مسجد الحرام کی پہلی گھڑی جو شاہ عبدالعزیز کے حکم پر جرمنی سے منگوائی گئی
مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کی پہلی تاریخی گھڑی 1933 میں کنگ عبدالعزیز کے حکم پر نصب کی گئی جو چار دہائیوں تک مکہ اور مسجد الحرام کی شناحت بنی رہی۔
سال ہجری 1352 بمطابق 1933 عسیوی کو کنگ عبدالعزیز آل سعود نے مسجد الحرام میں نماز کے اوقات کے درست تعین کے لیے ایک بڑی گھڑی نصب کرنے کا حکم دیا۔
ایس پی اے کے مطابق بانی مملکت کے اس وقت کے وزیر خزانہ عبداللہ بن سلیمان الحمدان کو اس منصوبے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
انہوں نے جرمنی سے یہ گھڑی خصوصی طور پر منگوائی اور جدہ بندرگاہ کے راستے مملکت پہنچی۔
اس کی تنصیب اور نگرانی کے لیے مقدس دارالحکومت کے اُس وقت کے میئر عباس قطان کو ذمہ دار بنایا گیا۔ اس بڑی گھڑی کی تنصیب کے لیے 30 میٹر بلند ٹاور تعمیر کیا گیا جس کے دو رخ تھے۔

اس منصوبے پر کام کا آغاز رجب 1352 ہجری بمطابق 1933 میں شروع ہوا۔ گھڑی کی تنصیب کا کام ماہ شعبان کے آخر تک مکمل ہوا۔
گھڑی کا ایک رخ مسجدالحرام اور المسعی شاہراہ کی جانب تھا جبکہ دوسرا رخ اجیاد روڈ کی جانب تھا تاکہ دونوں سمتوں سے آنے والے افراد آسانی سے وقت دیکھ سکیں۔
گھڑی کا ڈائل سفید جبکہ اس کی سوئیاں سیاہ تھیں۔ رات کے وقت وقت یہ گھڑی چمکتی تھی۔ اس گھڑی کو تجرباتی مراحل سے گزارے جانے کے بعد سرکاری طور پر منظوری دی گئی۔

کنگ عبدالعزیز فاؤنڈیشن کے مطابق اس وقت یہ بڑی گھڑی واحد ذریعہ تھی جس سے نمازی اور طلبہ وقت کا درست تعین کرتے اور اس پر مکمل اعتماد کرتے تھے۔
یہ گھڑی اب ام الجود میں واقع حرمین شریفین عمارۃ نمائش سینٹر میں یادگار کے طور پر محفوظ ہے۔
یہ تاریخی گھڑی بانی مملکت کے عہد سے آج تک مملکت کی اعلٰی قیادت کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کاوشوں کی گواہ ہے۔
