونٹس کی نگرانی کی جو 2022 میں مہسا امینی کی موت کے بعد مظاہروں پر خونریز کریک ڈاؤن میں شامل تھے۔

ایک ایرانی اخبار نے بعد میں ایک خفیہ دستاویز شائع کی جس میں دکھایا گیا کہ وحیدی کی وزارتِ داخلہ نے سکیورٹی اداروں کو حکم دیا کہ وہ خواتین کی نگرانی اور تصاویر لیں جو حجاب نہیں پہنتی تھیں۔ وحیدی نے اس کی تردید کی تھی۔
اسی وقت وحیدی نے عوامی بیانات میں کہا کہ حجاب ہٹانے کی کال ’نوآبادیاتی منصوبہ‘ ہے جو ایران کے دشمن اسلامی جمہوریہ کو کمزور کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’حجاب مغربی ثقافت کی کمزور ترقی کے خلاف ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے۔‘
وحیدی کا کردار امریکہ کے لیے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا مزید مشکل بنا دیتا ہے جیسا کہ ایران کی قیادت کے بارے میں جاری غیر یقینی صورتحال بھی۔
مشرقِ وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ کے ایران ماہر حمیدرضا عزیزی نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ ایران میں مذاکرات کے لیے ایک واحد نمائندہ چاہتے ہیں، لیکن پورا نظام بدل گیا ہے۔‘
عزیزی کے مطابق کہ ’یہ ایک شخص کا کھیل نہیں ہے۔ وحیدی دوسروں کے ساتھ ہیں۔ کچھ ہمیں معلوم ہیں اور کچھ ہمیں معلوم نہیں۔‘












