Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جب چمبل کے ڈاکوؤں نے آزادی کے رہنما جواہر لعل نہرو کو گھیر لیا

جواہر لال نہرو ایسے رہنما کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جس نے قوم کو خواب دیکھنا سکھایا: فوٹو اے ایف پی
کیا آپ کو معلوم ہے کہ انڈیا کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کو ان کے ایک جنم دن پر ایک انوکھا تحفہ پیش کیا گیا تھا۔
یہ ان کے 70ویں جنم دن کی بات ہے جب مدھیہ پردیش کی پولیس نے خونخوار ڈاکو گبر سنگھ کی موت کی خبر کو ایک دن تک روک کر رکھا تاکہ وہ نہرو کو ان کے یوم پیدائش پر خوشی کی خبر دے سکیں کہ جس ڈاکو نے ایک عرصے سے علاقے کو خوف و دہشت میں رکھا ہوا تھا وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
یہ اُن متعدد واقعات اور دلچسپ قصوں میں سے ایک ہے جن کا ذکر بارڈر سکیورٹی فورس کے بانی ڈائریکٹر جنرل کے ایف رستم جی نے اپنی سوانحی روداد ’دی برٹش، دی بینڈٹس اینڈ دی بارڈر مین‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب میں کیا ہے۔
رستم جی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’14 نومبر 1959 کو نہرو کی 70ویں سالگرہ بڑے شان و شوکت سے منائی گئی۔ جب میں دہلی میں ان سے ملا تو میں سوچ رہا تھا کہ میں، جو چھ برس تک ان کا چیف سکیورٹی آفیسر رہ چکا تھا اور اب مدھیہ پردیش پولیس کا سربراہ تھا، انہیں کیا تحفہ پیش کروں۔۔۔ اس سے ایک روز قبل، یعنی 13 نومبر کو، بھنڈ ضلع میں گبر سنگھ اور اس کے گروہ کو ایک بڑے خونریز مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ میں نے یہ خبر نہرو کو سنائی اور یہی وہ تحفہ تھا جو مدھیہ پردیش پولیس نے انہیں پیش کیا۔ وہ یہ سن کر خوش دکھائی دیے۔‘
لیکن آج ہم یہاں گبر سنگھ یا نہرو کے جنم دن کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان کی چمبل کے ڈاکوؤں سے آمنے سامنے اس وقت مڈبھیڑ ہوئی جب ڈاکوؤں نے ان کی جیپ کو کسی ڈھنا سیٹھ کی گاڑی سمجھ کر گھیر لیا۔
واضح رہے کہ 27 مئی 1964 کو جب پنڈت جواہر لال نہرو اس دنیا سے رخصت ہوئے تو یہ صرف ایک وزیر اعظم کی وفات نہیں تھی بلکہ ایک ایسے عہد کا اختتام ہوا تھا جس نے جدید انڈیا کی بنیاد رکھی۔
نہرو آزاد انڈیا کے پہلے وزیر اعظم تھے، مگر ان کی شناخت صرف اقتدار تک محدود نہیں تھی۔ وہ ایک خواب دیکھنے والے رہنما تھے، ایک ایسے انڈیا کا خواب جو تعلیم، سائنس، جمہوریت اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھے۔

لوگ حیرت سے ایک دوسرے کو بتاتے کہ چمبل کے ڈاکوؤں نے نہرو کو لوٹنے کے بجائے انہیں چندہ دیا: چمبل کی ایک تصویر بشکریہ وکی پیڈیا

نہرو نے آزادی کے بعد جس خستہ حال ملک کی باگ ڈور سنبھالی، اس کی حالت انتہائی دشوار تھی۔ ملک آزاد تو ہو گیا تھا لیکن اس کے پاس نہ مضبوط معیشت تھی، نہ صنعت، نہ مناسب غذائی ذخائر۔ تقسیم ہند کے زخم تازہ تھے، لاکھوں لوگ بے گھر تھے، غربت اور بے روزگاری عام تھی۔ ایسے نازک وقت میں نہرو نے قوم کو صرف حوصلہ ہی نہیں دیا بلکہ ایک سمت بھی دی۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ قوموں کی تعمیر صرف سیاست سے نہیں بلکہ علم، تحقیق اور عوامی شعور سے ہوتی ہے۔
اسی عوامی رابطے اور جدوجہد کی ایک دلچسپ جھلک آج سے کوئی 90 سال قبل سنہ 1937 کے ایک واقعے میں نظر آتی ہے، جب ہندوستان ابھی برطانوی غلامی میں تھا اور نہرو آزادی کی تحریک کے سلسلے میں ملک کے مختلف حصوں کا طوفانی دورہ کر رہے تھے۔
ان دنوں چمبل کا علاقہ اپنے خطرناک بیہڑوں اور ڈاکوؤں کی وجہ سے بدنام تھا اور آزادی کے بعد بھی اس کی دہشت میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ شام ڈھل رہی تھی اور نہرو اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ جیپ میں سفر کرتے ہوئے چمبل کے راستے سے گزر رہے تھے۔ اچانک سنسان راستے پر چند مسلح افراد نمودار ہوئے اور انہوں نے جیپ روک لی۔ وہ سب چمبل کے ڈاکو تھے۔
جیپ اُس زمانے میں مال و دولت اور رعب و تمکنت کی علامت سمجھی جاتی تھی، اس لیے ڈاکوؤں کو یقین تھا کہ کوئی بڑا مالدار سیٹھ ان کے ہاتھ لگا ہے۔ انڈیا ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آٹھ دس ڈاکو گاڑی کے گرد جمع ہوگئے۔ جھاڑیوں کے پیچھے سے ایک بھاری آواز گونجی:
’کون ہے؟‘
ایک ڈاکو نے جواب دیا: ’لگتا ہے کوئی بڑا سیٹھ ہے۔‘
جیپ میں بیٹھے لوگ صورتحال کی سنگینی سمجھ چکے تھے، مگر نہرو کے چہرے پر گھبراہٹ کا کوئی نشان نہ تھا۔ وہ آہستہ سے گاڑی سے اترے اور سیدھے ڈاکوؤں کے سردار کی طرف بڑھ گئے۔ اور انہوں نے پیچھے بیٹھے ڈاکوؤں کے سردار سے کہا: ’میں جواہر لال نہرو ہوں۔‘
دی نہرو آرکائیو کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ سنتے ہی جیسے پورا ماحول ساکت ہو گیا۔ چند لمحے پہلے جن آنکھوں میں لالچ چمک رہی تھی، ان میں اب حیرت اور شرمندگی تھی۔ آزادی کی تحریک اُس وقت پورے ملک میں ایک جذبے کی شکل اختیار کرچکی تھی اور نہرو کا نام گاؤں گاؤں میں جانا جاتا تھا۔
نہرو نے مسکراتے ہوئے کہا: ’جلدی بتائیے، ہمیں کیا کرنا ہے کیونکہ ہمیں ابھی بہت دور جانا ہے۔‘
ڈاکوؤں کا سردار کچھ لمحے خاموش رہا، پھر اس نے اپنے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا، مٹھی بھر نوٹ نکالے اور نہرو کی طرف بڑھا دیے۔
اس کے ساتھ اس نے کہا: ’آپ کا نام بہت سنا تھا، آج درشن (دیدار) بھی ہوگیا۔ سوراج کے کام کے لیے ہماری یہ چھوٹی سی بھینٹ (نذر) قبول کیجیے۔‘

نہرو آزاد انڈیا کے پہلے وزیر اعظم تھے، مگر ان کی شناخت صرف اقتدار تک محدود نہیں تھی: فوٹو گیٹی امیجز

یہ منظر شاید اتنا ہی غیر متوقع تھا جتنا ناقابل یقین۔ چمبل کے بیہڑوں میں رہنے والے وہ لوگ، جنہیں سماج صرف ڈاکو کہتا تھا، آزادی کی تحریک سے اس قدر متاثر تھے کہ ملک کی آزادی کے لیے اپنی جمع پونجی پیش کر رہے تھے۔
اس واقعے کی خبر جلد ہی پورے علاقے میں پھیل گئی۔ لوگ حیرت سے ایک دوسرے کو بتاتے کہ چمبل کے ڈاکوؤں نے نہرو کو لوٹنے کے بجائے انہیں چندہ دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ قصہ تاریخ کے اوراق میں ایک دلچسپ یادگار بن گیا۔
یہ واقعہ صرف ایک سنسنی خیز داستان نہیں بلکہ اُس دور کے انڈیا کی روح کو بھی بیان کرتا ہے۔ وہ وقت جب آزادی ایک مشترکہ خواب تھا، جب ایک قومی تحریک نے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا، حتیٰ کہ بیہڑوں میں رہنے والے باغی بھی اس جذبے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جواہر لال نہرو آج بھی انڈیا کی تاریخ میں صرف ایک سیاست دان کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جس نے قوم کو خواب دیکھنا سکھایا۔

شیئر: