آبنائے ہرمز کا بحران، سستے اور طویل ہوائی سفر کا دور ختم ہو رہا ہے؟
آبنائے ہرمز کا بحران، سستے اور طویل ہوائی سفر کا دور ختم ہو رہا ہے؟
منگل 2 جون 2026 6:07
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز بند ہے (فوٹو: روئٹرز)
آبنائے ہرمز کے بحران سے ہوابازی کی صنعت سے منسلک بظاہر ایک معمولی چیز جیٹ ایندھن کو ایک بڑے سٹریٹیجک خطرے میں تبدیل کر دیا ہے۔
اس کے باعث اخراجات میں اضافے اور پروازوں کے منصوبے بگڑنے کے علاوہ کچھ سوالات بھی کھڑے ہو گئے ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ کیا سستے طویل سفر کا دور ختم ہو گیا ہے۔
عرب نیوز میں شائع ہونے والے ایک فیچر میں اس معاملے پر تفصیلی بحث کی گئی ہے جس نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد سر اٹھایا تھا اور ہوائی سفر کی راہ میں مشکلات کھڑی ہوئیں۔
سمندر کے راستے ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ اسی تنگ گزرگاہ سے ہو کے گزرتا ہے جسے آبنائے ہرمز کہتے ہیں اور اس میں اس جیٹ آئل کی بھی بھاری مقدار ہوتی ہے جس کو ریفائنریز میں بھجوایا جاتا ہے۔
تاہم یہ سلسلہ تقریباً تین ماہ سے متاثر ہے اور ہوابازی کی صنعت بھی لپٹ میں آ گئی ہے اور جیٹ آئل کی قیمتوں میں تیز اضافہ ہوا۔
ایاٹا کے مطابق فروری کے بعد جیٹ آئل کے نرخ دو گنا ہو گئے ہیں۔
ایشیا میں یہ قیمتیں ایک موقع پر 70 فیصد تک بڑھتی بھی دیکھی گئیں اور قیمت 220 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئیں جبکہ یورپ میں بھی جیٹ آئل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچیں۔
اس بحران کی سنگینی کا احساس انڈسٹری کے حکام کو شروع میں ہی ہو چکا تھا اور آئی ای اے (انٹرنیشنل انرجی ایجنسی) کے سربراہ نے خبردار کیا تا کہ اگر آبنائے ہرمز کے راستے سپلائی میں رکاوٹیں برقرار ہیں تو یورپ کے ہوائی اڈوں کو ’چھ ہفتے یا پھر اس کے قریب قریب‘ عرصے کے دوران ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اگرچہ صورت حال اس حد تک نہیں پہنچی اور متبادل ذرائع تلاش کر کے کسی حد تک ویسی صورت حال سے بچنے کا راستہ نکال لیا گیا ہے تاہم صورت حال اب بھی اس نکتے سے بہت دور ہے جس کو اطمینان بخش قرار دیا جا سکے۔
جیٹ آئل کی سپلائی میں رکاوٹ پڑنے سے ہوائی سفر کی صنعت شدید متاثر ہوئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سپارٹا کے تجزیہ کار جیمز نویل بیسوک نے پچھلے ہفتے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آخرکار بات اسی نکتے پر آ کر ٹھہرتی ہے کہ کس کے پاس کتنا مال ہے اور کون زیادہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔‘
ایاٹا کے اعداد و شمار کے مطابق فضائی سفر میں تین اعشاریہ چار فیصد کمی آئی اور عالمی طور پر جیٹ ایندھن کی طلب سات اعشاریہ 77 ملین بیرل یومیہ رہنے کی توقع ہے۔
ایندھن کو ایئرلائنز کے لیے سب سے بڑا خرچ ایندھن کو ہی سمجھا جتا ہے جو پورے آپریٹنگ سسٹم کا 25 سے 30 فیصد کت بتا ہے۔
افریقہ جیسے وہ ممالک جو ایندھن پر زیادہ انحصار کرتے ہیں وہاں کی فضائی کمپنیوں کے لیے یہ اخراجات کا یہ تناسب اور بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
جب اچانک لاگت بڑھتی ہے تو ایئرلائنز کے پاس چند ہی راستے بچتے ہیں جن میں کرایوں میں اضافہ، اضافی سرچارج لگانا، پروازوں کی گنجائش کم کرنا یا پھر قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے ہیجنگ معاہدوں کا سہارا لینا جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اب فضائی کمپنیاں ان تمام ہی طریقوں کو استعمال کر رہی ہیں۔
یورپ، ایشیا اورمشرق وسطیٰ کی بڑی فضائی کمپنیوں نے گرمیوں کے شیڈول محدود کر دیے ہیں، کم منافع بخش پروازوں کی تعداد میں کمی کی گئی ہے اور بعض طیاروں کو عارضی طور پر گراؤنڈ کر دیا گیا ہے تاکہ ایندھن کو زیادہ منافع بخش روٹس کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔
بعض دیگر ایئرلائنز نے بھی اپنے فضائی روسٹ کو دوبارہ ترتیب دینا شروع کر دیا ہے، خاص طور پر یورپ، ایشیا اور آسٹریلیا کو ملانے والے طویل فاصلے کے روٹس پر ایسے اقدامات ہو رہے ہیں۔
اس سے قبل مشرقِ وسطیٰ کے اوپر سے گزرنے والے روٹس پر انحصار کیا جاتا تھا لیکن اب غیر مستحکم فضائی حدود سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔