Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران اور امریکہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے قریب، اتوار کو اعلان کا امکان ہے، مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے ممکنہ طور پر اتوار تک ایک معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے سے اس کے جوہری پروگرام پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق  اپریل سے واشنگٹن اور تہران جنگ بندی پر عمل پیرا ہیں، جبکہ ثالث ایک مذاکراتی حل کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ایران نے خلیجی بحری راستوں پر کنٹرول نافذ کر رکھا ہے اور امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
اتوار کے روز انڈیا کے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’یرے خیال میں آئندہ چند گھنٹوں میں دنیا کو کوئی اچھی خبر ملنے کا امکان ہے۔‘
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ معاہدہ کافی حد تک طے پا چکا ہے، صرف امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران اور دیگر متعلقہ ممالک کی حتمی منظوری باقی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک ایسے ’عمل‘ کا آغاز ہوگا جو بالآخر دنیا کو اس مقام تک لے جائے گا جہاں صدر چاہتے ہیں، یعنی ایک ایسی دنیا جہاں ایرانی جوہری ہتھیار کا خوف نہ ہو۔
صدر ٹرمپ کی پوسٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، جس سے توانائی کی عالمی منڈیوں کو ریلیف ملے گا۔ ایران کی طویل ناکہ بندی کے باعث اس اہم بحری گزرگاہ پر دباؤ تھا، جہاں سے زمانہ امن میں دنیا کی گیس اور تیل کا پانچواں حصہ برآمد ہوتا ہے۔
یورپی رہنماؤں نے، جو آبنائے ہرمز کی بحالی اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کے خواہاں ہیں، اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے ’معاہدے کی جانب پیش رفت‘ کو سراہا، جبکہ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ’بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس موقع سے فائدہ اٹھانے‘ کے عزم کا اظہار کیا۔
ایرانی حکام نے معاہدے کے مسودے کی موجودگی کی تصدیق کی، لیکن واضح کیا کہ امریکہ کے دیرینہ مطالبے کے باوجود، یعنی یورینیم افزودگی ختم کرنے کے معاملے پر، کسی بھی معاہدے کے بعد 60 روز تک بات چیت مؤخر رہے گی۔

’پائیدار امن‘

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، واشنگٹن نے عالمی پابندیوں کے تحت بیرون ملک منجمد تہران کے کچھ فنڈز جاری کرنے اور ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
اس کے بدلے، ’اس مسودے کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمد و رفت جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہوگی، تاہم اس کا انتظام ایران کے پاس رہے گا۔‘
رپورٹ کے مطابق، ’تیل، گیس، پیٹروکیمیکلز اور ان کی مصنوعات پر عائد پابندیاں مذاکراتی مدت کے دوران عارضی طور پر اٹھا لی جائیں گی تاکہ ایران آزادانہ طور پر اپنی مصنوعات فروخت کر سکے۔‘
دیگر ایرانی ذرائع ابلاغ نے اشارہ دیا کہ مذاکرات انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سخت گیر اخبار ’جوان‘ نے لکھا کہ دونوں فریق “دشمنی ختم کرنے سے صرف ایک قدم دور ہیں، اور جنگ سے بھی صرف ایک قدم کے فاصلے پر ہیں۔‘
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن اور بحرین کے رہنماؤں سمیت ترکیہ اور پاکستان کے نمائندوں نے ہفتے کے روز ٹرمپ کے ساتھ ایک کال میں شرکت کی، جس میں معاہدے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
، وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان، جس نے اپریل میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تاریخی براہِ راست مذاکرات میں ثالثی کی تھی، ایک اور دور کی میزبانی ’بہت جلد‘ کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر، جو جمعہ اور ہفتہ کو تہران کے دورے پر تھے، بھی اس کال میں شریک ہوئے۔ ان کے بقول یہ رابطہ ’خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے جاری امن کوششوں کو آگے بڑھانے کا ایک مفید موقع ثابت ہوا۔‘

شیئر: