بنگلہ دیش: سابق صدر ضیاء الرحمان کے قتل کیس میں روپوش فوجی افسر 45 برس بعد گرفتار
بنگلہ دیش: سابق صدر ضیاء الرحمان کے قتل کیس میں روپوش فوجی افسر 45 برس بعد گرفتار
جمعرات 16 جولائی 2026 18:10
سابق صدر ضیاء الرحمان کے قتل کے محرکات اور حالات آج بھی پراسرار معلوم ہوتے ہیں (فائل فوٹو: وکی پیڈیا)
بنگلہ دیشی پولیس نے جمعرات کو ایک سابق فوجی افسر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن پر لگ بھگ ساڑھے چار دہائیاں قبل سابق صدر ضیاء الرحمان کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سابق صدر ضیاء الرحمان کو 1981 میں ایک فوجی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔
ڈھاکہ کے چیف ڈیٹیکٹو پولیس محمد شفیق الاسلام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’محمد مظفر حسین سابق صدر ضیاء الرحمان کے قتل کے بعد سے یعنی 1981 سے مفرور تھے جنہیں آج حراست میں لے لیا گیا ہے اور تفتیش کے دوران انہوں نے اس قتل میں اپنے کردار کا اعتراف بھی کیا ہے۔‘
پولیس کے مطابق ملزم جیسے ہی ڈھاکہ کے ہوائی اڈے پر اترا، اسے فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مظفر حسین ناکام فوجی بغاوت کے فوراً بعد بنگلہ دیش سے فرار ہو گئے تھے اور تب سے بیرونِ ملک ہی مقیم تھے۔
حکومت نے مظفر حسین کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر دو ہزار امریکی ڈالر کے انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔
ضیاء الرحمان کا قتل اور مارشل لا عدالت کے فیصلے
مئی 1981 میں صدر ضیاء الرحمان کے قتل کے بعد قائم کی گئی ایک فوجی عدالت (مارشل لا کورٹ) نے اس قتل کے جرم میں 18 فوجی افسران کو سزا سنائی تھی، اگرچہ وکلاء صفائی کا موقف تھا کہ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد ان میں سے 13 افسران کو پھانسی دے دی گئی تھی جبکہ مظفر حسین واقعے کے فوراً بعد روپوش ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
سابق صدر ضیاء الرحمان کے صاحبزادے طارق الرحمن اس وقت بنگلہ دیش کے وزیرِاعظم ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
قتل کی پُراسرار کڑیاں
سابق صدر ضیاء الرحمان کے قتل کے محرکات اور حالات آج بھی پراسرار معلوم ہوتے ہیں۔ وہ اس وقت قتل کیے گئے جب وہ اپنی نو تشکیل شدہ سیاسی جماعت کے اندرونی بحران کو حل کرنے کے لیے چٹاگانگ کے دورے پر تھے۔
ضیاء الرحمان نے بنگلہ دیش کے بانی صدر شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے بعد سنہ 1977 میں اقتدار سنبھالا تھا۔ ان کی چار سالہ صدارت کے دوران درجنوں بار فوجی بغاوت کی کوششیں کی گئیں۔
یاد رہے کہ سابق صدر ضیاء الرحمان کے صاحبزادے طارق الرحمن اس وقت بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم ہیں۔