Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: جنریشن زی کا اہم ریاستی انتخابات سے قبل مودی کی سیاسی ساکھ کو بڑا دھچکہ

انڈیا میں نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی  کی جانب سے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف احتجاج شروع ہونے کے تقریباً پانچ ہفتے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے انسٹاگرام پر سیلفی ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے نوجوانوں کی مشکلات پر افسوس کا اظہار کیا اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔
خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق 75  سالہ نریندر مودی کی یہ ویڈیو جمعرات کی شب انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی، جہاں  سی جے پی نے مئی میں چند ہی دنوں کے اندر تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ فالوورز حاصل کر لیے تھے۔
تاہم وزیراعظم کی یقین دہانی ہزاروں مظاہرین کو مطمئن نہ کر سکی، جو نئی دہلی کے مرکزی علاقے میں احتجاج جاری رکھے ہوئے تھے۔ چند روز قبل ان مظاہرین کو سخت پولیس کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، جبکہ ان کے احتجاج نے ملک کے دیگر حصوں تک بھی تحریک کو پھیلا دیا۔
بالآخر ہفتے کے روز انڈین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا، جس سے مظاہرین کا بنیادی مطالبہ پورا ہو گیا۔ مودی حکومت کے لیے اسے ایک غیر معمولی سیاسی دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مودی مخالف بیانیے میں نئی نسل کا کردار
وزیر تعلیم کا استعفیٰ کاکروچ جنتا پارٹی کے لیے ایک واضح کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ اس تنظیم کے نوجوان حامی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ریپ گانوں، پلے کارڈز اور دیواروں پر تحریروں کے ذریعے کھلے عام وزیراعظم مودی کا مذاق اڑاتے رہے، جو چند ہفتے پہلے تک انڈین سیاست میں تقریباً ناقابل تصور سمجھا جاتا تھا۔
ایس او اے ایس یونیورسٹی آف لندن کے انھروپولوجی  کے پروفیسر سنجے سریواستو کے مطابق، ’احتجاج میں شریک افراد کی بڑی تعداد ممکن ہے مودی کی اپنی حامی رہی ہو، اور یہی چیز اس احتجاج کو ماضی کی تحریکوں سے مختلف بناتی ہے۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی ناراضی کا پہلا بڑا امتحان آئندہ برس اتر پردیش، پنجاب اور گجرات کے ریاستی انتخابات میں سامنے آ سکتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ اس احتجاج کی اصل کامیابی یہ ہے کہ اب معاشرے کے مختلف طبقات حکومت سے سوال پوچھنا شروع ہو گئے ہیں اور یہ تصور بھی چیلنج ہو رہا ہے کہ برسرِاقتدار جماعت لازماً ملک کے مفاد میں ہی کام کرتی ہے۔

پرچہ لیک محض ایک محرک، اصل مسئلہ بے روزگاری

ماہرین کے مطابق احتجاج کی فوری وجہ میڈیکل داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونا تھا، تاہم اس کے پس منظر میں نوجوانوں کی بے روزگاری، مستقبل کے حوالے سے بے یقینی اور یہ خدشہ بھی شامل ہے کہ مصنوعی ذہانت انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں ان کی ملازمتیں ختم کر سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار امیتابھ تیواری کے مطابق،’پرچہ لیک ہونا صرف ایک محرک ہے، جبکہ اصل مسئلہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی، مایوسی، غصہ اور اضطراب ہے۔‘
ادھر انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح طلبہ کے حقیقی خدشات کو سمجھنا، ان کا فوری حل نکالنا اور انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔

جنریشن زی کی خواہشات سے حکومت لاتعلق؟

تیواری کے مطابق، انڈیا میں 18 سے 40 سال کی عمر کے افراد ملک کی تقریباً 40 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں، مگر پارلیمان کے ایوان زیریں میں ان کی نمائندگی صرف 10 فیصد کے قریب ہے، جبکہ 1950 کی دہائی میں یہ شرح اس سے دوگنی سے بھی زیادہ تھی۔ دوسری جانب انڈین کابینہ کی اوسط عمر 60 سال سے زائد ہے۔

اگر سی جے پی خود کو سیاسی جماعت میں تبدیل کر لیتی ہے تو مودی کے لیے زیادہ بڑا خطرہ 2029 کے عام انتخابات ہو سکتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

اگرچہ کاکروچ جنتا پارٹی باقاعدہ سیاسی جماعت نہیں، لیکن اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے اس تحریک سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

ریاستی انتخابات میں نوجوانوں کا غصہ امتحان بن سکتا ہے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی ناراضی کا پہلا بڑا امتحان آئندہ برس اتر پردیش، پنجاب اور گجرات کے ریاستی انتخابات میں سامنے آ سکتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس وقت اتر پردیش اور گجرات دونوں میں برسرِاقتدار ہے۔
اگر سی جے پی خود کو سیاسی جماعت میں تبدیل کر لیتی ہے تو مودی کے لیے زیادہ بڑا خطرہ 2029 کے عام انتخابات ہو سکتے ہیں، تنظیم کے بانی ابھجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ فی الحال انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

نوجوان ووٹرز کے رجحانات بدل رہے ہیں

بعض ماہرین کے مطابق انڈین نوجوان ماضی میں زیادہ تر مذہبی یا ذات پات کی بنیاد پر ووٹ دیتے رہے، جس کا فائدہ مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کو ملتا رہا، تاہم اب یہ رجحان تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
حال ہی میں جنوبی ریاست تامل ناڈو میں ایک اداکار، جو اپنی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے اپوزیشن اتحاد کے تعاون سے انتخاب لڑا، اپنی انسٹاگرام پر مقبول جنریشن زی فین بیس کی بدولت وزیراعلیٰ منتخب ہونے میں کامیاب رہا۔

سیاسی تجزیہ کار امیتابھ تیواری کا کہنا ہے کہ ’آنے والے وقت میں وہی رہنما کامیاب ہوگا جو عوام کی بات سنے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

مصنف انوراگ مائنس ورما کہتے ہیں کہ ’یہ لمحہ وزیراعظم مودی کے لیے ایک بڑی آزمائش ثابت ہوا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت جنریشن زی کی خواہشات سے کس قدر دور ہو چکی ہے۔‘
ان کے مطابق، گزشتہ کئی برسوں تک بی جے پی کی ڈیجیٹل حکمت عملی کا مرکز ایکس رہا، لیکن اب نوجوانوں میں سیاسی گفتگو کا مرکز تیزی سے انسٹاگرام بنتا جا رہا ہے۔

انسٹاگرام پر نئی طاقت

اگرچہ بی جے پی خود کو دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دیتی ہے اور انڈیا کے بیشتر حصوں میں حکومت کر رہی ہے، تاہم کئی برسوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد صرف ایک کروڑ تک پہنچی، جبکہ CJP نے چند ہی دنوں میں 2 کروڑ 20 لاکھ فالوورز حاصل کر لیے۔

وزیر تعلیم کا استعفیٰ کاکروچ جنتا پارٹی کے لیے ایک واضح کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

بی جے پی کے ایکس پر 2 کروڑ 30 لاکھ اور فیس بک پر ایک کروڑ 80 لاکھ فالوورز ہیں، تاہم وزیراعظم مودی کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تینوں پلیٹ فارمز پر 6 کروڑ سے 10 کروڑ 70 لاکھ کے درمیان فالوورز موجود ہیں۔
کالم نگار سنتوش دیسائی کے مطابق ’انسٹاگرام پر کامیابی کے لیے مصنوعی یا پہلے سے تیار شدہ پیغام نہیں بلکہ حقیقی انداز درکار ہوتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم اسی نسل نے بنایا اور مقبول کیا ہے، اور یہی نسل روایتی شخصیات یا اقتدار کے لیے غیر معمولی عقیدت نہیں رکھتی۔‘

مودی کے لیے نئی سیاسی حقیقت

گزشتہ ایک دہائی کے دوران نریندر مودی نے خود کو ایک مضبوط اور فیصلہ کن رہنما کے طور پر پیش کیا، جو شاذ و نادر ہی اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں، جبکہ ان کی حکومت بھی دباؤ کے باوجود وزرا کو ہٹانے سے گریز کرتی رہی ہے۔ 2021 میں بھی متنازع زرعی قوانین واپس لینے سے قبل کسانوں کو تقریباً ایک سال تک احتجاج کرنا پڑا تھا۔
سیاسی تجزیہ کار امیتابھ تیواری کا کہنا ہے کہ ’آنے والے وقت میں وہی رہنما کامیاب ہوگا جو عوام کی بات سنے، اور مودی اب یہی تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

شیئر: