’ٹک ٹاکر آگئی‘: سوشل میڈیا پر اسلام آباد کے مسائل اجاگر کرنے والی طالبہ
’ٹک ٹاکر آگئی‘: سوشل میڈیا پر اسلام آباد کے مسائل اجاگر کرنے والی طالبہ
پیر 20 جولائی 2026 5:59
باسط خان -اردو نیوز، اسلام آباد
غوری ٹاؤن کی رہائشی اور میڈیا سائنسز کی طالبہ صبا عابد گزشتہ ایک سال سے اسلام آباد کے مختلف علاقوں کے شہری مسائل پر مختصر ویڈیوز بنا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کئی ویڈیوز کے بعد متعلقہ اداروں نے کارروائی کی تاہم اس دوران انہیں طنزیہ رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اکثر نوجوان سوشل میڈیا کو تفریح، وائرل ٹرینڈز اور ذاتی اظہار کا ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن اسلام آباد کے علاقے غوری ٹاؤن سے تعلق رکھنے والی میڈیا سائنسز کی طالبہ صبا عابد نے اسی پلیٹ فارم کو شہری مسائل اجاگر کرنے اور متعلقہ اداروں تک عوام کی آواز پہنچانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
گزشتہ ایک سال سے وہ ٹوٹی سڑکوں، کھلے مین ہولز، خراب انفراسٹرکچر، میٹرو بس کی سہولیات اور دیگر شہری مسائل پر اپنے موبائل فون سے مختصر ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہی ہیں۔ ان کی متعدد ویڈیوز سامنے آنے کے بعد متعلقہ اداروں نے مختلف مقامات پر کارروائی بھی کی۔
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صبا عابد نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں ویڈیوز بنانے سے بہت خوف آتا تھا کیونکہ لوگ انہیں مختلف طریقوں سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ایک مختلف راستہ اختیار کر رہی ہیں تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔
ان کے مطابق یونیورسٹی آتے جاتے وہ خود روزانہ مختلف شہری مسائل کا سامنا کرتی تھیں اور انہیں حیرت ہوتی تھی کہ ان مسائل پر کوئی آواز کیوں نہیں اٹھاتا جس کے بعد انہوں نے خود ایسے موضوعات پر ویڈیوز بنانا شروع کر دیں۔
ان کی پہلی ویڈیو اسلام اباد کی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے قریب صفائی کے مسئلے پر تھی۔ بقول صبا عابد کہ وہاں سے گزرنا بدبو کی وجہ سے مشکل ہو گیا تھا، اس لیے انہوں نے اس صورتحال کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ چند روز بعد متعلقہ اداروں نے وہاں صفائی کا کام کیا، جس سے انہیں احساس ہوا کہ سوشل میڈیا کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو اس کے ذریعے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
صبا عابد عوامی مسائل رپورٹ کرنے کے لیے اسلام آباد کے دور درواز علاقوں میں جاتی ہیں (فوٹو: اردو نیوز)
وہ کسی بھی مسئلے پر ویڈیو بنانے سے پہلے اخبارات اور مختلف ویب سائٹس دیکھتی ہیں اور سوشل میڈیا پر موجود عوامی شکایات کا جائزہ لیتی ہیں جو انہیں ’کومنٹ سیکشن‘ میں بتایا جاتا ہے ۔ اگر انہیں اپنے سوشل میڈیا پر کسی مقام کے بارے میں متعدد شکایات سامنے آئیں تو وہ خود وہاں جا کر صورتحال دیکھتی ہیں اور پھر ویڈیو ریکارڈ کرتی ہیں۔
صبا عابد کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کے کام کو لوگوں نے سراہا بھی ہے لیکن انہیں میدان میں کام کرتے ہوئے مشکلات اور ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق جب وہ مختلف مقامات پر ویڈیو بنانے جاتی ہیں تو بعض لوگ انہیں دیکھ کر ’ٹک ٹاکر آگئی‘ جیسے جملے کہتے ہیں جبکہ کچھ افراد جان بوجھ کر ریکارڈنگ میں مداخلت کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ اکیلے ویڈیوز بناتی تھیں، لیکن ایسے تجربات کے بعد اب اکثر اپنی والدہ یا بھائی کو ساتھ لے کر جاتی ہیں۔
وہ کسی بھی مسئلے پر ویڈیو بنانے سے پہلے اخبارات اور مختلف ویب سائٹس دیکھتی ہیں (فوٹو: اردو نیوز)
ان کے مطابق ضیا مسجد کے قریب پل پر ہونے والے حادثات سے متعلق ویڈیو کے بعد متعلقہ ادارے نے کارروائی کی جبکہ اسلام آباد میٹرو بس سے متعلق ان کی ویڈیوز کے بعد خراب ایسکلیٹر، لفٹس اور خواتین کے حصے میں موجود بعض مسائل بھی حل کیے گئے۔ ’جب بھی کسی ویڈیو کے بعد متعلقہ انتظامیہ کارروائی کرتی ہے تو وہی ان کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔‘
صبا عابد سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ سوشل میڈیا سے آمدنی حاصل کرتی ہیں یا کسی سے پیسے لے کر ویڈیوز بناتی ہیں۔ ’میں نہ کسی سے معاوضہ لے کر کسی مسئلے پر ویڈیو بناتی ہوں اور نہ ہی میرا مقصد مالی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ میں صرف انہی مسائل پر بات کرتی ہوں جن کا سامنا وہ خود یا عام شہری روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں۔‘
سوشل میڈیا پر صبا عابد کے کام کو سراہا جا رہا ہے (فوٹو: اردو نیوز)
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں احتجاج یا دھرنوں سے پہلے سوشل میڈیا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے جس کے ذریعے عوام اپنی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ ’نوجوانوں، خصوصاً جین زی کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کو صرف وائرل ہونے یا تفریح کے لیے استعمال نہ کریں بلکہ ایسا مواد تیار کریں جس سے معاشرے اور عام لوگوں کو حقیقی فائدہ پہنچے۔‘
صبا عابد نے اپنی سوشل میڈیا پروفائل پر ای میل ایڈریس بھی درج کر رکھا ہے جہاں شہری انہیں اپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کرتے ہیں۔ وہ ان شکایات کی تحقیق کے بعد موقع پر جا کر ویڈیوز بناتی ہیں تاکہ متعلقہ اداروں کی توجہ ان مسائل کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔