’المشکاۃ ہیرٹیج وِیلِج‘: نجران میں مٹی کے 12 محلات میں 300 سالہ تاریخ محفوظ
جمعرات 23 اپریل 2026 8:51
نجران میں واقع ’المشکاۃ ہیرٹیج وِیلِج‘ اپنے دامن میں ایک تاریخی ریکارڈ لیے آج بھی موجود ہے۔
اس گاؤں میں مٹی سے بنے ہوئے 12 محل اور 300 سال پرانا ایک کنواں بھی ہے جس کی تعمیر میں کھجور کے درختوں کے تنے، لکڑی اور مٹی کو استعمال میں لایا گیا تھا۔ یہ تعمیرات اُس علاقے کے مستند فنِ تعمیر میں ایجاد و اختراع کا ایک اظہار ہیں۔
یہ محل صرف رہنے کے کام ہی نہیں آتے تھے بلکہ خاندانوں کے لیے قلعہ بند ہو کر حفاظتی حصار میں رہنے کا موقع بھی فراہم کرتے تھے۔ اِن تعمیرات سے اُس زمانے کی سماجی اور معاشی طرزِ زندگی کی ایک جھلک بھی ملتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اُس دور میں بوُد باش کا محور زرعی اور گروہی اتحاد تھا۔
گاؤں میں زندگی کا انحصار وہاں کے کنوئیں پر تھا جو رہائشیوں کے لیے نہ صرف پینے کا پانی مہیا کرتا تھا بلکہ اُسے آب پاشی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
کنوئیں میں پانی کی سطح بلند کرنے اور نکالنے کے لیے روایتی پانی کے زور سےگھومنے والے پہیّے اور رسی کام میں لائی جاتی تھی۔
آج اپنی میراث پر فخر کے جذبے کے ساتھ اُسی گاؤں کے رہنے والوں نے ایک انیشیٹیو کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن 12 محلات کو پھر سے بحال کرنے کا تہیہ کیا ہے۔ وہ بغیر کسی سرکاری امداد کے، خود ہی تعمیر کے روایتی طریقے اور میٹریئل استعمال کرتے ہوئے، محلات کی دیواروں، چھتوں اور لکڑی کے دروازوں کو از سرِ نو بحال کر رہے ہیں۔

اب یہاں مقامی اور عالمی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور المشکاۃ کا یہ گاؤں نجران کی راویتی زندگی کا آئینہ دار بن گیا ہے۔
اِس گاؤں کے تحفظ کے لیے ہیریٹیج کمیشن نے یہاں کے محلات کو دستاویزی شکل دے دی ہے جس میں روایتی عمارات کی ترتیب وار تفصیلی فہرست بھی ہے۔ اس کا مقصد گاؤں کے تعمیری فن کی شناخت کو محفوظ کرنا اور قومی ورثے کی ایک اہم سائٹ کے طور پر اِس کی ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔