معاہدے سے آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے: ٹرمپ، ایران کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار
صدر ٹرمپ نے سنیچر کو کہا تھا کہ ’معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا، بس حتمی مںظوری باقی ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’معاہدے کے بڑی حد تک طے پا جانے‘ کے بیان کے بعد اچانک اتوار کو تہران کا اصرار سامنے آیا کہ وہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھے گا۔
اس سے قبل سنیچر کی رات کو امریکی صدر نے کہا تھا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی طے پا چکا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے صدر ٹرمپ کے اعلان کو ’نامکمل اور حقیقت سے متصادم‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’معاہدے پر بات چیت کے بعد بڑی حد تک معاہدہ طے پا چکا ہے تاہم ابھی حتمی منظوری باقی ہے۔‘
انہوں نے پوسٹ میں آبنائے ہرمز کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ معاہدے کے تحت اس کو بھی کھولا جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا’ میں وائٹ ہاوس کے اوول آفس میں ہوں، جہاں ابھی ایران اور امن سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے تمام امور پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان بن جاسم، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے بادشاہ عبدللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے ساتھ ایک بہت اچھی بات ہوئی۔‘
'امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران، اور مختلف دیگر ممالک کے درمیان ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے، مگر اسے ابھی حتمی شکل دی جانی باقی ہے۔'
اس سے قبل امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے صدر ٹرمپ کے انٹرویو کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ’ وہ ایران کے ساتھ مجوزہ نئے ڈرافٹ معاہدے پر اپنے مشیروں سے مشاورت کریں گے اور ممکن ہے اتوار تک یہ فیصلہ کر لیں کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا نہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول ’یا تو ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے، یا پھر میں انہیں جہنم واصل کروں گا۔‘
دوسری جانب امریکی صدر کے یہ تبصرے ایران کے حکام کے بیانات سے متصام دکھائی دیتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ ابھی بہت اختلافات باقی ہیں اور اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ابتدائی مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’آپس میں مفاہمت کی طرف رجحان ہے۔‘
تاہم ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ لازمی طور پر ہم اور امریکہ اہم معاملات پر کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔