چین اور پاکستان کا امریکہ اور ایران پر لڑائی روک کر مذاکرات بحال کرنے پر زور
آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر امریکہ اور ایران کی کشیدگی جاری ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے جمعے کو امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ ’وہ لڑائی بند کریں اور دوبارہ مذاکرات کا آغاز کریں۔‘
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ بات شنگھائی میں ہونے والی چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہی گئی۔
چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشترکہ طور پر موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے فوری طور پر دشمنی ختم کرنے اور دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی۔‘
یاد رہے کہ دونوں ممالک کئی ماہ سے جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں، جس میں جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی معاہدے پر دستخط کے ایک ماہ بعد آبنائے ہرمز کے معاملے پر دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی۔
وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ ’یہ معاہدہ بڑی مشکل سے طے پایا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’امن ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، ہم آخری مرحلے پر آ کر ناکام نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی وہ کچھ کھو سکتے ہیں جو ہم حاصل کر چکے ہیں۔‘
ادھر دوسری جانب جمعے کو امریکہ اور ایران نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں جبکہ تہران نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں ایک ہوائی اڈہ، ایک ریلوے سٹیشن اور دو پل شامل ہیں۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں کہا ہے کہ اس نے کویت میں امریکہ کے فوجی اتحادیوں اور بنیادی ڈھانچے پر ڈرون حملے کیے ہیں۔
جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو مختصر مدت کے لیے بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا، تاہم تہران نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ’جب تک امریکہ اپنی جارحیت ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز دوبارہ بند رہے گی۔‘
دوسری جانب امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔
