Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اُردن کی فوج کا ایران کی جانب سے داغے گئے آٹھ میزائل مار گرانے کا دعویٰ

یہ 11 جون کے بعد پہلا موقع ہے جب اُردن نے ایرانی میزائلوں کو مار گرانے کا اعلان کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اُردنی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جمعرات کے روز ایران کی جانب سے داغے گئے آٹھ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے تبادلے کے دوران اُردن میں قائم ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔
عرب نیوز کے مطابق اُردن کی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اُردن کے فضائی دفاعی نظام نے آج جمعرات کے روز ایران سے اُردنی حدود کی جانب داغے گئے آٹھ میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا۔
اِدھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ’مغربی ایشیا میں امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور اُردن کے علاقے الازرق میں دشمن کے فضائی اڈے کو 10 بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دہشت گرد امریکی فوج نے اگر اپنی جارحیت دہرائی تو خطے میں موجود دیگر امریکی اڈے بھی ہماری شدید گولہ باری سے محفوظ نہیں رہیں گے۔‘
یہ میزائل حملے امریکہ اور ایران کے درمیان مسلسل دوسرے روز بھی جاری کارروائیوں کے سلسلے کا حصہ ہیں، جن میں ایران پر امریکہ کے متعدد حملے بھی شامل ہیں۔ یہ صورتِ حال دونوں ملکوں کے درمیان قائم نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال رہی ہے جبکہ دونوں فریق آبنائے ہرمز جیسے سٹریٹجک مقام پر برتری کی کشمکش میں مصروف ہیں۔
اُردن کی فوج نے بتایا کہ میزائلوں کو تباہ کرنے کے نتیجے میں کچھ ملبہ زمین پر گرا، تاہم کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ فوج نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ’کسی بھی فریق کو اُردن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گی۔‘
اس سے قبل اُردن کے سرکاری ترجمان محمد المومنی نے کہا تھا کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد سائرن بجائے گئے، کیونکہ ’ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو بروقت روکا اور تباہ کیا گیا۔‘

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اُردن میں دشمن کے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا (فوٹو: روئٹرز)

یہ 11 جون کے بعد پہلا موقع ہے جب اُردن نے ایرانی میزائلوں کو مار گرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل اُردنی فوج نے اُس وقت 20 میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جب پاسدارانِ انقلاب نے ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں اُردن میں ایک امریکی کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
الازرق کے علاقہ میں ایک اُردنی فضائی اڈہ قائم ہے جہاں سے ماضی میں امریکہ، جرمنی، بیلجیئم اور فرانس کی افواج داعش کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں آپریشن کرتی رہی ہیں۔
اُردن کا مؤقف ہے کہ اُس کی سرزمین پر کوئی غیر ملکی فوجی اڈہ موجود نہیں، تاہم مختلف ممالک کی افواج کی محدود تعداد تعاون اور تربیتی معاہدوں کے تحت اُردنی فوجی اڈوں پر تعینات ہیں۔
اپریل کے آغاز میں اُردنی فوج نے اعلان کیا تھا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے اب تک ایران کی جانب سے 281 میزائل اور ڈرون اُردن کو نشانہ بنا چکے ہیں، جن میں سے 261 کو مار گرایا گیا۔
حکام کے مطابق ان حملوں میں 30 افراد زخمی ہوئے، جنہیں بعد ازاں ہسپتالوں سے ڈسچارج کر دیا گیا۔

شیئر: