خلیجی ممالک کی صورتحال کے باعث پاکستان میں فضائی آپریشنز شدید متاثر
ہفتہ 28 فروری 2026 16:09
زین علی -اردو نیوز، کراچی
امریکہ اور اسرائیل کے سنیچر کو ایران پر حملوں نے عالمی فضائی نظام کو شدید متاثر کیا ہے اور اس کے اثرات پاکستان تک میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایران، عراق، قطر، کویت اور بحرین سمیت کئی ممالک کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنے فلائٹ آپریشنز معطل یا تبدیل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان سے خلیجی ممالک جانے اور وہاں سے واپس آنے والی پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوا ہے۔ تاہم پی آئی اے کی سعودی عرب کے لیے پروازیں جاری ہیں۔
قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ترجمان عبداللہ خان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پی آئی اے نے علاقائی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور کویت کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ مسافروں اور عملے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ پروازیں فضائی حدود کی بحالی یا سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے تک بند رہیں گی۔
پی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے لیے پروازیں جاری رکھی گئی ہیں، تاہم ایرانی فضائی حدود بند ہونے کے باعث ان کے روٹس تبدیل کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے سفر کا دورانیہ کئی گھنٹے تک بڑھ سکتا ہے اور ایندھن سمیت آپریشنل اخراجات میں اضافہ بھی متوقع ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ ملک کا سب سے بڑا بین الاقوامی فضائی مرکز ہے۔ روزانہ ہزاروں پاکستانی خلیجی ممالک خصوصا دبئی، دوحہ، کویت سٹی اور بحرین کے لیے اسی ایئرپورٹ سے روانہ ہوتے ہیں۔ پروازوں کی اچانک منسوخی کے بعد بڑی تعداد میں مسافر ایئرپورٹ پر پھنس گئے ہیں، جن میں بیرون ملک ملازمت کرنے والے مزدور، خاندان، کاروباری افراد اور ٹرانزٹ کے ذریعے یورپ یا شمالی امریکہ جانے والے افراد شامل ہیں۔
کئی مسافروں کو اپنی نئی بکنگ کے لیے طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے جبکہ بعض افراد کو ہوٹلوں میں قیام بڑھانا پڑا ہے جس سے اضافی مالی بوجھ بھی پڑ رہا ہے۔
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق صرف کراچی سے روزانہ خلیجی ممالک کے لیے درجنوں پروازیں روانہ ہوتی ہیں، جن میں سے بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے۔ اندازہ ہے کہ ایک ہی دن میں ہزاروں مسافروں کی روانگی متاثر ہوئی جبکہ آئندہ چند روز تک صورت حال معمول پر نہ آنے کی صورت میں یہ تعداد کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ بیرون ملک ملازمت کرنے والے پاکستانیوں کے لیے یہ صورت حال خاص طور پر تشویش ناک ہے کیونکہ متعدد افراد کی ملازمتوں کا انحصار بروقت واپسی پر ہوتا ہے۔
لاہور کا علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی اس بحران سے متاثر ہوا ہے۔ پنجاب کے مختلف شہروں سے خلیجی ممالک جانے والے مسافروں کی بڑی تعداد لاہور سے سفر کرتی ہے۔ یہاں متعدد پروازوں کی روانگی موخر ہونے یا منسوخ ہونے کے باعث مسافروں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔ بعض پروازوں کو متبادل فضائی راستوں سے چلانے کے باعث روانگی کے اوقات تبدیل کیے گئے، جس سے مسافروں کو بار بار نئی معلومات حاصل کرنا پڑ رہی ہیں۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی صورت حال تقریباً اسی نوعیت کی رہی۔ شمالی علاقہ جات اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر سے بیرون ملک سفر کرنے والے مسافر زیادہ تر اسی ایئرپورٹ کا رخ کرتے ہیں۔ خلیجی ریاستوں کے لیے پروازیں متاثر ہونے کے باعث یہاں بھی سینکڑوں مسافروں کو انتظار، ری شیڈولنگ اور متبادل فلائٹس کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض بین الاقوامی ایئر لائنز نے اپنی پروازوں کے روٹس تبدیل کرتے ہوئے پاکستان کے اوپر سے طویل راستے اختیار کیے، جس سے پروازوں کی آمد و رفت کے اوقات میں تبدیلی آئی۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے اہم ہوائی اڈے باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پشاور میں بھی خلیجی ممالک کے لیے سفر کرنے والے مسافروں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی۔ اس خطے کے ہزاروں پاکستانی سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات میں ملازمت کرتے ہیں، اس لیے پروازوں کی معطلی نے ان افراد میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ کئی مسافروں نے بتایا کہ انہیں اپنی پروازوں کی نئی تاریخ ملنے تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
جنوبی پنجاب کے ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت فیصل آباد، سیالکوٹ اور دیگر شہروں کے ایئرپورٹس پر بھی صورت حال مختلف نہیں رہی۔ اگرچہ ان شہروں سے پروازوں کی تعداد نسبتاً کم ہوتی ہے، مگر خلیجی ممالک میں کام کرنے والے افراد کی بڑی تعداد انہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔ پروازوں کی منسوخی کے باعث کئی خاندانوں کے سفری منصوبے متاثر ہوئے جبکہ عمرہ یا وزٹ ویزے پر جانے والے افراد کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان سیف اللہ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان کی فضائی حدود مکمل طور پر محفوظ اور فعال ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی فضائی حدود بند ہونے کے بعد مشرق سے مغرب جانے والی بین الاقوامی پروازیں متبادل راستوں کے طور پر پاکستان کے اوپر سے گزر سکتی ہیں، جس سے اوور فلائٹ ٹریفک میں اضافہ متوقع ہے۔ خاص طور پر رات کے اوقات میں ایئر ٹریفک کا دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ایئر ٹریفک کنٹرول نظام اضافی بوجھ سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔
سیف اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہوائی اڈوں پر مختلف ایئرلائنز کی پروازوں کی آمد سے بڑھنے والے رش کی وجہ سے پاکستان کے ایئر اسپیز کو دو گھنٹوں کے لیے روکا گیا تھا۔
ماہرین ہوا بازی کے مطابق ایران کی فضائی حدود کی بندش عالمی فضائی نظام کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہے کیونکہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والی متعدد پروازیں عام طور پر اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ اب ایئرلائنز کو خلیجِ عمان، بحیرہ عرب یا وسطی ایشیا کے طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں جس سے نہ صرف سفر کا وقت بڑھ رہا ہے بلکہ ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
مسافروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ معلومات کی غیریقینی صورت حال ہے۔ کئی افراد کو آخری لمحے پر پرواز منسوخ ہونے کی اطلاع ملی جبکہ کچھ مسافر ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد صورت حال سے آگاہ ہوئے۔ پی آئی اے اور دیگر ایئر لائنز نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانگی سے قبل اپنی پرواز کی تازہ ترین صورت حال ضرور معلوم کریں اور بکنگ میں تبدیلی کے لیے متعلقہ کال سینٹر یا ٹریول ایجنٹ سے رابطہ کریں۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے ٹریول آپریٹر حسان ناصر نے بتایا کہ ’اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو پاکستان سے خلیجی ممالک جانے والی پروازوں پر اثرات طویل ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی آمد و رفت، ترسیلاتِ زر سے وابستہ سفر اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان فضائی رابطہ انتہائی مصروف سمجھا جاتا ہے کیونکہ لاکھوں پاکستانی وہاں مقیم ہیں اور روزانہ بڑی تعداد میں مسافر سفر کرتے ہیں۔
فی الحال حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر تمام ایئرپورٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور کسی قسم کا سکیورٹی خطرہ رپورٹ نہیں ہوا۔ تاہم مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اضافی وقت لے کر ایئرپورٹ پہنچیں، اپنی سفری دستاویزات تیار رکھیں اور ممکنہ تاخیر کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں۔
اس سے قبل علاقائی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایئرپورٹ ٹرمینل میں صرف ٹکٹ رکھنے والے مسافروں کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ شہریوں کو بلاضرورت ایئرپورٹ آنے سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
ایئر پورٹ ذرائع کے مطابق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ہیڈکوارٹر، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے دفاتر کی سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے، جبکہ سول ایوی ایشن کالونی میں صرف ملازمین اور رہائشیوں کی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہو گی۔
