دوحہ بک فیئر میں سعودی ادب اور ثقافتی ورثے کی نمائش
دوحہ بک فیئر کا 35 واں ایڈیشن 23 مئی تک جاری رہے گا ( فوٹو: ایس پی اے)
ریسرچ اور آرکائیوز کے لیے قائم کنگ عبدالعزیز فاؤنڈیشن، جسے دارۃ الملک عبدالعزیز بھی کہتے ہیں، دوحہ کے بین الاقوامی کتاب میلے میں سعودی پویلین لگا کر شرکت کر رہی ہے۔
مملکت کی جانب سے یہ شرکت دارۃ الملک عبدالعزیز کے اُس ارادے کی غماضی کرتی ہے جس کے تحت سعودی تاریخ اور ثقافتی ورثے کو فروغ دینا اور بین الاقوامی سطح پر مملکت کی ثقافتی موجودگی کو بین الاقوامی سطح پر مضبوط بنانا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق کتاب میلے کا 35 واں ایڈیشن 23 مئی تک جاری رہے گا جس میں 515 سے زیادہ ناشر اور 36 ممالک سے کئی ادارے بھی شریک ہوں گے۔
دارہ کی جانب سے دوحہ کے کتاب میلے میں عالمانہ، تاریخی اور ثقافتی اشاعتوں کا انتخاب پیش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ دارۃ الملک عبدالعزیز کے علمی منصوبے اور آرکائیوز ہوں گے جو محققین اور علما کے لیے سعودی تاریخ کے تحفظ اور اسے دستاویزی بنانے سے تعلق رکھتے ہیں۔
دارۃ کی اِس ایونٹ میں شرکت، اُس کے عزم کا ایک اظہار بھی ہے جس کے تحت تاریخ کا دائرہ وسیع کرنا اور مملکت کی تاریخی یادداشت کی حفاظت کرنا ہے۔

اس کے علاوہ دارۃ الملک عبدالعزیز، دنیا بھر کے سیاحوں اور اداروں کے لیے ثقافتی تبادلوں کو بھی پروان چڑھانے میں کوشاں ہے۔
اسلامی امور کی وزارت بھی دوحہ کے کتاب میلے میں شریک ہوگی جہاں سعودی عرب کی اُن کوششوں کو لوگوں کے سامنے لایا جائے گا جو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے مختلف اشاعتوں اور مسودوں کی تیاری کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔

ان کوششوں میں انٹرایکٹیو تعلیمی اور ڈیجیٹل مواد کو بھی کتاب میلے کے دوران سعودی پویلین کے ذریعے پیش کیا جائے گا۔
’دا لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن کمیشن‘ نے دوحہ کے کتاب میلے میں 14 مئی کو سعودی پویلین کا افتتاح کیا تھا جس کے ذریعے پبلشنگ اور ثقافت کے عالمی افق پر سعودی عرب کی موجودگی کو تقویت مل رہی ہے۔

سی ای او عبدالطیف الوصل کا کہنا ہے کہ |’کمیشن کا مقصد سعودی ادب اور محققانہ تخلیقات کو آگے بڑھانا اور مملکت کے پبلشنگ اور ٹرانسلیش کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’اِس مقصد کا حصول کلچرل پروگراموں کے ذریعے ہوگا جس میں پینلز پر مشتمل بحثیں اور شعر و شاعری کی شامیں منعقد ہوں گی جہاں سعودی مصنف اور دانشور، ادب، نشر و اشاعت اور تراجم جیسے اہم معاملات پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔‘
