امریکی وسط مدتی انتخابات میں 100 دن، صدر ٹرمپ کو سخت سیاسی امتحان کا سامنا
امریکی وسط مدتی انتخابات میں 100 دن، صدر ٹرمپ کو سخت سیاسی امتحان کا سامنا
اتوار 26 جولائی 2026 17:06
روایتی طور پر وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے: فوٹو اے ایف پی
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں صرف 100 دن باقی رہ گئے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایسے رائے عامہ کے جائزوں کا سامنا ہے جن کے مطابق وہ ایوانِ نمائندگان میں اپنی اکثریت کھو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے بھی سخت مقابلے کا سامنا ہو گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تین نومبر کو ہونے والے انتخابات کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے لیے اہمیت غیر معمولی ہے۔
اگر ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو اسے طاقتور پارلیمانی کمیٹیوں اور طلبی کے اختیارات حاصل ہو جائیں گے، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو آئندہ دو برس تک مختلف تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کے خلاف تیسری بار مواخذے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔
ریپبلکن پارٹی اس وقت ایوانِ نمائندگان میں انتہائی معمولی اکثریت رکھتی ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت بھی کمزور ہے۔
بڑھتی مہنگائی اور ایران کے ساتھ جاری جنگ پر عوامی بے چینی نے بھی ریپبلکنز کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
امریکی انتخابی تجزیاتی ویب سائٹ ’ڈیسیژن ڈیسک ہیڈکوارٹر‘ کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے امکانات 59 فیصد ہیں۔
امریکہ میں روایتی طور پر وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت کو نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اور اس بار بھی صرف چند نشستوں کی تبدیلی سے اقتدار کا توازن بدل سکتا ہے۔
ایران جنگ کے باعث توانائی کی عالمی منڈی متاثر ہونے سے امریکہ میں پٹرول کی قیمت چار ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ مہنگائی اور بلند شرح سود بھی ووٹروں کے لیے اہم مسائل بن چکے ہیں۔
ایک حالیہ سروے مطابق صرف 36 فیصد امریکی صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں: فوٹو اے ایف پی
ڈیموکریٹس کے حوالے سے سامنے آنے والے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اب ووٹر مہنگائی، صحت اور حتیٰ کہ امیگریشن جیسے معاملات پر بھی ریپبلکنز کے مقابلے میں ڈیموکریٹس پر زیادہ اعتماد کر رہے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز کے مطابق ’ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکنز امریکی عوام کو مایوس کر چکے ہیں۔‘
انہوں نے خوراک، پٹرول، رہائش اور صحت کی سہولتوں پر توجہ مرکوز کرنے والی انتخابی مہم کا اعلان بھی کیا۔
ریپبلکنز کی حکمتِ عملی
سیاسی تجزیہ کار چک ٹوڈ کے مطابق نو ماہ قبل سینیٹ میں ریپبلکنز واضح فیورٹ تھے، مگر اب وہ صرف معمولی برتری رکھتے ہیں: فوٹو اے ایف پی
ریپبلکن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات ’عام فہم پالیسیوں‘ اور بقول ان کے ’زیادہ بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی ڈیموکریٹک پارٹی‘ کے درمیان انتخاب ہوں گے۔
پارٹی انتخابی مہم میں سرحدی سکیورٹی اور ٹیکس میں کمی کو نمایاں کرے گی، جبکہ ڈیموکریٹ امیدواروں کو سوشلسٹ نظریات سے جوڑنے کی کوشش کرے گی۔
صدر ٹرمپ کانگریس سے ’سیو امریکہ ایکٹ‘ کی منظوری کے لیے بھی بھرپور دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ قانون انتخابی دھاندلی روکنے کے لیے ضروری ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اسے قانونی ووٹوں کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
ادھر حلقہ بندیوں میں تبدیلی بھی اس انتخاب کا اہم پہلو بن گئی ہے۔ دونوں جماعتوں نے اپنے حق میں انتخابی حلقہ بندیاں کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ریپبلکنز کو اس معاملے میں پانچ سے 12 نشستوں تک کا فائدہ مل سکتا ہے۔
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی سیاسیات کی پروفیسر سارہ بائنڈر کے مطابق ’نئی حلقہ بندیوں کے بعد ایوانِ نمائندگان کی 20 میں سے صرف ایک نشست ایسی رہ گئی ہے جس کے نتائج غیر یقینی ہیں، جس سے ڈیموکریٹس کے لیے مقابلہ مزید مشکل ہو گیا ہے۔‘
مالی لحاظ سے بھی ریپبلکنز کو برتری حاصل ہے اور ان کی انتخابی مہم کے پاس ڈیموکریٹس کے مقابلے میں کروڑوں ڈالر زیادہ موجود ہیں۔
سینیٹ میں بھی سخت مقابلہ
پٹرول کی زیادہ قیمت، مہنگائی اور بلند شرح سود بھی ووٹروں کے لیے اہم مسائل بن چکے ہیں: فوٹو اے ایف پی
سینیٹ میں اس وقت ریپبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس کو اکثریت کے لیے چار نشستوں کا اضافہ درکار ہوگا۔
ویب سائٹ ’ڈیسیژن ڈیسک ہیڈکوارٹر‘ کے مطابق سینیٹ میں مقابلہ انتہائی سخت ہے، تاہم معمولی برتری اب بھی ریپبلکنز کو حاصل ہے۔ اگر دونوں جماعتیں 50، 50 نشستیں حاصل کرتی ہیں تو نائب صدر جے ڈی وینس فیصلہ کن ووٹ دیں گے۔
اگر ڈیموکریٹس صرف ایوانِ نمائندگان پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں اور سینیٹ ریپبلکنز کے پاس رہتی ہے، تب بھی ٹرمپ کی باقی مدت صدارت نمایاں طور پر متاثر ہوگی۔
ایوانِ نمائندگان میں ان کے قانون سازی کے منصوبے رک سکتے ہیں، انتظامیہ کو عوامی سماعتوں اور تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کو ایران جنگ، انتظامیہ کے طرزِ عمل اور انتخابی اصلاحات پر حکومت کو مسلسل تنقید کا موقع مل جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کار چک ٹوڈ نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ ’نو ماہ قبل سینیٹ میں ریپبلکنز واضح فیورٹ تھے، مگر اب وہ صرف معمولی برتری رکھتے ہیں۔‘
ایک حالیہ سروے مطابق صرف 36 فیصد امریکی صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔
چک ٹوڈ کا کہنا تھا کہ ’وسط مدتی انتخابات کے نتائج جانچنے کا سب سے اہم پیمانہ صدر کی عوامی مقبولیت ہوتی ہے۔ اگر کسی صدر کی مقبولیت کی شرح 45 فیصد سے کم ہو تو اس کی جماعت تقریباً یقینی طور پر نشستیں کھو دیتی ہے، اور اگر یہ شرح 40 فیصد سے بھی نیچے چلی جائے تو ایوانوں کا کنٹرول بھی ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ اصل سوال صرف یہ ہوتا ہے کہ شکست کتنی بڑی ہوگی۔‘