سعودی کابینہ: مملکت میں تیل کی تنصیبات پر ایران سے وابستہ دہشت گرد ملیشیا کے حملوں کی مذمت
منگل 28 جولائی 2026 20:11
سعودی کابینہ نے یمن اور عراق میں ایران سے وابستہ دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے مملکت کے ریاض اور مشرقی علاقوں میں تیل کی تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس منگل کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں ہوا جس میں علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے آغاز میں ولی عہد نے اراکین کابینہ کو کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنھم کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے آگاہ کیا۔
ٹیلی فونک رابطوں میں خطے کی تازہ ترین صورتحال، علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے حوالے سے کی جانے والی مشترکہ کوششوں پر بات کی گئی۔
کابینہ نے یمن اور عراق میں ایران سے وابستہ دہشتگرد ملیشیا کی جانب سے ریاض اور مشرقی ریجن میں تیل کی تنصیبات اور بحیرہ احمر میں کمرشل جہازوں پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کی۔

اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی، قومی مفادات اور اہم تنصیبات کے تحفظ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا اور کسی بھی جارحیت کا بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق جواب دیا جائے گا۔
کابینہ نے عراقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین کو کسی بھی قسم کی جارحیت کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔
اجلاس میں ان ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے موقف کو بھی سراہا گیا جنہوں نے ان حملوں کی مذمت کی۔

کابینہ نے کہا کہ مملکت مسائل کے حل کے لیے مکالمے، سفارتکاری اور بین الاقوامی تعاون کی پالیسی پر قائم ہے، خصوصا ایسے وقت میں جب خطہ ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔
اجلاس میں اقوام متحدہ کے منشور کے ضوابط کی پاسداری کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
ملکی امور کے حوالے سے کابینہ نے مختلف سرکاری شعبوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار میں مزید بہتری کے اقدامات کا جائزہ لیا۔

اجلاس میں نظامِ تعلیم کے اجرا کو تعلیمی شعبے کی ترقی، تعلیمی ماحول اور نتائج کے معیار میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
نئے تعلیمی نظام کے ذریعے نجی اور غیرمنافع بخش شعبوں کے کردار کو بھی منظم کیا جائے گا تاکہ وژن 2030 کے اہداف حاصل کیے جاسکیں۔
کابینہ نے ایجنڈے میں شامل مختلف موضوعات کا جائزہ لیا جن میں شوری کونسل کی جانب سے ارسال کی جانے والی سفارشات اور مختلف ملکوں کے ساتھ باہمی تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی منظوری شامل تھی۔
