Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جدہ کیسے عازمینِ حج کے استقبال کا پہلا مرکز بنا؟

عازمین کی سہولت کے لیے سعودی حکومت نے ہر دور میں ترقیاتی کام کیے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
اپنی پوری تاریخ میں جدہ شہر نے سمندری، فضائی یا زمینی راستوں سے مکہ کے مقدس شہر میں آنے والے زائرین کے لیے آنے جانے کے ایک بڑے راستے کا کام کیا ہے۔
حج کے زمانے میں عازمین کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا تھا جس کی وجہ سے کئی چیلنجز سامنے آتے تھے جن میں شہر میں اُن کی رہائش کا بندوبست، خدمات کی فراہمی اور صحت و ماحول کا انتظام شامل تھا۔
اس بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے شاہ عبدالعزیز اینڈاؤمنٹ سے ملحقہ ’پِلگِرم سِٹیز‘ کے قیام کا انیشیٹیو سامنے آیا۔ یہ مملکت کی طرف سے حجاج کی خدمت کو باقاعدہ اور منظم کرنے کی ابتدائی کوششوں میں سب سے نمایاں منصوبہ تھا۔ اس کا مقصد حجاج اور عمرہ زائرین کو ایک محفوظ اور مربوط ماحول، اُن کے قیام کو منظم کرنا اور مملکت میں آنے اور جانے میں سہولت پیدا کرنا تھا۔
سِی پِلگِرم سٹی‘ سنہ 51-1950 میں قائم کیا گیا جس کے بعد اگلے دو سے تین برس میں ’افریقن پلگرم سٹی‘ اور پرانے ائیرپورٹ کے نزدیک 1959-1958 میں ’ایئر پلگرم سٹی‘ بنایا گیا۔
یہ سہولتیں جدہ شہر میں اہم مقامات پر بنائی گئیں جن کے نزدیک شہر میں داخلے کے لیے سمندری، فضائی اور زمینی مقامات تھے جن کا مقصد ہجوم سے بچنا اور حج سیزین میں مملکت کی خدمات کی کارکردگی کو بہتر بنانا تھا۔
ان شہروں کا قیام حجاج کی خدمت کی تاریخ میں ایک انقلابی اقدام تھا جس سے شاہ عبدالعزیز کی دور اندیشی اور وژن اجاگر ہوتا ہے۔ اِس کا مقصد دنیا بھر سے آنے والے حجاج کی دیکھ بھال کا انتظام اور اُن کو دی جانے والی خدمات کے معیار کو بہتر بنانا تھا تاکہ انھیں آرام دہ سہولتیں اور صحت مند اور احترام سے بھرپور قیام کی ضمانت مل سکے۔
مشال العتیبی نے، جن کا تعلق شاہ عبدالعزیز اینڈاؤمنٹ برائے العین العزیزیہ سے ہے، عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’پلگرم سِٹیز‘، ترقی اور انسانی بنیادوں کے انیشیٹیو پر مبنی ایک انتہائی نمایاں منصوبہ تھا جس نے سعودی عرب کی خوشحالی کے زمانے میں جدہ کی ترقی اور حجاج کی خدمات کے پروگرام کو بہت فائدہ پہنچایا۔

بسیں اور دیگر گاڑیاں حجاج کو جدہ کے راستے ان کی منزل تک پہنچاتی تھیں (فوٹو: عرب نیوز)

انھوں نے کہا کہ یہ انیشیٹیو شاہ عبدالعزیز کے وژن کی تکمیل تھی جس کے تحت عازمینِ حج و عمرہ کے لیے ایک مکمل و مربوط، محفوظ اور صحت مند رہائشی ماحول کی بِنا ڈالی گئی۔ اُس زمانے میں جدہ میں بہت ہجوم ہوا کرتا تھا اور کئی عازمین کو گلیوں میں رہنا پڑتا یا شہر سے دور جانا ہوتا یا پھر ایسی رہائش گاہوں میں قیام کا موقع ملتا جو حفظانِ صحت کے لحاظ سے موزوں نہیں تھیں۔
پلگرم سٹیز‘ مرحلہ وار بنائے گئے اور جوں جوں عازمینِ حج و عمرہ کی تعداد بڑھتی گئی، اِن ’سٹیز‘ میں بھی وسعت آتی گئی۔ زائرین کو سرکاری طور پر منظور شدہ نظام کے تحت جدہ، مکہ اور مدینہ کے درمیان منتقل کیا جاتا۔ خدمات میں ضروری سامان سے آراستہ گھر، صحت کی سہولت، مسجد، بازار اور وہ حکومتی دفاتر اُن کی رہائش سے زیادہ دور نہیں ہوتے تھے جن کا تعلق حج سے تھا۔
اِن سہولتوں کے باوجود حج کے سیزن میں نظام پر بھی دباؤ آتا تھا لیکن انفراسٹرکچر کو مسلسل اپ گریڈ کر کے اور خدمات کی بہتری سے مسائل پر قابو پایا جاتا رہا۔

’سِی پِلگِرم سٹی‘ سنہ 51-1950 میں قائم کیا گیا (فوٹو: عرب نیوز)

پلگرم سٹیز‘ کے منصوبے کی وجہ سے مملکت میں حجاج کے آنے جانے کے بڑے راستے کی حیثیت میں جدہ میں واضح اور نمایاں تبدیلیاں آئیں اور حجاج کے یہاں آنے، قیام کرنے، مختلف شہروں میں داخلے اور یہاں سے واپس جانے کی سہولتوں کی نوعیت بھی تبدیل ہوئی۔ ان نئے منصوبوں سے رش بھی کم ہوا، غیر رسمی قیام گاہوں کی تعمیر بھی رکی، اور شہری اور عوامی صحت کے معیار بھی بہتر ہوئے۔
تاہم ’پلگرم سٹی پروجیکٹ‘ پر انحصار رفتہ رفتہ کم ہوتا گیا اور ذمہ داریاں حکومتی اداروں کی جانب منتقل ہوتی چلی گئیں۔ صحت، ٹرانسپورٹ اور پاسپورٹ کی اتھارٹی کے تعاون کے ساتھ نئے پروجیکٹ کی قیادت وزارتِ حج اور عمرہ کے پاس چلی گئی۔ یوں، مملکت میں ہونے والی اِس تبدیلی کے باعث حج کے انتظامات، مرکزی نظام سے وابستہ ہوگئے۔
آج کل حج انتظامات کو بہتر سے بہتر بنانے اور اِس میں آنے والے ارتقائی عمل، ’سعودی وژن 2030‘ کے اہداف سے بہت منسلک ہے جس میں ’پلگرم ایکسپیریئنس پروگرام‘ کے تحت حج اور عمرہ کو ترجیح حاصل ہے۔

جدہ شہر آنے والے زائرین کے لیے ایک بڑے راستے کا کام کیا ہے (فوٹو: عرب نیوز)

حج سیزن کے انتظام اور بندوبست اور ’سعودی وژن 2030‘ کے مقاصد کے تحت محفوظ اور کارکردگی سے بھرپور انتظام کے تحت زائرین کی تعداد کو سنہ 2030 تک مزید بڑھانا ہے۔اسی وجہ سے شاہ عبدالعزیز اینڈاؤمنٹ برائے العین العزیزیہ جیسے اداروں کا کردار محض آپریشنل نہیں بلکہ تکمیلی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
چنانچہ حج سیزن میں ایسے اداروں کی توجہ اب پانی کی فراہمی اور تقسیم، نقل وحمل میں تعاون اور فیلڈ میں خدمات فراہم کرنے جیسے انیشیٹیوز پر زیادہ ہو گئی ہے۔ اس عمل میں سرکاری ادراے اور خیراتی تنظیمیں شراکت دار ہوتی ہیں جو دراصل حجاج کی خدمات میں مربوط ادارہ جاتی تعاون کے ایک جدید ماڈل کا عکاس ہے۔

شیئر: