Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دہلی کے لاجپت نگر میں ’شاپنگ اسسٹنٹ‘ سروس پر بحث: سہولت یا استحصال؟

کمپنی نے مختلف ’شاپنگ اسسٹنس پیکجز‘ متعارف کرائے ہیں (فوٹو: کیری مین)
انڈین دارالحکومت نئی دہلی کا اپ مارکیٹ لاجپت نگر سنہ 1996 میں بم دھماکوں کی وجہ سے شہ سرخیوں میں آیا تھا لیکن اس کے کوئی 30 سال بعد وہ ایک سٹارٹ اپ کمپنی کی وجہ سے ایک بار پھر سرخیوں میں ہے جو کہ کسی طبقاتی کشمکش کے دھماکے سے کم نہیں۔
در اصل دہلی کی ایک سٹارٹ اپ کمپنی ’کیری مین‘ نے اپنے منفرد کاروباری ماڈل کے باعث سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ کمپنی خریداری کرنے والے افراد کو ’شاپنگ اسسٹنس سروس‘ فراہم کرتی ہے جس کے تحت صارفین مخصوص وقت کے لیے ایک معاون بُک کر سکتے ہیں جو ان کے شاپنگ بیگز اٹھانے، قطار میں کھڑے ہونے، میٹرو یا پارکنگ تک ساتھ جانے، اور دیگر چھوٹے کام انجام دینے کے لیے ہوتے ہیں۔
کمپنی فی الوقت دہلی کے معروف تجارتی علاقے لاجپت نگر میں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے لیکن اس کی ویب سائٹ کے مطابق کمپنی کا مقصد خریداروں کو ہجوم اور جسمانی تھکن سے بچاتے ہوئے زیادہ آرام دہ خریداری کا تجربہ فراہم کرنا ہے۔
ویب سائٹ کے اغراض و مقاصد میں بیان میں کہا گیا ہے، ’ہم صارفین کو شاپنگ بیگز اٹھانے میں مدد دیتے ہیں، بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں آسانی سے چلنے میں معاونت فراہم کرتے ہیں اور خریداری کو ذہنی و جسمانی دباؤ سے پاک بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
اس کے تحت کمپنی نے مختلف ’شاپنگ اسسٹنس پیکجز‘ متعارف کرائے ہیں، جن میں 30 منٹ سے لے کر 4 گھنٹے تک کی خدمات شامل ہیں۔ 30 منٹ کی سروس کے لیے کم از قیمت 149 روپے مقرر کی گئی ہے لیکن کمپنی کی جانب سے دی گئی رعایت کے تحت فی الحال یہ خدمت 79 روپے میں دستیاب ہے۔
کمپنی کے مطابق اس مختصر پیکج کے تحت معاون صارف کے خریداری کے بیگز اٹھاتا ہے اور انہیں بحفاظت پارکنگ ایریا یا میٹرو اسٹیشن تک پہنچاتا ہے۔
یہ سروس اس وقت عوامی توجہ کا مرکز بنی جب سوشل میڈیا پر ایک کیری مین کی تصویر وائرل ہوئی جس میں وہ ایک خاتون کے لیے شاپنگ بیگز اٹھائے نظر آیا۔
اس تصویر کے ساتھ ایک پوسٹ شیئر کی گئی جس میں لکھا تھا، ’لاجپت نگر میں اب آپ 149 روپے فی گھنٹہ دے کر کسی شخص سے اپنے بیگ اٹھوا سکتے ہیں، کھانے کی قطار میں کھڑا کر سکتے ہیں، میٹرو تک ساتھ لے جا سکتے ہیں، بیٹھنے کی جگہ ڈھونڈ سکتے ہیں، اور یہاں تک کہ فولڈنگ چیئر بھی لگوا سکتے ہیں۔ دلچسپ کاروبار!‘
یہ پوسٹ دیکھتے ہی سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ کئی صارفین نے اس سروس کو طبقاتی تفریق اور سستی مزدوری کے استحصال کی علامت قرار دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے لکھا: ’یہ مراعات یافتہ طبقے کا نیا طرزِ زندگی ہے۔ لوگ نہ کھانا بنا سکتے ہیں، نہ صفائی کر سکتے ہیں، نہ بچوں کو سنبھال سکتے ہیں، نہ اپنے کتے ٹہلا سکتے ہیں اور اب خریداری کے تھیلے بھی خود نہیں اٹھا سکتے۔ انڈیا میں سستی لیبر نے ایک ایسا طبقہ پیدا کر دیا ہے جو بنیادی زندگی کی صلاحیتوں سے محروم ہو چکا ہے۔‘
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا: ’گِگ اکانومی ایک ہی خیال کو نئے انداز میں پیش کر رہی ہے۔ نوجوانوں سے نان پروڈکٹیو مزدوری کروائی جا رہی ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقے کو ایک مصنوعی برتری کا احساس دلایا جا رہا ہے۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ اس میں صرف مرد ہی کیوں ہیں خواتین کیوں نہیں۔ ہر بات میں برابری کی بات کرنے والی خواتین اس بارے میں خاموش کیوں ہیں؟
دی ہندو ستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسی بحث میں یونیورسٹی آف واروک کے شعبۂ معاشیات سے وابستہ پروفیسر اننت سودرشن نے اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا: ’اس ملازمت کا وجود ہی اپنے آپ میں انڈین معیشت اور ’ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ‘ پر بڑا تبصرہ ہے۔‘
تاہم سوشل میڈیا پر بہت سے افراد نے کمپنی کے تصور کی حمایت بھی کی ہے۔ ان کے مطابق یہ سروس معمر افراد، جسمانی معذوری کے شکار لوگوں، حاملہ خواتین، یا صحت کے مسائل رکھنے والے شہریوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ’پرسنل اسسٹنس’ اور ’کنسیئرج‘ خدمات پہلے سے موجود ہیں، جبکہ انڈیا میں بھی شہری زندگی کے بدلتے تقاضوں کے تحت ایسی سہولیات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ’کیری مین‘ جیسے کاروبار دراصل انڈیا میں تیزی سے پھیلتی ’گیگ اکانومی‘ کا حصہ ہیں، جہاں نوجوان مختصر مدتی یا فری لانس بنیادوں پر خدمات فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں فوڈ ڈیلیوری، بائیک ٹیکسی، اور ہوم سروسز کے بعد اب ذاتی معاونت کی خدمات بھی اسی معیشت کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
اگرچہ ناقدین اسے سماج میں پھیلی نابرابری کی علامت قرار دے رہے ہیں مگر حامیوں کے نزدیک یہ ایک ایسا کاروباری ماڈل ہے جو روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
کیری مین کی جانب سے اب تک سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اس بحث نے شہری زندگی، مزدوری، سہولت، اور طبقاتی فرق کے حوالے سے ایک اہم سوال ضرور اٹھا دیا ہے کہ جدید معیشت میں سہولت اور استحصال کے درمیان حد کہاں قائم ہوتی ہے۔

شیئر: