Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فرانس اور سپین کے جنگلات میں لگی’آگ بے قابو‘، تین لاکھ سے زائد افراد کا انخلا

فرانس اور سپین کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں تاہم تیز ہواؤں اور خشک موسم کے باعث آگ مسلسل پھیل رہی ہے۔
اتوار تک آگ سے متاثرہ علاقوں سے تین لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس کے جنوب مغربی شہر بوردو، جو اپنے انگور کے باغات کے لیے مشہور ہے، آگ کی لپیٹ میں آنے کے خطرے سے دوچار ہے۔
علاقے میں آگ کے باعث ایک بڑی شاہراہ اور متعدد ریلوے لائنیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔
ادھر سپین میں میڈرڈ کے مغرب میں بھڑکنے والی آگ کے باعث مزید دیہات خالی کرا لیے گئے ہیں جبکہ مشرقی ساحلی شہر والینسیا کے قریب بھی آگ بھڑک اٹھی ہے۔
فرانس کے وزیراعظم سیبسٹین لیکورنو نے کہا کہ ملک کو ’تاریخی صورتحال‘ کا سامنا ہے۔
حکام کے مطابق جنوب مغربی فرانس میں آگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والا انخلا دوسری عالمی جنگ کے بعد ملک کی تاریخ کے بڑے انخلا میں شمار کیا جا رہا ہے، جہاں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کو خطرناک علاقوں سے نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ملک میں آگ کی صورتحال اب بھی ’انتہائی تشویشناک‘ ہے۔
بوردو کے قریب گیروند کے علاقے میں آگ پر قابو پانے کے لیے 5200 سے زائد فائر فائٹرز، فوجی اور سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔
بوردو کے نواحی قصبے سیستاس کے میئر جیروم سٹیف نے بتایا کہ 17 ہزار آبادی والے قصبے کے زیادہ تر رہائشی محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔

مئی سے جاری شدید گرمی کی لہروں اور خشک سالی کے باعث فرانس اور سپین کے جنگلات انتہائی خشک ہو چکے تھے: فوٹو اے ایف پی

انہوں نے کہا، ’یہ آگ غیر متوقع ہے۔ جب بھی لگتا ہے کہ اس پر قابو پا لیا گیا ہے، یہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ پھیل جاتی ہے۔ اس وقت یہ کہنا ممکن نہیں کہ آگ کہاں جا کر رکے گی۔‘
فرانس میں بحرِ اوقیانوس کے ساحل پر واقع سیاحتی علاقوں کو بھی خالی کرا لیا گیا ہے، جبکہ آگ سے متاثرہ رقبہ پیرس کے مجموعی رقبے سے تقریباً چار گنا زیادہ ہو چکا ہے۔
پڑوسی علاقے لانڈز میں لگنے والی دوسری آگ، جس کے باعث 30 ہزار افراد کو نکالا گیا تھا، جزوی طور پر قابو میں آ گئی ہے، تاہم حکام کے مطابق اسے مکمل طور پر بجھایا نہیں جا سکا۔
سپین کی صورتحال

میڈرڈ کے مغرب میں بھڑکنے والی آگ کے باعث مزید دیہات خالی کرا لیے گئے ہیں: فوٹو اے ایف پی

سپین میں حکام کا کہنا ہے کہ تیز ہوائیں میڈرڈ کے قریب آگ کو دارالحکومت سے دور جنوب کی جانب دھکیل رہی ہیں لیکن اس کے راستے میں آنے والے مزید دیہات خالی کرائے جا رہے ہیں۔
سپین کے وزیر داخلہ فرنانڈو گراندے مارلاسکا نے کہا کہ اتوار کو آگ پر قابو پانے میں ہوا کی رفتار اہم کردار ادا کرے گی، کیونکہ اب تک موسم کی صورتحال کی وجہ سے صورتحال مشکل رہی ہے۔
دوسری جانب والینسیا کے قریب آگ کے نئے محاذ کے باعث کم از کم 15 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جس کے بعد میڈرڈ کے قریب متاثرہ علاقوں سے انخلا کرنے والوں کی تعداد 60 ہزار ہو گئی ہے۔
والینسیا کے علاقائی صدر خوان فران پیریز یورکا نے کہا کہ ’آگ ہماری بجھانے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ بڑی ہو چکی ہے۔‘
ہفتے کو والینسیا کے قریب ایک علیحدہ واقعے میں لگنے والی آگ سے ایک شہری ہلاک ہوا، جبکہ فرانس میں بدھ کے روز بوردو کے قریب آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران دو فائر فائٹرز ہلاک ہو گئے تھے۔
سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد کہا کہ آئندہ چند گھنٹے انتہائی مشکل ہوں گے، تاہم آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں کچھ مثبت پیش رفت بھی ہوئی ہے۔

سپین میں بھی ہزاروں افراد کو متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے: فوٹو اے ایف پی

ماہرین کے مطابق مئی سے جاری شدید گرمی کی لہروں اور خشک سالی کے باعث فرانس اور سپین کے جنگلات انتہائی خشک ہو چکے ہیں، جس سے آگ تیزی سے پھیل رہی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات زیادہ خطرناک اور زیادہ بار رونما ہو رہے ہیں، جبکہ یورپ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا براعظم بن چکا ہے۔
فرانس اور سپین نے امدادی کارروائیوں کے لیے یورپی یونین کے دیگر ممالک سے بھی مدد طلب کی ہے۔ فرانس کو پانچ آگ بجھانے والے طیارے، دو ہیلی کاپٹر اور سوئٹزرلینڈ کی فائر فائٹنگ ٹیم فراہم کی گئی ہے، جبکہ سپین کی مدد کے لیے دیگر یورپی ممالک نے چار طیارے بھیجے ہیں۔
اس کے علاوہ فرانس نے پہلی مرتبہ خصوصی طور پر تبدیل کیے گئے فوجی طیارے کو بھی استعمال کیا ہے، جو ایک وقت میں 20 ٹن تک پانی یا آگ بجھانے والا کیمیکل گرا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سپین نے بھی میڈرڈ کے قریب آگ سے نمٹنے کے لیے کم از کم 29 طیارے تعینات کر رکھے ہیں۔

شیئر: