امریکہ کا غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے لیے ویزا قوانین سخت کرنے کا اعلان
امریکہ کا غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے لیے ویزا قوانین سخت کرنے کا اعلان
جمعرات 16 جولائی 2026 20:32
موجودہ حکومت نے یونیورسٹی طلبہ کے عقائد و نظریات کی بنیاد پر اُن کے ویزے اور گرین کارڈز منسوخ کیے (فوٹو: روئٹڑز)
امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے جمعرات کو غیر ملکی طالب علموں، کلچرل ایکسچینج پروگراموں کے شرکا اور صحافیوں کے ویزوں کی مدت کو مزید محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری کردہ نئے حتمی ضابطے کے تحت بین الاقوامی طلبہ کے لیے ایف ویزا، کلچرل ایکسچینج پروگراموں کے تحت امریکہ میں کام کرنے کی اجازت دینے والے جے ویزا، اور میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے آئی ویزا کے لیے ایک مقررہ مدت متعین کر دی گئی ہے۔
اس وقت یہ ویزے امریکہ میں متعلقہ پروگرام یا ملازمت کی مدت تک کارآمد رہتے ہیں۔
یہ نیا ضابطہ فیڈرل رجسٹر میں اشاعت کے 60 دن بعد نافذ العمل ہو گا تاہم اس پر کانگریس کے جائزے کا اطلاق بھی ہو گا۔
ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد امیگریشن کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا۔
ان کی انتظامیہ نے قانونی امیگریشن کی بھی جانچ پڑتال بڑھا دی ہے، یونیورسٹی طلبہ کے عقائد و نظریات کی بنیاد پر اُن کے ویزے اور گرین کارڈز منسوخ کیے گئے، جبکہ لاکھوں تارکینِ وطن کی قانونی حیثیت ختم کر دی گئی۔
اس تازہ اقدام سے بین الاقوامی طلبہ، ایکسچینج پروگرام کے کارکنوں اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے مزید رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔ نئے قواعد کے تحت طلبہ اور ایکسچینج ویزوں کی مدت زیادہ سے زیادہ چار سال ہو گی۔
صحافیوں کے لیے ویزا اب زیادہ سے زیادہ 240 دن کے لیے ہو گا، جو اس وقت کئی برس تک کارآمد رہ سکتا ہے جبکہ چینی شہریوں کے لیے یہ مدت 90 دن تک محدود ہو گی۔ بیان کے مطابق ویزا رکھنے والے افراد توسیع کے لیے درخواست دے سکیں گے۔
صحافیوں کے لیے ویزا اب زیادہ سے زیادہ 240 دن کے لیے ہوگا، جو اس وقت کئی برس تک کارآمد رہ سکتا ہے (فوٹو: روئٹرز)
چین کی وزارتِ خارجہ نے اگست میں چینی صحافیوں کے لیے مجوزہ نئے ضابطے کو امتیازی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی تھی۔ چینی سفارت خانے نے جمعرات کے روز اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
طلبہ سے متعلق نئی شرائط
ان ضوابط کے تحت گریجویٹ طلبہ کو کسی بھی مرحلے پر اپنے ’تعلیمی مقاصد‘ تبدیل کرنے یا پیشگی اجازت کے بغیر کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں منتقل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں ڈگری یا تربیت مکمل کرنے کے بعد امریکا چھوڑنے کے لیے طلبہ کو دی جانے والی مہلت 60 دن سے کم کر کے 30 دن کر دی گئی ہے۔
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں سٹوڈنٹ ویزوں کے ذریعے 18 لاکھ سے زیادہ طالب علموں نے داخلے لیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔