Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپین ہی تاج کا مستحق تھا: عامر خاکوانی کا کالم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھلاڑیوں کو میڈلز پیش کیے (فوٹو: اے ایف پی)
19 جولائی، ورلڈکپ فائنل کی رات نیو جرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم میں 80 ہزار سے زیادہ تماشائی موجود تھے اور ان کی بھاری اکثریت میسی کی نمبر 10 والی شرٹ پہنے بیٹھی تھی۔ سب ایک ہی منظر دیکھنے آئے تھے، اپنے ہیرو کے قدموں میں گیند اور سامنے کھلا میدان۔
اس فائنل میں مگر جو منظر بار بار دکھائی دیا وہ کچھ اور تھا۔ دنیا کا سب سے بڑا کھلاڑی، اپنے کیریئر کے آخری اور سب سے بڑے میچ میں، گیند کو ترس گیا۔ کیمرہ اسے ڈھونڈتا تو وہ گول سے 70 میٹر دور کھڑا ہاتھ ہلا کر گیند مانگ رہا ہوتا۔ پہلے 10 منٹ میں پوری دنیا کے سامنے اس نے گیند کو صرف ایک بار چھوا۔ ایک بار۔ پہلے ہاف میں میسی کے کل 15 ٹچ تھے، 19 سالہ یمال کے 26۔
سپین نے اس رات دنیا کو سکھایا کہ فٹبال کی سب سے ظالم دیوار وہ نہیں جو اپنے گول کے آگے کھڑی کی جائے، وہ ہے جو حریف کے سب سے بڑے کھلاڑی اور گیند کے درمیان کھڑی کر دی جائے۔ اور پھر ایک سو چھ ویں منٹ میں فیران تورس نے وہ دروازہ توڑ دیا جس پر سپین پوری رات دستک دیتی رہی تھی۔ ایک صفر۔ اور سپین فٹ بال ورلڈ چیمپیئن۔
ضبط بمقابلہ جنون
یہ فائنل دو ٹیموں سے زیادہ دو فلسفوں کا مقابلہ تھا۔ سپین سات میچوں میں صرف ایک گول کھا کر، ایک منٹ کے لیے بھی پیچھے ہوئے بغیر، فائنل تک پہنچی تھی۔ ارجنٹائن کا راستہ اس کے بالکل الٹ تھا۔ کیپ ورد اور سوئٹزرلینڈ کے خلاف ایکسٹرا ٹائم، مصر کے خلاف 78ویں منٹ پر دو صفر سے پیچھے ہو کر ناقابل یقین واپسی، انگلینڈ کے خلاف 50ویں منٹ پر پیچھے ہونے کے بعد رکے وقت میں فتح۔ ارجنٹائن تاریخ کی صرف دوسری ٹیم تھی جو کسی ناک آؤٹ میچ میں 90 منٹ پر آگے ہوئے بغیر فائنل تک پہنچی۔ ایک طرف ضبط، دوسری طرف جنون۔ نیو جرسی میں فیصلہ ہو گیا کہ دنیا اس بار ضبط اور کنٹرول کی ہے۔

39 برس کے میسی نے ورلڈ کپ میں آٹھ گول کیے (فوٹو: اے ایف پی)

96 برس میں پہلی بار
فیصلہ پہلے ہاف سے ہی لکھا جانے لگا تھا۔ سپین کا قبضہ 64 فیصد، 90 فیصد پاس مکمل، اور ارجنٹائن کے کھاتے میں گول پر کوششیں صفر۔ صفر کا یہ ہندسہ رات گئے تک پیچھا کرتا رہا اور بالآخر تاریخ بن گیا۔ آپٹا کے اعداد و شمار کے مطابق ارجنٹائن ورلڈ کپ کی 96 سالہ تاریخ کی پہلی ٹیم بنی جس نے فائنل کے پورے 90 منٹ میں ایک بھی شاٹ نہیں لگایا۔ 23 فائنل ہو چکے تھے، یہ کارنامہ کسی نے نہیں کیا تھا۔ ایکسٹرا ٹائم میں البتہ آخری منٹوں میں ارجنٹائن نے تھوڑے بہت ہاتھ پاؤں مارےمگر تب بہت دیر ہوچکی تھی۔
فیفا کے آفیشل اعدادوشمار اس برتری کو مزید واضح کرتے ہیں۔ سپین نے پورے میچ میں 20 شاٹس لیے جبکہ ارجنٹائن صرف دو تک محدود رہا اور دونوں گول سے باہر گئے۔ پاسنگ میں بھی فرق حیران کن تھا۔ سپین نے 858 پاسز کیے جن میں 774 کامیاب رہے، جبکہ ارجنٹائن صرف 456 پاسز کر سکا جن میں بمشکل 357 درست تھے۔ سکور اگرچہ صرف ایک صفر تھا مگر کھیل کے اعدادوشمار کہیں زیادہ یکطرفہ مقابلے کی گواہی دے رہے ہیں۔
شیطانی معصومیت کی قیمت
ارجنٹائن کے پاس جواب میں جو ہتھیار تھا وہ پرانا اور جانا پہچانا تھا۔ جارحیت، بلکہ حساب کتاب والی جارحیت۔ سپین کے کھلاڑی بار بار گرائے گئے، یمال خاص نشانے پر رہا۔ اصل تماشا فاؤل کے بعد شروع ہوتا۔ ارجنٹائن کے کھلاڑی پوری دنیا کی نظروں کے سامنے رف ٹف ٹیکل کر کے حریف کو گراتا اور اگلے لمحے ایسی معصوم صورت بنا کر ریفری کے آگے ہاتھ جوڑنے لگتا جیسے اس سے شریف بچہ گراؤنڈ میں کوئی نہ ہو۔ اس شیطانی فیک معصومیت پر غصے کے بجائے ہنسی آتی تھی۔ یہ فن انہیں ورثے میں ملا ہے، یہ اسی میراڈونا کے وارث ہیں جس نے ہاتھ سے گول کر کے اسے ہینڈ آف گاڈ کہا تھا۔

فینز فائنل میچ میں ہاف ٹائم شو سے محظوظ ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

ہر جوے کی مگر حد ہوتی ہے۔ پاریدس بچ گیا، میک الیسٹر بچ گیا، مگر ایکسٹرا ٹائم سے تھوڑا پہلے آخری منٹوں میں اینزو فرنانڈز نے، جو پہلے ہی ییلو کارڈ لے چکا تھا، اس نے کوبارسی کو گرا دیا اور ریفری ونچچ کے پاس کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔ دوسرا پیلا کارڈ یعنی ریڈ کارڈ بن گیا۔ ریڈ کارڈ لینے والا کھلاڑی وہ میچ نہیں کھیل سکتا، اسے اسی لمحے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔ یوں فرانڈز ورلڈ کپ فائنل کی تاریخ کا چھٹا ایسا کھلاڑی بنا جو ریڈ کارڈ لے کر آؤٹ ہو گیا۔ جس تلوار سے پورا میچ سپین کی روانی کاٹی جاتی رہی، آخری لمحوں میں وہ اپنے ہی بازو پر آ گری۔ چار برس پہلے قطر میں یہی اینزو ٹورنامنٹ کا بہترین نوجوان کھلاڑی قرار پایا تھا۔ تاج سے تعزیر تک کا سفر چار برس میں طے ہوا۔
فٹبال میں ’سپر باؤل‘ کی آمد
اس فائنل میں ایک منظر ایسا بھی تھا جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ہاف ٹائم پر باقاعدہ شو ہوا۔گلوکار جسٹن بیبر، میڈونا، شکیرا اور بی ٹی ایس بینڈ جیسے ناموں کے ساتھ، آتش بازی الگ۔ یہ سیدھا سیدھا امریکی سپر باؤل کا نسخہ ہے جہاں ہاف ٹائم شو کبھی کبھی میچ سے بڑی خبر بن جاتا ہے۔
سپر باؤل دراصل لوکل امریکی فٹ بال جو رگبی سے ملتی جلتی ہے، اس کے فائنل کو کہتے ہیں۔ اس کے ہاف ٹائم میں بڑا شو ہوتا ہے، موسیقی، ٹاپ فن کار۔ لاکھوں امریکی اپنے گھروں میں گیٹ ٹو گیدرنگ کرتے، بڑے ڈنر کرتے اور ’سپر باؤل‘کا لطف اٹھاتے ہیں۔
فیفا نےاس بار امریکی میزبانی کی وجہ سے شاید ایسا کیا۔ حمایت والے کہتے ہیں کہ کھیل اب عالمی تماشا ہے، اربوں ناظرین میں کروڑوں وہ بھی ہیں جو شکیرا اور بی ٹی ایس کے لیے ٹی وی کھولتے ہیں، اور اس بہانے فٹبال امریکہ جیسی منڈی میں گھر کر جائے تو سودا برا نہیں۔
مخالف کہتے ہیں کہ فٹبال کا ہاف ٹائم 15 منٹ کا ہوتا ہے، کھلاڑیوں کے اعصاب اسی سے بندھے ہیں، اسے کھینچ کر تماشے کی نذر کرنا کھیل کی روح سے کھلواڑ ہے۔
خاکسار کا خیال ہے کہ یہ بحث اب علمی ہی رہے گی، جو چیز امریکہ میں ایک بار بک جائے وہ پھر ہر جگہ بکتی ہے۔ سیاست بھی تماشے سے باہر نہ رہی، صدر ٹرمپ فیفا سربراہ انفنٹینو کے پہلو میں بیٹھے رہے، ٹرافی خصوصی طور پر ان کے باکس میں لائی گئی اور انہوں نے اسے یوں چھوا جیسے اپنی ہی چیز ہو، اور اختتام پر فاتحین کو ٹرافی بھی انہی کے ہاتھوں ملی۔

سپینش فینز کی خوشی ناقابل بیان تھی (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستانی اس بار سپین کے ساتھ تھے
ایک دلچسپ تبدیلی اس بار اپنے ہاں پاکستان میں دیکھنے کو ملی۔ ہمارے ہاں فٹبال کے دو ہی بڑے قبیلے رہے ہیں، برازیل والے اور ارجنٹائن والے اور میسی کے عشق نے ارجنٹائن کا پلڑا بھاری کر رکھا تھا۔ ایک اور گروپ البتہ رونالڈو فینز اور میسی فینز کا ہے، مگر ورلڈ کپ فٹبال میں پرتگال ہمیشہ ہی غیر اہم اور غیر موثر رہا ہے، اس لیے ورلڈ کپ میں میسی زیادہ نمایاں اور مقبول رہا ہے۔
اس ورلڈ کپ میں مگر سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد سپین کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ اس کے پیچھے دو عوامل صاف محسوس ہوئے۔ ایک تو غزہ کے زخموں کے بعد ارجنٹائن اور خود میسی کے بارے میں پرو اسرائیل ہونے کا تاثر گہرا ہو چکا ہے، جبکہ رونالڈو کے بارے میں ہمیشہ فلسطین سے ہمدردی کا تاثر رہا۔
دوسرا فیکٹر ٹورنامنٹ کے اندر سے نمودار ہوا۔ مصر کے خلاف ریفری کے فیصلے جس انداز میں ارجنٹائن کے حق میں جاتے محسوس ہوئے، اور سوئٹزرلینڈ کے خلاف بھی ملتی جلتی شکایات اٹھیں، تو بہت سوں نے کھلے عام کہنا شروع کیا کہ ارجنٹائن فیفا کا چہیتا بچہ ہے۔ مصر مسلم دنیا کی ٹیم تھی، وہ زخم گہرا لگا۔ نتیجہ یہ کہ جس ملک میں کبھی میسی کے پوسٹر بکتے تھے، وہاں فائنل کی رات لاکھوں لوگ سپین کی جیت کی دعا مانگ رہے تھے اور ان کی دعا قبول ہوئی۔
بینچ کی جنگ اور تنہا دیوار
دوسرے ہاف میں سپین کے کوچ ڈی لا فیونتے نے وہ پتہ کھیلا جو انہوں نے بچا رکھا تھا، پیدری۔ بارسلونا کا نفیس مڈفیلڈر تازہ ٹانگوں کے ساتھ اس مڈفیلڈ میں اترا جہاں ارجنٹائن کے کھلاڑی گھنٹے بھر سے دوڑ دوڑ کر ہلکان تھے، اور آتے ہی گول پر براہ راست کوشش کرا دی۔ پھر تورس آیا، پھر نیکو ولیمز اور مرینو۔ تازہ چھریاں تھکے حریف پر۔ ادھر گول میں ایک آدمی تن تنہا قوم بنا کھڑا تھا۔ ایمیلیانو مارٹینز نے اس رات 12 سیوز کیں۔ پیدری کو روکا، کوبارسی کو روکا، نیکو ولیمز کو روکا، تورس کا ہیڈر دبوچا، اور ایکسٹرا ٹائم سے قبل آخری لمحے میں یمال کی وہ فری کک اڑ کر روکی جس پر آدھا سٹیڈیم گول کا نعرہ لگا چکا تھا۔

فینز ارجنٹینا فٹبال ٹیم کی شکست پر غمگین تھے (فوٹو: اے ایف پی)

سپین پورا میچ جیتتی رہی اور ڈیبو مارٹینز پورا میچ اکیلا بچاتا رہا۔ ہارنے والی ٹیم کا کیپر شاید ہی کبھی کسی فائنل میں اتنا بڑا ہو کر نکلا ہو۔ آخر ایکسٹرا ٹائم میں وہ بے بس ہوگیا، مگر یہ تو ہونا ہی تھا۔ اکیلا جنگجو کب تک لڑ سکتا ہے۔ ارجنٹائن کے گول کیپر نے مگر فائنل میچ میں اپنی کارکردگی سے شائقین سے عزت اور توقیر سمیٹ لی۔
ویسے سپین کی کامیابی صرف حملے میں نہیں، مڈفیلڈ اور دفاع میں بھی مکمل تھی۔ سپین کا کپتان اور مڈفیلڈر روڈری اس پورے نظام کا دھڑکتا ہوا دل تھا۔ اعدادوشمار کے مطابق اس نے 13 کلومیٹر کے قریب دوڑ لگا کر کھیل کی رفتار اپنے ہاتھ میں رکھی، یہ بے پناہ فٹنس کی شاندار مثال ہے۔نوجوان سنٹر بیک پاؤ کوبارسی نے 126 پاسز کھیل کر ثابت کیا کہ جدید فٹبال میں دفاع حملے کی پہلی اینٹ ہوتا ہے۔ یہی مسلسل گیند پر قبضہ ارجنٹائن کی سب سے بڑی بے بسی بن گیا۔
سولہ برس بعد وہی کہانی
11 تازہ کھلاڑیوں کے سامنے 10 تھکے جسم کب تک کھڑے رہتے۔ ایکسٹرا ٹائم کے دوسرے حصے میں، ایک سو چھ ویں منٹ میں متبادل فیران تورس فیصلہ کن ثابت ہوا اور گیند بالآخر ارجنٹائن کے جال میں تھی۔ جو کام ابتدائی میچ الیون نہ کر سکے، وہ بینچ نے کر دکھایا۔
اسی میں ڈی لا فیونتے کی فتح کا راز ہے، اس نے میچ صرف میدان میں نہیں، بینچ پر بھی جیتا۔ اور یوں 16 برس بعد سپین دوبارہ دنیا کے تخت پر بیٹھ گئی۔ 2010 والی کہانی حیرت انگیز طور پر دہرائی گئی، تب بھی بڑا ٹائٹ قسم کا فائنل تھا، تب بھی حریف ٹیم کا کھلاڑی نکالا گیا تھا، تب بھی فیصلہ ایکسٹرا ٹائم میں ہوا تھا۔ فرق صرف اتنا کہ انیستا کی جگہ اس بار تورس کا نام لکھا گیا۔
سپین ورلڈ کپ کی ایک صدی کے لگ بھگ تاریخ کی صرف چوتھی ٹیم بنی جس نے پورے ٹورنامنٹ میں ایک منٹ بھی پیچھے ہوئے بغیر کپ اٹھایا، اس سے پہلے یہ اعزاز صرف اٹلی نے 1938 اور 1982 میں، اور جرمنی نے 1990 میں پایا تھا۔
19 برس کا لامین یمال، ورلڈ کپ اور یورو دونوں کے فائنل کھیلنے والا پہلا نوجوان، اب دونوں کے تمغے گلے میں ڈالے کھڑا تھا۔ مشعل ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں چلی گئی، پوری دنیا کے سامنے، براہ راست نشریات میں۔

سٹیڈیم فٹبال شائقین سے بھرا ہوا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

آنسو، تاج اور آخری سبق
میسی کے لیے دل دکھتا ہے۔ 39 برس کی عمر میں آٹھ گول کر کے وہ اپنی ٹیم کو یہاں تک لایا، مگر فائنل کی رات اس کی ٹیم اس کے قدموں تک گیند نہیں پہنچا سکی۔ عظمت پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، 2022 کا تاج اس کے سر پر ہمیشہ رہے گا۔
میسی آنسو ٹپکاتا ہوا گراؤنڈ سے رخصت ہوا۔ کھیل کا اصول مگر بے رحم ہے، وہ کسی کے آنسوؤں پر نہیں، اس رات کے کھیل پر فیصلہ دیتا ہے۔ اور اس رات کھیل صرف ایک ٹیم نے کیا۔ سکور صرف ایک صفر تھا، لیکن اگر کوئی شخص صرف میچ کے اعدادوشمار دیکھے تو اسے گمان ہوگا کہ سپین نے دو یا تین گول کے فرق سے کامیابی حاصل کی ہوگی۔
بادشاہ خالی ہاتھ واپس گیا
ہماری تو دعا ہے کہ یہ کھیل ہمارے اپنے ملک میں بھی کبھی ایسا پروان چڑھے کہ ہمارے بچے صرف دوسروں کے جھنڈے نہ اٹھائیں، اپنا جھنڈا بھی کسی ورلڈ کپ میں لہرا سکیں، آمین۔
باقی رہا ہمارا گھر، تو ہمارے چھوٹے صاحبزادے عبداللہ صاحب پرتگال کے غم سے پہلے ہی نڈھال تھے، اب میسی کے مداحوں کو روتا دیکھ کر ان کا کلیجہ شاید ٹھنڈا ہوا، صبر اور شکر کی ملی جلی کیفیت تھی ۔ کہنے لگے، بابا ،رونالڈو کم از کم اس طرح نہیں ہارا تھا۔ میں نے کہا، بیٹا، فٹبال میں بڑے سے بڑا بادشاہ بھی آخر میں پیدل اور خالی ہاتھ ہی گھر جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اب جو بادشاہ بنا، وہ موروثی نہیں بلکہ میرٹ پر شاندار طریقے سے جیتا۔ برا پرفارم کرنے والا مایوس ہی واپس جاتا ہے۔
سچ تو یہ کہ فٹبال میں آخرکار نام نہیں، کارکردگی فیصلہ کرتی ہے۔ اور فائنل کی رات سپین واقعی تاج کا سب سے بڑا مستحق تھا۔

شیئر: