فلم ’دی اوڈیسی‘ کے پریمیئر پر کرسٹوفر نولان کی اجرک ٹائی کیا کہانی سناتی ہے؟
فلم ’دی اوڈیسی‘ کے پریمیئر پر کرسٹوفر نولان کی اجرک ٹائی کیا کہانی سناتی ہے؟
جمعہ 17 جولائی 2026 10:15
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
کرسٹوفر نولان نے نیو یارک میں اپنی فلم دی اوڈیسی کے پریمیئر پر اجرک ڈیزائن کی ٹائی پہن رکھی تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ہالی وڈ کے معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولان عموماً اپنی فلموں کے ریڈ کارپٹس پر فیشن کے تجربات کرنے والوں میں شمار نہیں ہوتے۔
گہرے رنگ کے سوٹ، سفید شرٹ اور سادہ ٹائی، یہی ان کی پہچان ہے۔ مگر اس بار ان کی نئی فلم ’دی اوڈیسی‘ کے نیویارک پریمیئر میں سب کی نظریں ان کے لباس کی ایک ایسی تفصیل پر ٹھہر گئیں جس نے سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کی۔
انڈی ٹوڈے کے مطابق نولان نے اس موقع پر اجرک کے روایتی نقش و نگار سے مزین ایک خصوصی ریشمی ٹائی پہن رکھی تھی، جسے پارسنز سکول آف ڈیزائن کے طالب علم آہان ٹنڈن نے ڈیزائن کیا تھا۔
چند روز قبل ہی کرسٹوفر نولان اپنی فلم کی تشہیری مہم کے سلسلے میں ممبئی بھی گئے تھے، جہاں ان کے ساتھ فلم کے مرکزی اداکار میٹ ڈیمن اور ٹام ہالینڈ بھی موجود تھے۔ یہ نولان کی کسی فلم کا انڈیا میں پہلا باضابطہ پریمیئر تھا۔
کرسٹوفر نولان، میٹ ڈیمن اور ٹام ہالینڈ کچھ روز قبل انڈیا میں موجود تھے جہاں ان کی فلم 'دی اوڈیسی' کا پریمیئر منعقد ہوا۔ (فوٹو: یونیورسل پکچرز انڈیا)
نیویارک پریمیئر کے بعد نولان کی یہ ٹائی فیشن حلقوں میں گفتگو کا موضوع بن گئی ہے۔
پاکستانی فیشن رائٹر ماہ رخ نے بھی انسٹاگرام پر اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ’کرسٹوفر نولان بھائی جان، بڑا مزہ آ گیا! کیا یہ. اجرک ٹائی ہے؟‘
ان کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر صرف ٹائی نہیں بلکہ اجرک کی تاریخ، اس کے ثقافتی پس منظر اور اس کی عالمی اہمیت پر بھی بحث شروع ہوگئی۔
اجرک کو محض ایک خوبصورت پرنٹ سمجھنا اس کی تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ برصغیر کی قدیم ترین بلاک پرنٹنگ روایات میں شمار ہوتی ہے، جس کی جڑیں سندھ سے جڑی ہوئی ہیں، جبکہ صدیوں کے دوران یہ فن کچھ (گجرات) اور بارمیر (راجستھان) تک پھیلا، جہاں ہر علاقے نے اپنے رنگ، نقش اور انداز اس میں شامل کیے۔
آج بھی سندھ کے ہالا، بھٹ شاہ، خیرپور اور دیگر علاقوں کے ساتھ اجرک پور (کچھ) اس فن کے اہم مراکز سمجھے جاتے ہیں۔
اجرک کا مطلب کیا ہے؟
لفظ اجرک کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض محققین اسے عربی لفظ 'ازرق' سے جوڑتے ہیں، جس کے معنی نیلا ہیں، کیونکہ اجرک میں نیل کا استعمال نمایاں ہوتا ہے۔
کچھ ماہرین اسے سنسکرت کے لفظ اَجھر یا اَجر سے منسلک کرتے ہیں، جس کا مفہوم ایسی چیز ہے جو ماند نہ پڑے یا ہمیشہ قائم رہے۔
لوک روایت میں ایک دلچسپ تشریح یہ بھی ملتی ہے کہ یہ لفظ آج رکھ سے نکلا، کیونکہ اس کی تیاری کے ہر مرحلے کے بعد اگلے دن کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔
اگرچہ ان میں سے کسی ایک نظریے پر مکمل اتفاق نہیں، لیکن سب اس بات پر متفق ہیں کہ اجرک کی تاریخ کئی سو برس پر محیط ہے۔
سنہ 2016 میں لوئی ویٹون کے برینڈ شوٹ میں فرنچ اداکارہ لیا سیڈوکس بھی اجرک ڈیزائن کا لباس پہنے دکھائی دیں۔ (فوٹو: لوئی ویٹون)
صبر، محنت اور فطرت کے رنگ
اجرک کی تیاری مشین سے نہیں، انسان کے ہاتھ سے ہوتی ہے۔
سادہ کپڑے کو بار بار دھویا جاتا ہے، قدرتی اجزا سے تیار کیا جاتا ہے، پھر ہاتھ سے تراشے گئے لکڑی کے بلاکس کے ذریعے اس پر ایک ایک تہہ چھاپی جاتی ہے۔ ہر رنگ الگ مرحلے میں شامل ہوتا ہے۔ ہر بار کپڑا دھویا جاتا ہے، خشک کیا جاتا ہے اور دوبارہ پرنٹ کیا جاتا ہے۔ روایتی اجرک کی تیاری میں درجنوں مراحل شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے نمایاں رنگ بھی فطرت سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ نیل سے نیلا، مجیٹھ سے سرخ جبکہ لوہا، گڑ اور دیگر قدرتی اجزا مختلف شیڈز پیدا کرتے ہیں۔
اسی لیے اصل اجرک میں معمولی فرق اور ہلکی بے قاعدگیاں خامی نہیں بلکہ اس کی اصل خوبصورتی سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ وہ اس بات کا ثبوت ہوتی ہیں کہ یہ کپڑا کسی مشین نے نہیں بلکہ ایک ہنرمند نے اپنے ہاتھوں سے تیار کیا ہے۔
خاموش مگر باوقار فیشن
گزشتہ چند برسوں میں فیشن کی دنیا میں 'کوائٹ لگژری' کا تصور مقبول ہوا ہے، جس میں بڑے لوگوز یا نمایاں برانڈنگ کے بجائے معیار، دستکاری اور نفاست کو اہمیت دی جاتی ہے۔ نولان کی اجرک ٹائی اسی سوچ کی عکاس دکھائی دی۔
انہوں نے نہ تو چمکدار لباس پہنا اور نہ ہی کسی شوخ انداز کا انتخاب کیا، لیکن ایک روایتی دستکاری کو اپنے کلاسک سوٹ کا حصہ بنا کر یہ ضرور دکھایا کہ ثقافتی ورثہ بھی جدید فیشن میں جگہ بنا سکتا ہے۔
بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ بھی دو برس قبل ایک ایوارڈ فنکشن میں اجرک ساڑھی پہنے نظر آئیں۔ (فوٹو: انسٹاگرام، ریا کپور)
دنیا کیوں دوبارہ ہاتھ کی بنی چیزوں کی طرف لوٹ رہی ہے؟
ایک وقت تھا جب لگژری کی پہچان صرف بڑے برانڈز کے لوگوز تھے۔ آج صارفین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کوئی چیز کہاں بنی، کس نے بنائی، اس کے پیچھے کتنی محنت اور کتنی روایت موجود ہے۔
اسی لیے دنیا بھر میں روایتی دستکاریوں کو نئی پذیرائی مل رہی ہے۔ اجرک بھی اسی رجحان کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ صرف ایک کپڑا نہیں بلکہ ایک ایسا فن ہے جس میں وقت، صبر، مہارت اور ثقافت ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔
فلم 'دی اوڈیسی' کیا ہے؟
کرسٹوفر نولان کی نئی فلم 'دی اوڈیسی' قدیم یونانی شاعر ہومر کی شہرۂ آفاق رزمیہ نظمThe Odyssey پر مبنی ہے۔
فلم میں میٹ ڈیمن یونانی ہیرو اوڈیسیئسکا کردار ادا کر رہے ہیں، جو ٹروجن جنگ کے بعد اپنے وطن واپس پہنچنے کے لیے دس سالہ پرخطر سفر سے گزرتا ہے۔
اس سفر میں اسے دیومالائی مخلوقات، سمندری خطرات، طاقتور دیوی دیوتاؤں اور بے شمار آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ اس کی اہلیہ پینیلوپی اور بیٹا ٹیلی میکس برسوں تک اس کی واپسی کے منتظر رہتے ہیں۔
فلم میں ٹام ہالینڈ، این ہیتھاوے، زندایا، رابرٹ پیٹنسن، لوپیتا نیونگو، چارلیز تھیرون اور دیگر بڑے ستارے بھی شامل ہیں۔
شاید یہی اس واقعے کی خوبصورتی بھی ہے۔
ایک طرف نولان کی فلم دنیا کی قدیم ترین رزمیہ داستانوں میں سے ایک کو بڑے پردے پر زندہ کر رہی ہے، اور دوسری طرف وہ خود اپنے لباس میں برصغیر کی صدیوں پرانی ایک زندہ روایت کو ساتھ لیے نظر آئے۔