Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فلسطینی قصبہ اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کے خلاف اپنی حفاظت کیسے کر رہا ہے؟

وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت نے مغربی کنارے میں سینکڑوں نئی بستیاں اور چھوٹے آبادکاری مراکز منظور کیے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
جون کی ایک ٹھنڈی رات میں مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے کے قصبے سنجیل کے تقریباً 15 فلسطینی ایک پہاڑی پر جمع ہوئے تاکہ نیچے وادیوں میں کسی حرکت کے آثار دیکھ سکیں جو ممکنہ اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کی نشاندہی کر سکے۔
یہ لوگ ایک مقامی رضاکار گروہ کا حصہ ہیں جو مغربی کنارے کے دیگر گروہوں کی طرح ہے جس نے قصبے کو آبادکاروں کی تشدد سے بچانے کے لیے قدم اٹھایا ہے۔ فلسطینی کہتے ہیں کہ اسرائیلی فوج اور ان کی اپنی حکومت تشدد کو روکنے میں ناکام یا غیر مائل رہی ہے۔
برطانوی خبر ساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک رضاکار فادی علوان نے کہ ’ہمیں بالکل تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ آپ ایسے آبادکاروں کا سامنا کرتے ہیں جنہیں ان کی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ ہمارے پاس کوئی نہیں۔ اس لیے ہمیں مجبوراً یہاں رہنا پڑتا ہے اور اس قصبے کی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔‘
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت نے مغربی کنارے میں سینکڑوں نئی بستیاں اور چھوٹے آبادکاری مراکز منظور کیے ہیں، جو اکثر تشدد کے اڈے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور ہزاروں فلسطینیوں کو بے گھر کر چکے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ بستیوں کی اس حکمتِ عملی کے ذریعے وہ مغربی کنارے کے مرکز میں فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا چاہتی ہے، جو دو ریاستی حل کا بنیادی مقصد ہے جسے عالمی طاقتیں طویل عرصے سے حمایت دیتی آئی ہیں۔
دنیا کی اکثریت اسرائیل کی تمام آبادکاری سرگرمیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتی ہے۔ اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔ فلسطینی کہتے ہیں کہ جب وہ اسرائیلی پولیس یا فوج کو بلاتے ہیں تو وہ یا تو دیر سے پہنچتے ہیں، یا آبادکاروں کی مدد کرتے ہیں۔ فوج اس الزام کی تردید کرتی ہے۔
علوان نے کہا کہ ’فوج ان کی حفاظت کرتی ہے اور انہیں نہیں روکتی۔ ہم فوج کو بلاتے ہیں۔ ہم پولیس کو بلاتے ہیں۔ سب بے کار ہے۔‘
اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ تصادم کو ختم کرنے کے لیے دستے بھیجتی ہے، مگر مغربی کنارے میں اسرائیلی شہریوں کے اقدامات کی ذمہ داری پولیس پر ہے۔ پولیس نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

علوان اور دیگر رہائشیوں نے کہا کہ زیادہ تر آبادکار جو ان کے قصبے پر حملے کرتے ہیں، اردگرد کی چھ بستیوں سے آتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

سرچ لائٹس اور واٹس ایپ گروپس
26  جون کو جب کچھ مرد سنجیل کی پہاڑی پر آگ کے گرد جمع تھے، ان میں سے ایک نے آبادکاروں کو دیکھنے کے لیے سرچ لائٹ استعمال کی۔ دیگر قصبے کے گرد گشت کر رہے تھے، سب کمیونٹی واٹس ایپ گروپس سے جڑے تھے جہاں رہائشی ممکنہ حملوں کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ مغربی کنارے کے دیگر قصبوں میں بھی ایسے گروپ ہیں، مگر سنجیل کے گشت غیر معمولی طور پر منظم دکھائی دیتے ہیں۔
علوان نے کہا کہ ’اگر وہ گھروں کے قریب آ جائیں تو ہم ان کا سامنا کرتے ہیں، اور واٹس ایپ گروپس پر پیغام بھیجتے ہیں۔‘
چند دن پہلے علوان کو ایک آبادکار نے دن کے وقت گندم کاٹتے ہوئے کیل دار ڈنڈے سے مارا۔ اس نے اپنی قمیض اٹھا کر تازہ زخم دکھایا۔ اس نے بتایا کہ پچھلے سال آبادکاروں نے رضاکاروں کے لگائے گئے خیمے پر گولیاں چلائیں، مگر خوش قسمتی سے اندر موجود نوجوان بچ گئے۔ اگلے دن فوج آئی اور خیمہ ہٹا دیا۔
علوان اور دیگر رہائشیوں نے کہا کہ زیادہ تر آبادکار جو ان کے قصبے پر حملے کرتے ہیں، اردگرد کی چھ بستیوں سے آتے ہیں۔
مقامی حل
سنجیل رام اللہ اور نابلس کے درمیان مرکزی سڑک پر واقع ہے اور اس کے شمالی پہاڑ بستیوں اور چھوٹے مراکز سے بھرے ہیں۔ مقامی حکام کہتے ہیں کہ اسرائیلی فوج نے قصبے کے پانچ میں سے چار داخلی راستے بند کر دیے ہیں اور دو ہزار ایکڑ نجی زمین سے قصبے کو کاٹنے کے لیے دھاتی دیوار بنا دی ہے۔

میئر نے کہا کہ اکتوبر 2023 سے آبادکاروں کے حملوں میں دو افراد مارے گئے (فوٹو: اے ایف پی)

سنجیل کے میئر معتص طوافشہ نے کہا کہ اکتوبر 2023 میں غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد آبادکاروں کے حملے بڑھ گئے اور قصبے کو اپنی حفاظت کا راستہ تلاش کرنا پڑا۔ ’ہم واقعی محسوس کرتے ہیں کہ ہم اجتماعی جیل میں رہ رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2023 سے آبادکاروں کے حملوں میں دو افراد مارے گئے اور 100 سے زیادہ بدو فلسطینی بے گھر ہوئے۔ مزید 20 خاندانوں کو بھی اپنے گھروں سے نکلنا پڑا۔
مدد کی پکار
کچھ رہائشی اپنی بقا کا سہرا کمیونٹی کے تحفظ کو دیتے ہیں۔ جب آبادکاروں نے دو سال پہلے اس کی کھڑکی سے مولوتوف بم پھینکا تھا تو عابد فقہا نے اپنے گھر کی کھڑکیوں پر لوہے کی سلاخیں لگائیں اور باغ کے گرد اونچی باڑ بنائی۔ انہوں نے کہا کہ ’آگ بھڑک اٹھی اور ہم اسے قابو نہ کر سکے۔ ہم نے گھر بچانے کی کوشش کی، مگر سب دھوئیں سے متاثر ہوئے۔‘
فقہا نے واٹس ایپ گروپ پر مدد کے لیے پیغام بھیجا۔ قصبے کے نوجوان، جنہیں ابتدا میں اسرائیلی فوج نے روکا، پہنچے اور اس کے معذور والد کو باہر نکالا۔

شیئر: