ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں سپردِ خاک کر دیا گیا
جمعہ 10 جولائی 2026 10:07
سیاہ لباس میں ملبوس سوگوار بڑی تعداد میں جلوس کے پیچھے چل رہے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جمعے کے روز ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق تدفین کی تقریب کے دوران ان کے بیٹے اور جانشین مجتبیٰ خامنہ ای عوامی منظر پر دکھائی نہیں دیے۔
ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا جلوس جمعرات کو تدفین کے لیے ملک کی مقدس ترین زیارت گاہ، مزار امام رضا، پہنچا جہاں صحن میں عوام کا بڑا ہجوم موجود تھا۔ بعض شرکا کے ہاتھوں میں ایسے بینرز بھی تھے جن پر درج تھا:’ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے۔‘
ایک ہفتے سے جاری تدفینی تقریبات اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں تاہم آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے اور جانشین مجتبیٰ خامنہ ای اب بھی عوامی منظر سے غائب ہیں۔ 28 فروری کو ہونے والے اس حملے میں وہ بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔ مبصرین کے مطابق ان کی عدم موجودگی اس بے چینی کی عکاسی کرتی ہے جو اب بھی ایران میں پائی جاتی ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو ایک ٹرک کے ذریعے شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد کی گنجان سڑکوں سے آہستہ آہستہ روضۂ امام رضا کے سنہری گنبد اور میناروں کی جانب لے جایا گیا۔ جلوس کے دونوں اطراف سفید عمامے پہنے علما موجود تھے۔
سیاہ لباس میں ملبوس سوگوار بڑی تعداد میں جلوس کے پیچھے چل رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں ایرانی پرچم، مرحوم خامنہ ای کی تصاویر اور انقلابی نعروں والے سرخ بینرز تھے۔
شدید رش کے باعث جب ٹرک آگے نہ بڑھ سکا تو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے تابوت کو مختصر فاصلے تک لے جایا گیا۔ بعد ازاں تابوت کو قالین پر رکھا گیا جہاں علما نے اس کے پیچھے کھڑے ہو کر دعا کی۔
جنگ بندی کے باوجود اس ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی۔ ایران اب بھی آبنائے ہرمز جیسے اہم آبی راستے پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے اسرائیل اور امریکہ جیسے اپنے طاقتور ترین مخالفین کی کئی ماہ تک جاری رہنے والی کارروائیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے۔
ایرانی حکام آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین اور ان کے جنازے میں شریک ہونے والے بڑے عوامی اجتماع کو اپنی مذہبی حکومت کی عوامی مقبولیت اور اس کے نظریاتی عزم کے تسلسل کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں حالانکہ 1979 کے اسلامی انقلاب کو تقریباً نصف صدی گزر چکی ہے۔
