فرانس کے جنوب مغربی ساحلی علاقوں میں بھڑکنے والی جنگلاتی آگ سنیچر کے روز اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے شہر بورڈو کے نواحی علاقوں تک جا پہنچی، جس کے باعث ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
دوسری جانب ہمسایہ ملک سپین میں میڈرڈ کے قریب لگنے والی بڑی آگ پر تیز ہواؤں کے باعث قابو پانے کی کوششیں مزید دشوار ہو گئی ہیں۔
دونوں ممالک میں اب تک لاکھوں افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکالا جا چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل خشک موسم، بار بار آنے والی شدید گرمی کی لہریں اور موسمیاتی تبدیلی جنگلاتی آگ کے ایسے واقعات میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
فرانس کے وزیر اعظم سیباستیاں لیکورنو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ملک کو درپیش جنگلاتی آگ کی شدت ماضی کی تمام مثالوں سے بڑھ چکی ہے۔
مزید پڑھیں
-
ترکی میں جنگل کی آگ کے بعد سزائے موت کے قانون کا ازسرنو جائزہNode ID: 680631
ادھر فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز نے صحافیوں کو بتایا کہ آگ سے نمٹنے کی کارروائی طویل اور انتہائی مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ بورڈو ایئرپورٹ عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی فوج میں فوج طلب، سپین میں ایمرجنسی
فرانس میں آگ کی شدت کے باعث فائربریگیڈ کی مدد کے لیے فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب سپین نے جنگلاتی آگ کے باعث اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ملک میں لگنے والی تین بڑی آگ میں سے دو جمعہ کے روز آپس میں مل کر مزید وسیع ہو گئی تھیں۔
سپین کے سول پروٹیکشن ادارے نے بتایا کہ یورپی یونین کی امدادی کارروائی کے تحت سنیچر کے روز مزید چار آبی بمبار طیارے سپین پہنچنے کی توقع ہے، جن میں دو اٹلی اور دو یونان سے روانہ کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل نیدرلینڈز اور پرتگال کے فائر فائٹنگ طیارے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے چکے ہیں۔

تیز ہواؤں نے آگ مزید بھڑکا دی
فرانس اور سپین دونوں میں تیز ہوائیں آگ کو مزید پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔
بورڈو کے قریب ساحلی علاقہ سیاحوں میں بے حد مقبول ہے، جہاں چیڑ (پائن) کے وسیع جنگلات موجود ہیں۔ یہ درخت انتہائی آتش گیر سمجھے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یہ خطہ انگور کے باغات کے لیے بھی دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔
رواں ہفتے آگ لگنے کے بعد سے اب تک بورڈو کے قریب گیرونداور لاند کے علاقوں سے تقریباً ایک لاکھ 97 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
سپین میں تین بڑی جنگلاتی آگ کے باعث 63 ہزار سے زائد افراد کو یا تو اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے یا احتیاطاً گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق آگ اس وقت بورڈو شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سنیچر کی صبح صورتحال نسبتاً بہتر رہی تاہم دوپہر کے بعد تیز ہواؤں کے دوبارہ چلنے کا امکان ہے۔
حکومت نے شہریوں کو متاثرہ علاقوں کی جانب سڑک یا ریل کے ذریعے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔













