بالی وڈ اداکار عامر خان نے پانچ جولائی کو انتہائی سادگی کے ساتھ تیسری شادی کی جس میں اہل خانہ کے ساتھ دولہا دلہن کے مخصوص احباب شامل تھے۔
گذشتہ دنوں چند شادیاں ایسی ہوئی جو کروڑوں روپے کے ملبوسات، قیمتی ہیرے، شاہانہ تقریبات اور ستاروں سے سجی مہمانوں کی فہرست کی وجہ سے خبروں میں رہیں۔ لیکن ’مسٹر پرفیکشنسٹ‘ نے سادگی میں بھی شہ سرخیاں حاصل کی اور اپنے مختلف انداز کو برقرار بھی رکھا۔
دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق گوری سپریٹ کے ساتھ سادہ اور نجی تقریب میں ہونے والی شادی کے چند روز بعد سب سے زیادہ جس چیز نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، وہ ان کی اہلیہ کی شادی کی انگوٹھی تھی، جسے جیولری کی دنیا میں ’ون اِن اے ملین‘ لاکھوں میں ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
-
عامر خان نے اپنے بیٹے جنید خان کو شوبز میں سہارا نہیں دیا؟Node ID: 903849
-
عامر خان کی یادگار فلم ’لگان‘ کی ریلیز کے 25 سال مکملNode ID: 905390
-
عامر خان نے تیسری بار سہرا باندھ لیاNode ID: 906077
ممبئی کے باندرہ میں عامر کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی تقریب میں صرف اہلِ خانہ، بچوں اور چند قریبی دوستوں نے شرکت کی۔ نہ کوئی شاندار استقبالیہ ہوا، نہ ہی بالی وڈ کے بڑے ستاروں کی بھیڑ دکھائی دی۔ لیکن شادی کے بعد سامنے آنے والی ایک تصویر نے پورے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی، اور وہ تھی گوری کی انگلی میں جگمگاتی سرخ یاقوت والی انگوٹھی۔
یہ انگوٹھی ممبئی کے لگژری جیولری برانڈ کوین نے خصوصی طور پر تیار کی۔ اس کا مرکزی نگینہ مڈغاسکر سے حاصل کیا گیا اور اس کا قدرتی کیبوشون کٹ روبی ہے۔ زیورات و جواہرات کے ماہرین کے مطابق اس معیار، رنگ اور شفافیت کا قدرتی روبی یعنی یاقوت دنیا میں نہایت کم پایا جاتا ہے، اسی لیے اسے ’ون اِن اے ملین‘ روبی کہا گیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق برانڈ کے شریک بانی امیت کمار کا کہنا ہے کہ صرف اس پتھر کی تلاش میں تین ماہ سے زیادہ وقت لگا کیونکہ اس درجے کا روبی (یاقوت) انتہائی نایاب ہے۔
اصل حیرت انگیز کہانی اس انگوٹھی کی تیاری سے جڑی ہے۔ برانڈ کے مطابق 131 ماہر کاریگروں نے مختلف مراحل میں اس کے ڈیزائن پر کام کیا اور پتھر کی تراش خراش، سیٹنگ، ہیرے جڑنے اور آخری فنشنگ سمیت تمام مراحل مکمل کرنے میں 256 گھنٹوں سے زیادہ وقت صرف ہوا۔

زیورات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی دستکاری آج کے دور میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے کیونکہ زیادہ تر برانڈز مشینی طریقے سے تیار ہونے والی انگوٹھیاں فروخت کرتے ہیں، جبکہ یہ انگوٹھی مکمل طور پر ایک ’ہیئرلوم پیس‘ یعنی نسل در نسل منتقل کیے جانے والے شاہکار کے طور پر تیار کی گئی ہے۔
اس انگوٹھی کا ڈیزائن بھی عام شادی کی انگوٹھیوں سے مختلف ہے۔ روبی کو ایک تاج نما سنہری ساخت میں نصب کیا گیا ہے جس کے اطراف تقریباً 40 قدرتی ہیروں کی نفیس جڑائی کی گئی ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق باریک مل گرین نقش و نگار، ابھرے ہوئے بمبے انداز اور شاہی طرز کی ساخت اسے روایتی مغربی ہیروں کی انگوٹھیوں سے الگ شناخت دیتے ہیں۔ جیولری ڈیزائنرز کا کہنا ہے کہ اس انگوٹھی میں مغل اور یورپی شاہی زیورات دونوں کے طرو اور انداز کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
اگرچہ برانڈ یا عامر خان نے اس انگوٹھی کی قیمت ظاہر نہیں کی، لیکن انڈیا میں جواہرات کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ نایاب مڈغاسکر روبی، قدرتی ہیروں اور سینکڑوں گھنٹوں کی دستکاری کو دیکھتے ہوئے اس کی مالیت کروڑوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم اس بارے میں باضابطہ طور پر کوئی تصدیق موجود نہیں، اس لیے قیمت کے تمام اندازے غیر مصدقہ ہیں۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ عامر خان اس سے قبل بھی گوری سپریٹ کو برازیل سے حاصل کردہ ایک نایاب ایکوامیرین پتھر کی انگوٹھی تحفے میں دے چکے تھے۔ اس لیے جوہریوں کا خیال ہے کہ عامر عام ہیرے کے بجائے ایسے قیمتی پتھروں کو ترجیح دیتے ہیں جن کی ایک منفرد شناخت اور جذباتی اہمیت ہو۔
قدر گوہر شاہ داند یا بہ داند جوہری
سوشل میڈیا پر اس انگوٹھی کی تصاویر وائرل ہوتے ہی ہزاروں تبصرے سامنے آئے۔ انسٹاگرام اور ایکس پر متعدد صارفین نے عامر کی سادگی اور انگوٹھی کے منفرد انتخاب کو سراہا۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’آخر کسی بالی وڈ شادی میں ہیرے کے بجائے روبی نے سب کی توجہ چرا لی۔‘
ایک اور صارف کا تبصرہ تھا کہ ’131 کاریگروں کی محنت ایک انگوٹھی میں سمٹ آئی، یہی اصل لگژری ہے۔‘
ایک مداح نے لکھا کہ ’عامر خان نے ثابت کیا کہ محبت کی قیمت نہیں ہوتی، لیکن اس کے اظہار میں محنت ضرور ہونی چاہیے۔‘

دوسری جانب کچھ صارفین نے طنزیہ انداز بھی اپنایا۔ ریڈٹ پر ایک صارف نے لکھا کہ ’اتنا وقت تو شاید تیسری شادی ڈھونڈنے میں بھی نہیں لگا ہوگا۔‘ جبکہ ایک اور نے اسے عامر خان کی ’پرفیکشنسٹ‘ شخصیت کا تسلسل قرار دیا۔
فیشن اور جیولری کے ماہرین کا ماننا ہے کہ عامر خان کی اس انگوٹھی نے ایک نیا رجحان متعارف کرایا ہے۔ گذشتہ کئی برسوں سے بالی وڈ میں سفید ہیرے والی سادہ انگوٹھیاں فیشن کا حصہ تھیں، لیکن نایاب رنگین قیمتی پتھر، روایتی دستکاری اور شاہی طرز کے ڈیزائن اب دوبارہ مقبول ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شادی کے کئی دن بعد بھی لوگ تقریب سے زیادہ اس انگوٹھی کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔
ایسے میں بس وہ پرانا قول یاد آتا ہے ’قدر گوہر شاہ داند یا بہ داند جوہری‘












