Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سُفرہ: سعودی ضیافت: کوالالمپور بُک فیئر‘ میں مملکت کے کھانوں کی دھوم

سعودی پویلین کو بک فیئر میں ’اعزازی مہمان‘ کی حیثیت دی گئی ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کا طباخی آرٹس کمیشن، کوالالمپور کے ’انٹرنیشنل بُک فیئر‘ میں سعودی عرب کے طعام اور مشروبات کے ماہرانہ فن کے ورثے کو ایسی کتابوں کے ذریعے لوگوں کے سامنے لایا ہے جن میں کھانے پکانے کے فن کو مملکت کی ثقافتی شناخت کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔
بُک فیئر میں قائم سعودی پویلین سے جاردی کردہ ایک مشہور کتاب کا نام ’سُفرہ: سعودی ضیافت‘ ہے جسے مملکت کے طباخی وراثت کے انیشیٹیو کے تحت شائع کیا گیا ہے۔ (سُفرہ، عربی میں کھانے کی میز پر رکھے گئے کپڑے یا خود اُس میز کو کہتے ہیں جس پر کھانا پیش کیا جائے)۔
اِس کتاب میں مملکت کے 13 علاقوں کی کھانے پکانے کی راویتوں کا دستاویزی ریکارڈ ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اِس کتاب کو2024 میں، عرب طباخی کے بہترین طریقوں کی کتاب کی کیٹیگری میں دو ’گورمونڈ ایوارڈ‘ مل چکے ہیں۔
سعودی پویلین کو بک فیئر میں ’اعزازی مہمان‘ کی حیثیت دی گئی ۔ اِس پویلین کے ذریعے القصیم ریجن میں کھانے پکانے اور ثقافتی وراثت کی تلاش کے سلسلے میں ’بریدہ‘  کا بالخصوص ذکر ہے اور شہر کے اُس سفر کے بارے میں جاننے کی کوشش کی گئی جسے طے کر کے یہ یونیسکو کے ’فنِ طعام و مشروبات‘ کے تخلیقی شہر کے درجے پر فائز ہوا۔

یہ خلیجی ممالک کا پہلا جبکہ عرب دنیا کا دوسرا ایسا شہر ہے جسے یونسیکو کے تخلیقی شہروں میں سے ایک کا اعزاز ملا ہے۔
عربی زبان کے لیے ’کنگ سلمان گلوبل اکیڈمی‘ بھی عربی زبان اور اِس کی عالمی حیثیت اور موجودگی سے متعلق اپنے منصوبوں اور اقدامات کی نمائش کی۔
سعودی پویلین میں آنے والوں کو اجازت تھی کہ وہ عربی نہ جانے والوں کے لیے، اکیڈمی کے عربی زبان کی تدریسی پروگراموں، کوالیفیکیشن کے انیشیٹیوز اور عربی زبان کے ڈیجیٹل مواد کی تعمیروترقی کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔

کوالالمپور بک فیئر میں وہ اہم انیشیٹیوز جو نمائش پر ہیں اُن میں ریاض ڈکشنری بھی ہے جس میں معاصر عربی الفاظ کا اندارج ہے، زبان سیکھنے والوں کے لیے پروگرام، عربی کی مہارت، حمزہ اکیڈمی ٹیسٹ جس کے ذریعے جدید سائنسی معیار سے زبان پر عبور کو جانچا جاتا ہے اور عربی نہ جاننے والوں کے لیے انٹرایکٹیو مواد کے ذریعے زبان سکھانے کے طریقے بھی شامل ہیں۔
دریں اثنا، اِسی بک فیئر کے دوران سعودی عرب اور ملیشیا کی ٹرانسلشین ایسوسی ایشنوں نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
اس یادداشت کا مقصد، ترجمے اور طباعت کے میدان میں تعاون کو بڑھانا، ثقافتی اور علمی تبادلوں کو فروغ دینا اور باہمی دلچپسی کے سائنسی اور تعلیمی انیشیٹیوز پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔

بک فیئر میں مملکت کی وسیع ثقافتی اور فکری موجودگی کی قیادت ’لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن کمیشن‘ کر رہا ہے۔ بک فیئر اتوار 7 جون کو اختتام پذیر ہوگیا۔
بک فیئر کے سعودی پویلین میں لوگوں کی بڑی تعداد شرکت کی، جس میں سرکاری اہلکار، ثقافت سے وابستہ شخصیات اور میڈیا کے پروفیشنل شامل ہیں جو سعودی ثقافت کے مواد میں بہت دلچپسی کا اظہار کر رہے ہیں جس سے مملکت کے ثقافتی منظر کے تنوع کا اظہار ہوتا ہے۔

بڑے ایونٹ کے ساتھ منقعد ہونے والی دیگر تقریبات میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد شریک رہی۔ اِن تقریبات میں خاص طو پر ثقافتی سیمنار شامل ہیں جن میں سعودی سپیشلسٹ، ادب، ترجمے، ثقافت اور سعودی عرب اور ملیشیا کے درمیان تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اِس کے علاوہ انٹرایکٹیو کارنر میں آنے والوں کو سعودی فنون اور وراثت سے متعارف کرایا جاتا رہا۔

 

شیئر: