نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کے پیش نظر گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے مختلف پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (جی ایل او ایف)، اچانک سیلاب اور ندی نالوں میں طغیانی کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
جمعے کو این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 11 سے 13 جولائی کے دوران شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ10 سے 14 جولائی تک گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں
بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ موسمی صورتحال این ای او سی کے پیشگی موسمی جائزے کے مطابق ہے اور ممکنہ خطرات کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو بروقت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بارشوں کے باعث گلیشیائی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، ملبے کے بہاؤ، مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور کٹاؤ کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ادارے نے سوات، اشکومان، ہنارچی، ترسات، ہنڈور، التر، اویر، چینٹر، گوپس، یاسین، روشن، ہاکیس، چتیبوئی، ٹھلو ون اور ٹو، ریشون، بریپ، بونی، سردار گول، پنڈورو چاٹ، خپلو، ہسپر، ہپر، غلکن، گلتنگ اور گرد و نواح کے علاقوں کو گلیشیائی جھیلوں سے پیدا ہونے والے سیلاب کے حوالے سے حساس قرار دیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان، کشمیر، مری، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور شاہراہ قراقرم پر لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح جگلوٹ۔سکردو روڈ، ہنزہ۔گوجال روڈ، گلگت۔غذر روڈ اور نلتر، بگروٹ اور ہرموش جانے والے راستے بھی لینڈ سلائیڈنگ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
بیان کے مطابق مقامی انتظامیہ کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھنے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مؤثر بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری پہاڑی سفر سے گریز کرنے، لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے والے راستوں پر انتہائی احتیاط برتنے، گلیشیائی علاقوں، ندی نالوں اور سیلابی گزرگاہوں سے دور رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔













