Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: ٹِفن میں بِیف سکول لانے پر ’پانچ مسلمان طلبہ کے نام خارج ہونے کا امکان‘

رپورٹ کے مطابق واقعہ گولیار کے ایک سرکاری سکول میں پیش آیا (فوٹو: انڈین میڈیا)
انڈیا میں ٹفن کے اندر گائے کا گوشت سرکاری سکول میں لانے کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے اور آج پانچ مسلمان طلبہ کا نام سکول سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ واقعہ ریاست آسام کے ضلع گولپارہ کا ہے جو جمعے کو پیش آیا یہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے جہاں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی رہائش پذیر ہیں۔
 ٹفن میں گائے کا گوشت لانے والے کم عمر طالب علم کو حراست میں لیا گیا جبکہ اس کی والدہ کو بھی گرفتار کیا گیا۔
اسی دوران سکول کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ آئندہ سکول میں صرف سبزیوں پر مشتمل کھانا لانے کی اجازت ہو گی۔
کرشنائی پولیس سٹیشن کے انچارج آنندا رابھا کا کہنا ہے کہ خاتون اور اس کے بیٹے کے خلاف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے عمل کے الزام کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ’طالب علم کے خلاف شکایت اس کے دو ہندو کلاس فیلوز کے والدین کی جانب سے درج کرائی گئی ہے۔‘
طالب علم کی والدہ ایک مقامی سیلف ہیلپ گروپ سے وابستہ ہے اور اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔
آنندا رابھا کا کہنا ہے کہ چونکہ لڑکا کم عمر ہے اس لیے اسے کم عمروں کی عدالت (جیونائل کورٹ) میں پیش کیا گیا جبکہ اسی کیس میں مزید چار لڑکوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ خبر پھیلتے ہی یہ معاملہ شدت اختیار کر لیا اور اگلے روز مختلف تنظیموں کے نمائندے سکول پہنچ گئے جس سے معاملہ مزید بڑھا۔
سکول مینیجمنٹ ڈیویلپمنٹ کمیٹی کے صدر سبراتا داس کا کہنا ہے کہ آج سکول میں ایک اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں پانچوں مسلمان طلبہ کے نام خارج کرنے کی تجویز پر فیصلہ کیا جائے گا۔

پولیس کا کہنا ہے سکول گوشت لانے والے لڑکے اور اس کی والدہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے (فوٹو: شٹرسٹاک)

ان کا کہنا تھا کہ نویں کلاس کے پانچ طالب علموں نے وہ گائے کا گوشت دو ہندو ہم جماعتوں کو کھلانے کی کوشش بھی کی جو ان میں سے ایک اپنے ساتھ لایا تھا۔
مذکورہ ہندو طلبہ نے بعدازاں یہ بات اپنے ٹیچرز کو بتا دی، جس پر اساتذہ اور پرنسپل نے اپنے طور پر سکول کے اندر ہی اس معاملے کو نمٹانے کی کوشش کی کیونکہ یہ ایک حساس معاملہ تھا۔
تاہم وہی بچے جب اپنے گھر گئے تو اپنے والدین اور گاؤں والوں کو بھی بتا دیا، جس بات بڑھ گئی اور مقامی لوگوں نے حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
سبراتا داس کے مطابق ’جب معاملہ نے شدت اختیار کی تو میں ہندو لڑکوں سے ملا تو وہاں لوگ جمع ہو گئے اور ان کے والدین نے فیصلہ کیا کہ وہ معاملے کو قانون کے پاس لے جانا چاہتے ہیں جس پر میں نے پولیس کو خبر کی۔‘
مانید الاسلام جو سٹوڈنٹ یونین سے منسلک ہیں، کا کہنا ہے کہ مختلف تنظیموں کی مداخلت کی وجہ سے بات بگڑی۔
ان کے مطابق ’لڑکوں کا کہنا ہے کہ ہم کھانا کھا رہے تھے تو دو کلاس فیلو آئے اور پوچھا کیا کھا رہے ہو، جس کے بعد معاملہ بڑھتا چلا گیا۔‘
معاملہ مزید بڑھنے پر ڈسٹرکٹ کمشنر پرودیپ تیمونگا اور ایس ایس پی نبانیت مہانتا نے سکول کے دورے کیے اور ایکشن کی یقین دہانی کرائی۔
ڈسٹرکٹ کمشنرپرودیپ تیمونگا نے انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا اگر ضروری ہوا تو ٹفنز کو چیک کیا جائے۔‘

شیئر: