Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’پہاڑوں کا شیر‘: چھ دن لاپتہ رہنے کے بعد نیپالی کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ پر زندہ کیسے ملا؟

کوہ پیما کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے کٹھمنڈو منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ ہوش میں ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
ایک نیپالی کوہ پیما جو دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ پر چھ دن تک لاپتہ رہا اور مردہ سمجھا جا رہا تھا، معجزانہ طور پر زندہ پایا گیا۔ حکام کے مطابق وہ اکیلا رینگتے ہوئے تقریباً بیس کیمپ تک پہنچ گیا۔
فرانسیسی نیوز اینسی اے ایف پی کے مطابق اس کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ اس کے لیے آخری رسومات کی دعائیں شروع کر چکی تھیں، لیکن اب کٹھمنڈو کے ہسپتال میں وہ ہوش میں ہے اور صرف ’فراسٹ بائٹ‘ کا علاج جاری ہے۔
دوا شیرپا، جو پچاس برس کے لگ بھگ ہیں اور ’ہیلری‘ کے نام سے مشہور ہیں، 30 مئی کو ایورسٹ کی بلندیوں پر شدید سرد موسم میں لاپتہ ہو گئے تھے۔ جمعرات کی صبح انہیں ساگرماتھا پولیوشن کنٹرول کمیٹی کے اہلکاروں نے بیس کیمپ کے قریب رینگتے ہوئے پایا۔
انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے کٹھمنڈو منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ ہوش میں ہیں اور علاج جاری ہے۔ ان کی اہلیہ دمو شیرپا نے کہا کہ ’ہم نے امید چھوڑ دی تھی، لیکن اب خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔‘ بیٹی میندو لہمو شیرپا نے بتایا کہ پہلے یقین نہیں آیا، لیکن تصاویر دیکھ کر خوشی ہوئی۔
پہاڑوں کا شیر
برطانوی سابق میرین کرس تھرال نے بتایا کہ وہ 29 مئی کو دوا شیرپا کے ساتھ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچے تھے۔ انہوں نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں انہیں ’پہاڑوں کا شیر‘ اور ’انتہائی نرم دل انسان‘ کہا۔
تھرال نے بیان کیا کہ 30 مئی کو جب وہ کیمپ فور سے نیچے اتر رہے تھے تو دوا شیرپا آرام کے لیے بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے پوچھا، بھائی ہیلری، سب ٹھیک ہے؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں ہاں، تم آگے بڑھو۔‘
اسی دوران تھرال کو ایک پولینڈ کے کوہ پیما ملے جو آکسیجن ختم ہونے اور فراسٹ بائٹ کا شکار تھے۔ مشکل حالات میں انہوں نے اپنا آکسیجن سلنڈر اس کے ساتھ بانٹا اور گیارہ گھنٹے میں کیمپ تھری تک پہنچے، جو عام طور پر دو گھنٹے کا سفر ہے۔

اس موسم میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں دو انڈین اور تین نیپالی شامل ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

مشکل ترین موسم
تلاش کرنے والی ٹیمیں دوا شیرپا کو ڈھونڈتی رہیں لیکن وہ جمعرات کی صبح تک نظر نہ آئے۔ وہ خود ہی نیچے اترتے رہے۔ اس سال کے آخر میں یہ آخری چند کوہ پیمائیوں میں سے ایک تھی، اس لیے پہاڑ پر کم لوگ موجود تھے۔
اس موسم میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں دو انڈین اور تین نیپالی شامل ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار سے زائد کوہ پیما اس سال ایورسٹ کی چوٹی تک پہنچے، جو تاریخ کا سب سے مصروف موسم ثابت ہوا۔

 

شیئر: