Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی افواج نے ایران کے خلاف تازہ فضائی کارروائی مکمل کر لی

 امریکی سینٹرل کمانڈ  نے اعلان کیا کہ اس نے فضائی حملوں کا اپنا تازہ سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔
جمعرات کی علی الصبح امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے اثاثے، میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہیں، بحری صلاحیتیں اور ایران کے ساحلی علاقوں میں واقع فوجی لاجسٹکس کا بنیادی ڈھانچہ شامل تھا۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے رابطہ کیا ہے اور وہ ’معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔‘
امریکی خبررساں ادارے ایکسیوس  کے رپورٹر باراک راود کے مطابق امریکی فوج نے بدھ کے روز ہونے والے حملوں کے دوران کروز میزائلوں سے شمالی ایران میں ریلوے کے دو پلوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کے بقول 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد ایران کے بنیادی ڈھانچے پر یہ پہلا حملہ ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق امریکی حملوں کے بعد تہران اور مشہد کے درمیان ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب چند گھنٹوں بعد ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین ہونا تھی۔
’باز نہ آنے پر مزید بُرا ہو گا‘
اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید حملوں کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا تھا  کہ اگر تہران نے بحری جہازوں پر حملے جاری رکھے تو اسے ’بدترین صورت حال‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب کویت اور بحرین کے دفاعی نظام متحرک ہونے اور دھماکوں سنے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کا کہنا ہے کہ کیش جزیرے پر طیاروں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ بندر عباس، کونارک اور چاہ بہار کے ساحلی شہروں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد کئی مقامات پر بجلی بند ہو گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ ایران کی جانب سے کل بحری جہازوں پر بمباری کا بدلہ تھا۔ اگر ایسا پھر ہوا تو اس کے لیے مزید برا ہو گا۔‘
تہران کے خلاف جوابی کارروائی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یہ تازہ فوجی جھڑپ جلد ختم ہو جائے گی اور مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے خطرہ بننے کی ایرانی فورسز کی صلاحیت کو کم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’امریکہ جہاز رانی کے خلاف حالیہ بلاجواز حملوں پر ایران کو جواب دہ ٹھہرا رہا ہے۔‘

’حملہ کرو گے تو حملہ کریں گے‘

ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو صرف ایران کے زیرانتظام ہی کھولا جائے گا۔‘
محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو ایکس پر بیان میں کہا کہ ’امریکہ یہ بات ابھی تک نہیں سیکھ پایا کہ غنڈہ گردی اور وعدوں کو توڑنے کے نتائج سامنے آئیں گے۔‘

آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکہ نے بدھ کی صبح ایران پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا (فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے واضح کیا کہ ’اگر آپ حملہ کریں گے تو جواباً حملہ کیا جائے گا۔‘

’ایران معاہدے کے لیے بے چین ہے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو رات گئے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ایران نے تھوڑی دیر قبل رابطہ کیا ہے اور وہ معاہدے کے لیے بے چین ہے۔‘
انہوں نے رابطے کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں کہ لائن پر کون تھا، تاہم انہوں نے ایرانیوں کو ’دیوانوں کی ایک قسم‘ قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ معاہدے پر شکوک کا اظہار بھی کیا۔

کویت اور بحرین کے دفاعی نظام متحرک

کویت اور بحرین کے حکام نے جمعرات کی صبح کہا ہے ان کے دفاعی نظام ’دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں‘ سے نمٹ رہے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ حملے ایران کی اس دھمکی کے بعد سامنے آئے ہیں جو اس نے نئے امریکی حملوں کا بدلہ لینے کے لیے دی تھی۔

جمعرات کی صبح کویت اور بحرین کے حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ دفاعی نظام ’دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں‘ کا مقابلہ کر رہے ہیں (فوٹو: ایکس، سینٹ کام)

 کویتی فوج کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق ’فوج کے جنرل سٹاف کا کہنا ہے دھماکوں کی آواز دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو روکنے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔‘
بیان میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔
اسی طرح اے ایف پی کا کہنا ہے کہ بحرین میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ اس سے تھوڑی دیر قبل فضائی حملوں کے سائرن بھی بجے تھے۔
قطر میں بھی الرٹ جاری کیا گیا تاہم بعدازاں قطر نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری کیے گئے بیان میں وزارت داخلہ نے ’خطرے کے خاتمے‘ کا اعلان کیا۔
خیال رہے امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد چند گھنٹے بعد بدھ کی صبح ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا تھا۔
اس نئی پیش رفت نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے عبوری معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اس نئی صورت حال نے ان مذاکرات کو یقینی طور پر مشکل میں ڈال دیا ہے جن کا مقصد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا، تہران کے متنازع جوہری پروگرام کو رول بیک کرنا اور 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے تک پہنچنا تھا۔ 

شیئر: