جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے، 11 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے، 11 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
ہفتہ 15 اگست 2026 20:03
سنیچر کی صبح اسرائیل نے جنوبی لبنان کی اہم سٹریٹجک پہاڑی علی طاہر پر بھی شدید فضائی حملے کیے (فوٹو: اے ایف پی)
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ حملے 20 جون کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد ہونے والے خونریز ترین حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت اور سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان کے گاؤں انصار کے مضافات میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
دوسرا فضائی حملہ دیر الظہرانی نامی گاؤں میں کیا گیا جہاں دو افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔
خیال رہے کہ اسرائیل اور لبنانی حکومت نے 26 جون کو ایک ’فریم ورک معاہدے‘ کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا اور ایران نواز حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔
معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں کسی ممکنہ امن معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے اقدامات بھی شامل ہیں۔ دونوں ممالک اسرائیل کے قیام کے تقریباً 80 سال بعد بھی تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔
حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے انکار کیا تھا اور وہ اس معاہدے کا فریق بھی نہیں تھی۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں ’اپنے گھروں میں موجود شہریوں کو خوفزدہ‘ کرتی ہیں اور جنوب کی صورتحال کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
نواف سلام نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’انصار پر اسرائیلی فضائی حملے میں مارے جانے والے سات افراد کسی فوجی تنصیب کا حصہ نہیں تھے اور مرنے والے بچے اور خواتین فوجی اہداف نہیں تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ لبنان میں کسی بھی فوجی تنصیب سے نمٹنا لبنانی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
لبنانی وزیراعظم نے کہا کہ ’اسرائیل کو یہ کشیدگی روکنی چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی عوام کی سلامتی اور اپنی سرزمین پر زندگی گزارنے کا ان کا حق ’مذاکرات یا سودے بازی کا موضوع نہیں‘ ہے۔
سے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 4,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سیکڑوں عام شہری بھی شامل ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
جنگ بندی کے باوجود حملے جاری
سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق سنیچر کی صبح اسرائیل نے جنوبی لبنان کی اہم سٹریٹجک پہاڑی علی طاہر پر بھی شدید فضائی حملے کیے۔ یہ پہاڑی جنوبی شہر نباطیہ اور شہر کی جانب جانے والی اہم شاہراہوں کے کچھ حصوں پر نظر رکھتی ہے۔
جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج علاقے میں تقریباً روزانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ علاقہ دریائے لیتانی کے شمال میں واقع ہے، جو لبنان میں ایک غیر اعلانیہ حد تصور کیا جاتا ہے، جبکہ دریا کے جنوب میں وسیع علاقے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ علی طاہر اور انصار کے علاقوں میں حزب اللہ کی تنصیبات کو اس کارروائی کے جواب میں نشانہ بنایا گیا جو علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کے خلاف کی گئی تھی۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ حزب اللہ کو اسرائیلی شہریوں یا فوجیوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی اور ’خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی۔‘
حزب اللہ کے ایک عہدیدار نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے خلاف کسی حملے میں تنظیم کے ملوث ہونے سے متعلق فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
حالیہ اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب دونوں جانب جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں کشیدگی برقرار ہے (فوٹو: اے ایف پی)
جنگ بندی کے بعد بھی کشیدگی برقرار
رواں ماہ کے آغاز میں جنوبی لبنان میں ایک دھماکے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ یہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی جانب سے ہونے والی پہلی ہلاکتیں تھیں۔ حزب اللہ نے اس دھماکے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان اب تک مذاکرات کے سات دور ہوچکے ہیں۔ مذاکرات کا تازہ ترین دور رواں ماہ کے آغاز میں روم میں ہوا تھا۔
ایران نواز حزب اللہ نے اپنے ہتھیار ڈالنے اور غیر مسلح ہونے سے انکار کیا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ لبنانی حکومت اسرائیل کے انخلا کی ضمانت حاصل کیے بغیر بہت زیادہ رعایتیں دے رہی ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تازہ جنگ 2 مارچ کو شروع ہوئی، جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے جانے کے دو روز بعد حزب اللہ نے سرحد پار راکٹ داغے۔
اس کے بعد سے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 4,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سیکڑوں عام شہری بھی شامل ہیں۔
اسرائیل کی جانب تقریباً 40 فوجی اور تین شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں، جن میں ایک فوجی کنٹریکٹر بھی شامل ہے۔
حالیہ اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب دونوں جانب جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں کشیدگی برقرار ہے اور اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔