Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ  نے حملے روکے تو ایران نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں جوابی کارروائیاں معطل کر دیں

ایران نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے گزشتہ دو راتوں سے ایران پر حملے روکنے کے بعد اس نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے خلاف اپنی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تقریباً پانچ ماہ سے جاری جنگ میں عارضی وقفہ آیا ہے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ کو دفاعی ہتھیاروں کے محدود ہوتے ذخائر کے باعث مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کرنا پڑ رہا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا، ’یہ حملے دو رات قبل تک جاری رہے، لیکن گزشتہ دو راتوں سے امریکیوں نے اپنے حملے روک دیے ہیں۔ چونکہ ہماری حکمتِ عملی بنیادی طور پر جوابی کارروائی پر مبنی تھی، اس لیے ہم نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔‘

آبنائے ہرمز پر کشیدگی کے باعث واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی تھیں، تاہم بعد ازاں یہ تنازع صرف اس اہم آبی گزرگاہ تک محدود نہ رہا بلکہ امریکی فوجی اڈوں، خطے میں بحری جہازوں اور خلیجی اتحادیوں پر حملوں تک پھیل گیا۔

تاہم حالیہ وقفے کے بعد تقریباً دو ہفتوں تک مسلسل رات کے وقت ہونے والی امریکی بمباری کے بعد مذاکرات کی بحالی کی امید ایک بار پھر پیدا ہوئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق حملوں میں وقفے کی ایک وجہ پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اور دیگر دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔

سی این این نے پینٹاگون کے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں فی الحال ’عارضی طور پر روک دی گئی ہیں‘، اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایران کو ’اس سے کہیں زیادہ شدید حملوں‘ کی دھمکی بھی دی تھی۔

نیویارک ٹائمز نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ہتھیاروں کے محدود ذخائر کے باعث فوجی کارروائیوں میں اضافے کے منصوبے فی الحال مؤخر کر دیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ جنگ مزید پھیلنے سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ عالمی معیشت کو بھی مزید جھٹکے لگنے کا خطرہ ہے۔

دوسری جانب سی این این کے مطابق، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور امریکی فوج کے اعلیٰ جنرل ڈین کین نے جمعے کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے دوران جنگ کے مزید پھیلنے پر تشویش کا اظہار کیا۔

رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ امریکی فوج ان کے تمام ممکنہ فوجی آپشنز پر عمل درآمد کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم انہوں نے اس کے ممکنہ نتائج سے بھی آگاہ کیا۔

ادھر ایران کی فوج نے اتوار کو خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملے شروع کیے تو جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔ یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے منگل کو واشنگٹن کے متوقع دورے سے قبل سامنے آیا ہے۔

’اس سے کہیں زیادہ شدید حملے‘

صدر ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ انہوں نے ابھی تک مکمل فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’ہم اس وقت ان سے بات کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں وہ اب پہلے سے زیادہ سنجیدگی دکھا رہے ہیں۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس دو ہی راستے ہیں، معاہدہ کرے یا پھر اس سے کہیں زیادہ شدید حملوں کا سامنا کرے۔

یہ جنگ، جس کے بارے میں ٹرمپ نے ابتدا میں پیش گوئی کی تھی کہ چار یا پانچ ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، اب اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہونے والی ہے۔ اس کے باعث نومبر میں ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات سے قبل ان کی عوامی مقبولیت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق، پینٹاگون نے ایران پر مسلسل چودھویں رات حملوں کا منصوبہ صدر ٹرمپ کو پیش کیا تھا، تاہم انہوں نے مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کے لیے اس کی منظوری نہیں دی۔

تہران میں معمولات زندگی بحال

اتوار کو تہران میں معمولاتِ زندگی معمول کے مطابق جاری رہے۔ اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق شہری شدید ٹریفک کے باوجود اپنے کام پر جا رہے تھے، جبکہ شدید گرمی کی لہر کے باوجود بازار اور ریسٹورنٹس معمول کے مطابق کھلے رہے۔

ادھر ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایرانی مسلح افواج نے وارننگ جاری کرنے کے بعد چھ بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک دیا۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کا سب سے بڑا مرکز بدستور آبنائے ہرمز کی مؤثر ناکہ بندی ہی بنی ہوئی ہے۔

شیئر: