Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب: شمالی بحیرۂ احمر کے پانیوں میں سمندری گائے کا مشاہدہ

ڈوگونگ کی موجودگی سے تصدیق ہوتی ہے کہ سمندری ماحولیاتی نظام صحت مند ہے (فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)
سعودی نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے ریسرچرز نے شمالی بحیرۂ احمر میں سمندری گھاس کے ماحولی نظام کے ایسسمنٹ سروے کے دوران ایک ڈوگونگ (سمندری گائے) کا مشاہدہ کیا ہے۔
یہ اس اہم نوع کا دوسرا مشاہدہ ہے۔ 2022 میں ریڈ سی ڈیکیڈ ایکسپیڈیشن کے دوران اسے دستاویز کیا گیا تھا جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ سمندری ماحولیاتی نظام صحت مند ہے اور خطرے سے دوچار انواع کو بقا کے لیے سپورٹ کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ماحول کے تحفظ کے حامی خبردار کرتے رہے ہیں کہ سمندری گائے کے تحفظ کے لیے پختہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ جانور بھی دنیا سے ختم ہو جائے گا۔
عرب نیوز میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں اس گریز پسند جانور کے جُھنڈ موجود ہیں۔ بحیرۂ احمر اور خلیجِ عرب کے ساحلوں کے آس پاس، سمندری گائے، سکون کے ساتھ سمندری گھاس چرتی رہتی ہے جو اس جانور کا ایسا ٹھکانہ ہے جسے مملکت محفوظ رکھنے کے لیے بہت پُرعزم ہے۔
سمندری گائے کم گہرے پانیوں میں سمندری گھاس پر گزارہ کرتی ہے۔ لمبے جسم والی یہ گائے جس کے بازو ڈولفن جیسے ہیں اور دم چوڑی ہے لیکن اس کا سب سے حیران کن پہلو وہ تیز رفتاری ہے جس سے یہ تولیدی عمل سے گزرتا ہے۔
سعودی عرب ان چند ملکوں میں ہے جہاں سمندری گائے کے بچاؤ کی واضح کوششیں کی گئی ہیں۔

نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف نے سمندری گائے کی نقل و حرکت کو دیکھنے کے لیے سیٹیلائٹ کے ذریعے ٹریکنگ کر رکھی ہے اور اس کے بارے میں طویل مدتی سٹڈیز بھی کی گئی ہیں۔
مملکت کے ساحل، سمندری گائے کے زمروں کی آخری پناہ گاہیں ہیں۔ بحیرۂ احمر میں ان کے لیے خوراک کے اہم ذرائع موجود ہیں۔
ان کی حفاظت کے خیال سے سعودی حکام نے سخت قوانین متعارف کرائے ہیں جن میں سمندری گائے کا شکار یا اسے نقصان پہنچانے پر ایک ملین سعودی ریال تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

شیئر: