سعودی ریزرو میں 100 سال بعد انتہائی نایاب جانور کی پیدائش
جزیرہ نمائے عرب کے صحراؤں سے غائب ہو نے والی نسل کی واپسی ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کاوشوں سے سعودی ریزرو میں تقریباً 100 سال بعد انتہائی نایاب جانور اونیجر، گورخر یا ایشیائی جنگلی گدھے کی پہلی پیدائش ہوئی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق نایاب جانور کی پیدائش ایک صدی سے زائد عرصے سے جزیرہ نمائے عرب کے صحراؤں سے غائب ہو نے والی نسل کی واپسی ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان رائل ریزور میں نایاب جانور کی پیدائش جزیرہ نما عرب میں فطری حیات کی بحالی پروگرام کے تحت ہوئی ہے جس کا مقصد 23 مقامی نسلوں کو ان کے تاریخی و قدرتی مسکن میں دوبارہ آباد کرنا ہے۔
نایاب جنگلی گدھے کی پیدائش جون 2025 میں ہوئی تھی تاہم اس کی پیدائش کا اعلان 12 ماہ بعد کیا گیا ہے۔
اس نایاب جانور کا پیدائش کے بعد پہلا برس انتہائی نازک مرحلہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کی بقا کے امکانات 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتے جو جانور ایک برس تک زندہ رہتے ہیں ان کی پرورش بہتر طور پر ممکن ہوتی ہے۔

رائل ریزرو میں رواں موسم سرما میں اس نایاب جانور کی پیدائش کی توقع کی جا رہی ہے جسے اس نوع کے تحفظ کی کوششوں کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر نے خبردار کیا کہ سال 2025 تک اس نوع کی تعداد میں 90 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔

دنیا بھر میں اس وقت جنگلوں میں اس نوع کے 600 سے بھی کم جانور باقی رہ گئے ہیں جبکہ سال 2025 میں آئی یو سی این نے اسے ’شدید خطرے سے دوچار‘ نسلوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
رائل ریزرو کے سی ای او انڈریو زالومیس نے کہا کہ ’ایک صدی سے زائد عرصے بعد مملکت میں ایشیائی جنگلی گدھے کی پیدائش تاریخی بحالی پروگرام کی کامیابی کی علامت ہے۔ اس منصوبے کا آغاز اپریل 2024 میں اردن سے جنگلی گدھوں کی منتقلی سے ہوا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’پانچ مادہ اور 2 نر جنگلی گدھے اردن کے شومری وائلڈ لائف ریزرو سے 935 کلومیٹر کا سفر طے کرکے سعودی محفوظ علاقے میں پہنچے تھے۔‘
واضح رہے ریزرو کی انتظامیہ اس وقت جنگلی گدھوں میں جینیاتی تنوع کو بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔ اردن سے لائی گئی ایک مادہ کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جسے رواں برس کے دوران باقاعدہ ریوڑ میں شامل کیا جائے گا۔
