سعودی شیف جو عازمین حج کے لیے کھانے تیار کر رہے ہیں
حجاج کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے مینو تیار کیا جاتا ہے۔ ( فائل فوٹو)
عازمین حج کو یومیہ بنیاد پر کھانے فراہم کرنے والے ادارے میں سعودی مرد وخواتین اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
تربیت یافتہ مقامی افراد ہزاروں عازمین کے لیے معیاری اور صحت بخش کھانوں کی تیاری میں رات دن مصروفِ عمل ہیں۔
سعودی ٹی وی الاخباریہ سے گفتگو کرتے ہوئے حجاج کی کیٹرنگ کے شعبے کے ذمہ دار سعد الادریسی کا کہنا تھا ’ہزاروں حجاج کی خدمت کرتے ہوئے کسی قسم کی تھکن یا پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔‘
حجاج کی خدمت کے حوالے سے اپنے احساسات کا اظہار دو جملوں میں کیا ’ یہ عام مہمان نہیں، رب کے مہمان ہیں۔‘
سعودی خاتون شیف ’اریاف السحیبانی‘ نے بتایا’ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ تین ہزار افراد کے لیے بریانی تیار کی، وقت بھی بچا جبکہ کام بھی معیار کے مطابق مکمل ہوا۔‘
ان کا کہنا تھا’ ہماری ٹیم حجاج کے لیے کھانے تیار کرتی ہے۔ حجاج کی عمر، پرہیز اور دیگر باتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، کوشش ہوتی ہے جو خوراک بنائی جائے وہ ایسی ہو کہ اسے زیادہ افراد باسانی کھا سکیں۔‘
ایک اور خاتون شیف ’ایناس خضری‘ کا کہنا تھا ’حجاج کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے لیے مینو تیار کیا جاتا ہے۔‘

’ذیابیطس اور بلڈ پریشر میں مبتلا حجاج کے لیے مخصوص پکوان تیار کیے جاتے ہیں، جبکہ وہ حجاج جنہیں گلوٹین سے الرجی کی شکایت ہوتی ہے ان کے لیے خوراک مختلف ہوتی ہے۔‘
اس کے علاوہ مختلف ممالک کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں تاکہ ہر کسی کے ذوق کے مطابق انہیں کھانا مہیا کیا جاسکے۔
شیف فریال نے بتایا ’ اس سے پہلے معروف ہوٹلز اور ہسپتالوں کی کیٹرنگ میں کام کیا ہے، جہاں مختلف سعودی ڈشز کے علاوہ عربی اور یورپین پکوان تیار کیے۔‘
حجاج کو کھانے منتقل کرنے کے شعبے کے ذمہ دار عبداللہ الطارقی کا کہنا تھا’ اس کے لیے شیڈول مقرر ہوتا ہے۔ کوشش ہوتی ہے کہ مقررہ وقت کے اندر رہتے ہوئے تازہ خوراک حجاج کی رہائش تک پہنچائی جائے، ہاٹ اینڈ کولڈ سٹوریج وین میں کھانے کو انتہائی محفوظ انداز میں منتقل کیا جاتا ہے۔‘
