شدید گرمی اور تیز ہواؤں نے فرانس اور سپین کو آگ کی لپیٹ میں لے لیا
ہفتہ 25 جولائی 2026 17:33
فرانس کے جنوب مغربی ساحلی علاقوں میں بھڑکنے والی جنگلاتی آگ سنیچر کے روز اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے شہر بورڈو کے نواحی علاقوں تک جا پہنچی، جس کے باعث ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
دوسری جانب ہمسایہ ملک سپین میں میڈرڈ کے قریب لگنے والی بڑی آگ پر تیز ہواؤں کے باعث قابو پانے کی کوششیں مزید دشوار ہو گئی ہیں۔
دونوں ممالک میں اب تک لاکھوں افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکالا جا چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل خشک موسم، بار بار آنے والی شدید گرمی کی لہریں اور موسمیاتی تبدیلی جنگلاتی آگ کے ایسے واقعات میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
فرانس کے وزیر اعظم سیباستیاں لیکورنو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ملک کو درپیش جنگلاتی آگ کی شدت ماضی کی تمام مثالوں سے بڑھ چکی ہے۔
ادھر فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز نے صحافیوں کو بتایا کہ آگ سے نمٹنے کی کارروائی طویل اور انتہائی مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ بورڈو ایئرپورٹ عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی فوج میں فوج طلب، سپین میں ایمرجنسی
فرانس میں آگ کی شدت کے باعث فائربریگیڈ کی مدد کے لیے فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب سپین نے جنگلاتی آگ کے باعث اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ملک میں لگنے والی تین بڑی آگ میں سے دو جمعہ کے روز آپس میں مل کر مزید وسیع ہو گئی تھیں۔
سپین کے سول پروٹیکشن ادارے نے بتایا کہ یورپی یونین کی امدادی کارروائی کے تحت سنیچر کے روز مزید چار آبی بمبار طیارے سپین پہنچنے کی توقع ہے، جن میں دو اٹلی اور دو یونان سے روانہ کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل نیدرلینڈز اور پرتگال کے فائر فائٹنگ طیارے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے چکے ہیں۔
تیز ہواؤں نے آگ مزید بھڑکا دی
فرانس اور سپین دونوں میں تیز ہوائیں آگ کو مزید پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔
بورڈو کے قریب ساحلی علاقہ سیاحوں میں بے حد مقبول ہے، جہاں چیڑ (پائن) کے وسیع جنگلات موجود ہیں۔ یہ درخت انتہائی آتش گیر سمجھے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یہ خطہ انگور کے باغات کے لیے بھی دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔
رواں ہفتے آگ لگنے کے بعد سے اب تک بورڈو کے قریب گیرونداور لاند کے علاقوں سے تقریباً ایک لاکھ 97 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
سپین میں تین بڑی جنگلاتی آگ کے باعث 63 ہزار سے زائد افراد کو یا تو اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے یا احتیاطاً گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق آگ اس وقت بورڈو شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سنیچر کی صبح صورتحال نسبتاً بہتر رہی تاہم دوپہر کے بعد تیز ہواؤں کے دوبارہ چلنے کا امکان ہے۔
حکومت نے شہریوں کو متاثرہ علاقوں کی جانب سڑک یا ریل کے ذریعے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
سپین میں شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ
میڈرڈ کے مغرب میں واقع گنجان آباد علاقوں میں، جہاں دارالحکومت کے بہت سے رہائشیوں کے دوسرے گھر موجود ہیں، دو بڑی آگ ایک دوسرے سے مل چکی ہیں۔
سرکاری نمائندے نیکانور سین کے مطابق صوبہ اویلا میں لگنے والی تیسری آگ بھی ان دونوں آگ کے قریب پہنچ رہی ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
دارالحکومت کے مغرب میں واقع موناسٹیریو دے پیلایوس کیمپ سائٹ کے مالک نے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی وی ای کو بتایا کہ جمعے کے روز آگ کی لپیٹ میں آ کر تقریباً 30 موبائل ہومز مکمل طور پر جل گئے جبکہ تقریباً 200 سیاحوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ ’یہ انتہائی ہولناک تباہی تھی۔‘
ان کے مطابق خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔