Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز کا بحران، کیا سستے طویل ہوائی سفر کا دور ختم ہونے جا رہا ہے؟

ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز بند ہے (فوٹو: روئٹرز)
آبنائے ہرمز کے بحران کے باعث ہوابازی کی صنعت سے منسلک بظاہر ایک معمولی چیز نے پوری انڈسٹری کو ایک بڑے سٹریٹیجک خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
اس صورت حال میں اخراجات میں اضافے اور پروازوں کے منصوبے بگڑنے کے علاوہ کچھ سوالات بھی کھڑے ہو گئے ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ کیا سستے طویل سفر کا دور ختم ہو گیا ہے۔
عرب نیوز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس پورے معاملے کا جائزہ لیا گیا ہے جس نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد سر اٹھایا تھا اور ہوائی سفر کی راہ میں مشکلات کھڑی ہوئیں۔
سمندر کے راستے ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ اسی تنگ گزرگاہ سے ہو کے گزرتا ہے جسے آبنائے ہرمز کہتے ہیں اور اس میں اس جیٹ آئل کی بھی بھاری مقدار ہوتی ہے جس کو ریفائنریز میں بھجوایا جاتا ہے۔
تاہم یہ سلسلہ تقریباً تین ماہ سے متاثر ہے اور ہوابازی کی صنعت بھی لپٹ میں آ گئی ہے اور جیٹ آئل کی قیمتوں میں تیز اضافہ ہوا۔
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (ایاٹا) کے مطابق فروری کے بعد جیٹ آئل کے نرخ دو گنا ہو گئے ہیں۔
ایشیا میں یہ قیمتیں ایک موقع پر 70 فیصد تک بڑھتی بھی دیکھی گئیں اور قیمت 220 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئیں جبکہ یورپ میں بھی جیٹ آئل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچیں۔

جیٹ آئل کی سپلائی میں رکاوٹ پڑنے سے ہوائی سفر کی صنعت شدید متاثر ہوئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اس بحران کی سنگینی کا احساس انڈسٹری کے حکام کو شروع میں ہی ہو چکا تھا اور آئی ای اے (انٹرنیشنل انرجی ایجنسی) کے سربراہ نے خبردار کیا تا کہ اگر آبنائے ہرمز کے راستے سپلائی میں رکاوٹیں برقرار ہیں تو یورپ کے ہوائی اڈوں کو ’چھ ہفتے یا پھر اس کے قریب قریب‘ عرصے کے دوران ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اگرچہ صورت حال اس حد تک نہیں پہنچی اور متبادل ذرائع تلاش کر کے کسی حد تک ویسی صورت حال سے بچنے کا راستہ نکال لیا گیا ہے تاہم صورت حال اب بھی اس نکتے سے بہت دور ہے جس کو اطمینان بخش قرار دیا جا سکے۔
سپارٹا کے تجزیہ کار جیمز نویل بیسوک نے پچھلے ہفتے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آخرکار بات اسی نکتے پر آ کر ٹھہرتی ہے کہ کس کے پاس کتنا مال ہے اور کون زیادہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔‘
ایاٹا کے اعداد و شمار کے مطابق فضائی سفر میں تین اعشاریہ چار فیصد کمی آئی اور عالمی طور پر جیٹ ایندھن کی طلب سات اعشاریہ 77 ملین بیرل یومیہ رہنے کی توقع ہے۔

جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

ایندھن کو ایئرلائنز کے لیے سب سے بڑا خرچ ایندھن کو ہی سمجھا جتا ہے جو پورے آپریٹنگ سسٹم کا 25 سے 30 فیصد کت بتا ہے۔
وہ ممالک جو ایندھن پر زیادہ انحصار کرتے ہیں وہاں کی فضائی کمپنیوں کے لیے یہ اخراجات کا یہ تناسب اور بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
جب اچانک لاگت بڑھتی ہے تو ایئرلائنز کے پاس چند ہی راستے بچتے ہیں جن میں کرایوں میں اضافہ، اضافی سرچارج لگانا، پروازوں کی گنجائش کم کرنا یا پھر قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے ہیجنگ معاہدوں کا سہارا لینا جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اب فضائی کمپنیاں ان تمام ہی طریقوں کو استعمال کر رہی ہیں۔

جیٹ آئل کی سپلائی متاثر ہونے سے ایئرلائنز نے پروازوں کو محدود کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

یورپ، ایشیا اورمشرق وسطیٰ کی بڑی فضائی کمپنیوں نے گرمیوں کے شیڈول محدود کر دیے ہیں، کم منافع بخش پروازوں کی تعداد میں کمی کی گئی ہے اور بعض طیاروں کو عارضی طور پر گراؤنڈ کر دیا گیا ہے تاکہ ایندھن کو زیادہ منافع بخش روٹس کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔
بعض دیگر ایئرلائنز نے بھی اپنے فضائی روسٹ کو دوبارہ ترتیب دینا شروع کر دیا ہے، خاص طور پر یورپ، ایشیا اور آسٹریلیا کو ملانے والے طویل فاصلے کے روٹس پر ایسے اقدامات ہو رہے ہیں۔
 اس سے قبل مشرقِ وسطیٰ کے اوپر سے گزرنے والے روٹس پر انحصار کیا جاتا تھا  لیکن اب غیر مستحکم فضائی حدود سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

شیئر: