نجرانی خنجر کی خرید و فروخت کا مرکز ’سوق الجنابی‘، آج بھی ماضی کی طرح آباد
زیادہ تر دکاندار بھی معمر ہیں جو علاقائی ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں۔( فوٹو: ایس پی اے)
نجران شہر کے عین قلب میں واقع ’سوق الجنابی‘ آج بھی اسی طرح آباد ہے جیسے ماضی میں تھا۔
جنابی (نجرانی خنجر) کی روایت ماضی سے چلی آ رہی ہے۔ یہ خنجر جسے علاقائی زبان میں ’جنابی‘ کہتے ہیں، کی خرید و فروخت کے لیے ایک بازار مخصوص ہے۔
اس روایتی مارکیٹ میں قدیم و ثقافتی اشیا کی نیلامی کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے جس میں سب سے نمایاں ترین چیز علاقائی خنجر ہوتا ہے۔
علاقے کے مشہور خنجر ’جنابی‘ کی نیلامی کی بولی لگانے والا خنجر کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے بولی کا آغاز کرتا ہے۔
اس بازار میں قدیم و روایتی اشیا کے شوقین افراد دور دور سے آتے ہیں۔
بازار کے بارے میں ایک شہری کا کہنا تھا کہ ’یہ روایتی بازار علاقے کا انتہائی قدیم بازار ہے۔ عمارت اور دکانیں دیکھ کر بھی اس کی قدیم شناخت عیاں ہوتی ہے۔‘

علاقے کے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’یہ جنوبی ریجن کا سب سے پرانا بازار ہے جو آج بھی مقبول ہے۔‘
بازار کے زیادہ تر دکاندار بھی معمر ہیں جو عرصہ دراز سے علاقائی ثقافت و روایت سے آج بھی جڑے ہوئے ہیں۔
علاقے کے ایک شخص کے مطابق ’بازار کی مقبولیت کا اندازہ اس یہاں گہما گہمی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے، اگر یہ مقبول نہ ہوتا تو یہاں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد موجود نہ ہوتی۔‘
روایتی خنجر ’جنابی‘ کی کئی اقسام ہیں، جن میں صنعانی، مشرقیہ کے علاوہ ایسے خنجر بھی ہوتے ہیں جن کی نیام پر سونے کا کام ہوتا ہے۔

جہاں تک جنابی کی قیمت کا تعلق ہے تو اس کا تعین خنجر کے بلیڈ اور اس کے دستے سے کیا جاتا ہے۔
قیمتی خنجر کا دستہ گینڈے کے سینگ سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دستے اور نیام پر مختلف اقسام کے قیمتی نگینے اور پتھر جڑے ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر نیلامی کا آغاز کیا جاتا ہے۔
نجران میں ’جنابی‘ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ایک شہری کا کہنا تھا کہ ’یہ علاقے کی ایک بنیادی شناخت ہے، اس کا استعمال عام طور پر اہم تقریبات اور مواقع پر کیا جاتا ہے۔‘
