Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کا ایران پر نئے حملوں کا حکم، ’باز نہ آنے پر مزید بُرا ہو گا‘

آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکہ نے بدھ کو ایران پر نئے حملے شروع کیے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید حملوں کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے بحری جہازوں پر حملے جاری رکھے تو اسے ’بدترین صورت حال‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا ساحلی علاقے سمیت متعدد مقامات پر دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کا کہنا ہے کہ کیس جزیرے پر طیاروں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ بندر عباس، کونارک اور چاہ بہار کے ساحلی شہروں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد کئی مقامات پر بجلی بند ہو گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ ایران کی جانب سے کل بحری جہازوں پر بمباری کا بدلہ تھا۔ اگر ایسا پھر ہوا تو اس کے لیے مزید برا ہو گا۔‘
تہران کے خلاف جوابی کارروائی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یہ تازہ فوجی جھڑپ جلد ختم ہو جائے گی اور مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے خطرہ بننے کی ایرانی فورسز کی صلاحیت کو کم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’امریکہ جہاز رانی کے خلاف حالیہ بلاجواز حملوں پر ایران کو جواب دہ ٹھہرا رہا ہے۔‘
’حملہ کرو گے تو حملہ کریں گے‘
ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو صرف ایران کے زیرانتظام ہی کھولا جائے گا۔‘
محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو ایکس پر بیان میں کہا کہ ’امریکہ یہ بات ابھی تک نہیں سیکھ پایا کہ غنڈہ گردی اور وعدوں کو توڑنے کے نتائج سامنے آئیں گے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’اگر آپ حملہ کریں گے تو جواباً حملہ کیا جائے گا۔‘
خیال رہے امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد چند گھنٹے بعد بدھ کی صبح ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا تھا۔
اس نئی پیش رفت نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے عبوری معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اس نئی صورت حال نے ان مذاکرات کو یقینی طور پر مشکل میں ڈال دیا ہے جن کا مقصد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا، تہران کے متنازع جوہری پروگرام کو رول بیک کرنا اور 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے تک پہنچنا تھا۔

 

شیئر: