Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ابنِ بطوطہ اور دیگر مصنفین نے صدیوں پر محیط سفرِ حج کو اپنی تحریروں میں کیسے امر کیا؟

پرانے زمانے میں، سر زمینِ حجاز کی طرف جانا اِتنا آسان نہیں ہُوا کرتا تھا (فوٹو: خلیلی کلیکشن)
صدیوں سے سفرِ حج ایک ایسا سفر رہا ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اِس سفر میں سڑکوں کی طویل مسافتوں کی نہ ختم ہونے والی مشکلات اور منزلِ مقصود پر پہنچنے کی روحانی آرزو کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے۔
ماضی میں عازمین حج کے کاروان جو اِس روحانی سفر پر نکلا کرتے تھے، انسانی جذبے اور مذہب سے والہانہ وابستگی کی بے مثال تصویر کشی کرتے رہے ہیں۔ ان منظروں کو اُن مسافروں اور تاریخ دانوں نے بہت تفصیل سے بیان کیا ہے جن کی کتابیں اور مطبوعات آج اعلٰی پائے کا ایسا اہم تاریخی ریکارڈ سمجھا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس مقدس سفر کے اندر مختلف زمانوں میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں جنھوں نے اِسے خوب سے خوب تر بنا دیا۔
آبی گزر گاہیں ہوں یا صحرا کی وسیع اور دشوار گزار راہیں، حج کے روحانی سفر کی کہانی حیرت انگیز طور پر اپنی تمام تر تفصیل کے ساتھ مسلسل قلم بند ہوتی رہی ہے۔ اِس تفصیل نے بعد میں آنے والی نسلِ انسانی کے لیے صدیوں پر محیط مسلمانوں کی وحدت اور مناسک کی عظمت کی ایک جیتی جاگتی تصویر چھوڑی ہے۔
پرانے زمانے میں، سر زمینِ حجاز کی طرف جانا اِتنا آسان نہیں ہُوا کرتا تھا۔ اِس سفر کو طے کرتے کرتے مہینے گزر جایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی تو یہ دورانیہ بڑھ کر ایک سال تک طول پکڑ جاتا۔ علاوہ بریں، عازمینِ حج کو سڑکوں کی مشکلات بھی جھیلنی پڑتیں، موسموں کی بے اعتباریوں سے بھی سابقہ پڑتا اور سمندر و صحرا کا گزر بھی صعوبتوں سے مبرٰیٰ نہیں ہوتا تھا۔
عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فواز الدھاس نے جو مکہ ہسٹری سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں، بتایا کہ حکمرانوں اور سلطانوں نے کس طرح اِس سفرِ حج کے راستوں کو نئی شکل دی ہے۔
اِن سب میں خلیفہ ہارون الرشید کا مرتبہ بہت اہم سمجھا جاتا ہے جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ خود کئی بار بغداد سے بیت اللہ کو گئے۔ ایک اور اہم نام (مصر و شام کے مملوک سلطان) الظاہر بیبرس کا ہے جنھوں نے حج کے راستوں پر رسد کے لیے چوکیاں بنوائیں اور دمشق اور قاہرہ سے چلنے والے عازمین کے کاروانوں کی حفاظت کے انتظامات کیے۔
الدھاس کے مطابق اِس سے واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی اسلامی ریاستوں نے حج کے مقدس سفر کی حفاظت اور اِسے منظم رکھنے کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔
سفرِ حج کے تاریخی راستے جن میں عراق اور مصر سے آنے والی سڑک پر درب الزبیدہ کو خاص تاریخی اہمیت حاصل ہے، چھوٹے چھوٹےگاؤں اور قریوں کے وجود میں آنے کا مرکزی سبب بنے۔
یہی راستے بعد میں ملکوں کے مابین تجارت اور ثقافت کے تبادلوں کی شاہراؤں میں تبدیل ہوگئے جنھوں نے اسلامی دنیا کے ہر کونے کو آپس میں ملا دیا۔
الدھاس نے بتایا کہ یہ حج ہی کا سفر تھا جس نے واضح کیا کہ اسلامی تہذیب نے کتنی وسیع سطح پر عازمینِ حج اور حج کے راستوں کو بہتر بنانے اور اِن کا خیال رکھنے کے لیے دل کھول کر دولت کا استعمال کیا۔
پانی کے ذخائر اور کنوئیں کھودے گئے، کارواں سرائے اور آرام گاہیں تعمیر کی گئیں، حفاظتی اقدامات کیے گئے اور طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ یہ سب اصل میں ہجوم کے منظم بندوبست کا ایک ابتدائی خاکہ تھا۔
بقول الدھاس کے حجاج کے سفر کی مطبوعات اصل میں اپنے آپ میں تہذیبی آرکائیو کا درجہ رکھتی ہیں۔
انھوں نے بتایاکہ عبدالغنی النابلسی کی تحریریں جنھوں نے عازمینِ حج کے  باہم ملنے اور ثقافتی تبادلوں کا ریکارڈ اکٹھا کیا ہے، ایک لحاظ سے صدیوں پہلے، دورِ جدید کی عالمی کانفرنسوں کے موضوعات کو قبل از وقت تصور میں لے آنے کا ایک مظہر ہیں۔
حج کی مطبوعہ وراثت کئی اہم اور بڑی بڑی کتابوں کا فخر ہونے پر ناز کر سکتی ہے۔ اِن میں ’فی منزلِ الوحی‘، ’دا روڈ ٹُو مکہ‘ اور ’ٹُو دا لینڈ آف پروفٹ ہُڈ‘ جیسی قیمتی کتابیں ہیں جنھوں نے حجاج کے روحانی اور انسانی تجربات کو مختلف ادبی اور فکری انداز میں ملخص کیا ہے۔
قطعِ نظر اس کے کہ اِن میں صدیوں کا فاصلہ کتنا ہے اور زبانوں کا فرق کس قدر ہے، یہ تحریریں اور اِن کے موضوعات آج بھی باقی ہیں۔ تحقیق کار کہتے ہیں کہ حج اور اِس کے سفر کی ارتقائی منازل کے بارے میں یہ معلومات کا ایک جیتا جاگتا رجسٹر ہے۔
محقق اور تاریخ دان سعد الجودی نے عرب نیوز کو بتایا کہ حج مکمل طور پر ایک تہذیبی ایونٹ تھا۔ ’ایک ایسا ایونٹ جس کی مدد سے مسلم حیات کا دستاویزی اندارج ہُوا جس کے ذریعے مختلف زمانوں میں معاشروں کی قسمتوں کی تبدیلی کی وجوہات کا سراغ مل جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ حج کے بیشتر سفر نامے اسلامی معاشروں کے مزاج اور بُنت کو سمجھنے کے لیے آج ایک ناگزیر تاریخی وسیلہ ہیں۔
سعد الجودی کا کہنا ہے کہ ابو جبیر نے اندلس سے حجاز کے سفر کا انتہائی غیرمعمولی احوال بیان کیا ہے جس میں اسکندریہ تک سمندری سفر کا ریکارڈ بھی ہے اور پھر مکہ کے زمینی سفر کا تذکرہ بھی۔
ابو جبیر نے احرام، طواف، سعی اور میدانِ عرفات میں رُکنے اور پھر جمرات کو کنکریاں مارنے کا بیان ایسے کیا ہے جس میں درست تاریخ کے ساتھ ساتھ گہری روحانی سوچ بچار کی جھلک بھی پائی جاتی ہے۔
ابنِ بطوطہ کی تحریریں حج کے سفر کے بارے میں ایک اور منظر دکھاتی ہیں جہاں رسد کے سٹیشنوں، عارضی بازاروں، طبیبوں، اور حجاج کے راستوں پر لگائے گئے خیموں کا پتہ چلتا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ اسلامی یگانگت کے وہ مناظر بھی نگاہ کے سامنے آ جاتے ہیں جہاں ابنِ بطوطہ ہر نسل اور ہر زبان کے حجاج کے شانہ بشانہ رہے۔
سعد الجودی کے مطابق ایسے ہی سفرناموں میں حجاج کے انسانی اور سماجی پہلوؤں کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔

شیئر: