میٹھے میں چیونٹیاں شامل کرنا مہنگا پڑ گیا، ریسٹورنٹ کے مالک کو قید کا سامنا
میٹھے میں چیونٹیاں شامل کرنا مہنگا پڑ گیا، ریسٹورنٹ کے مالک کو قید کا سامنا
جمعہ 24 جولائی 2026 13:33
استغاثہ کا کہنا ہے کہ معاملہ کھانے میں چیونٹیاں استعمال کرنے کا نہیں بلکہ ملک کے فوڈ قوانین کی خلاف ورزی کا ہے۔(فوٹو:وزارتِ خوراک و ادویات)
جنوبی کوریا میں دو مشیلن سٹار رکھنے والے ایک ریسٹورنٹ کے مالک کو میٹھے کی ایک ڈش پر خشک چیونٹیاں پیش کرنے کے الزام میں ایک سال تک قید اور بھاری جرمانے کا سامنا ہے۔
سی این این کے مطابق جنوبی کوریا کے استغاثہ کا کہنا ہے کہ معاملہ کھانے میں چیونٹیاں استعمال کرنے کا نہیں بلکہ ملک کے فوڈ قوانین کی خلاف ورزی کا ہے، جہاں صرف حکومت کی منظور شدہ مخصوص اقسام کے حشرات ہی انسانی خوراک کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
جنوبی کوریا میں قانونی روایت کے مطابق پراسیکیوٹرز نے نہ ریسٹورنٹ کا نام ظاہر کیا ہے اور نہ ہی اس کے مالک کی شناخت بتائی ہے۔
ان کے مطابق یہ ریسٹورنٹ 2021 سے امریکہ اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی خشک چیونٹیاں ایک شربت پر مبنی میٹھےکے ساتھ پیش کر رہا تھا۔
استغاثہ کے مطابق اس عرصے کے دوران تقریباً 12 ہزار 200 ڈشز میں مجموعی طور پر 49 ہزار کے قریب چیونٹیاں استعمال کی گئیں۔
اگرچہ یہ ڈش شیف نے تیار کی اور مینو میں شامل کی، تاہم فوڈ سینیٹیشن ایکٹ کی مبینہ خلاف ورزی پر ریسٹورنٹ کے مالک پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ جبکہ یہ واضح نہیں کہ آیا شیف ہی ریسٹورنٹ کا مالک بھی ہے یا نہیں۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ خوراک و ادویات کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ریسٹورنٹ میں استعمال کی جانے والی چیونٹیوں میں بھاری دھاتوں (ہیوی میٹلز) کی مقدار دیگر قابلِ خوردنی حشرات کے لیے مقررہ زیادہ سے زیادہ حد سے ’55 گنا‘ زیادہ تھی۔
استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ پر دو کروڑ وون (تقریباً 37 لاکھ 81 ہزار پاکستانی روپے) جرمانہ عائد کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق ریسٹورنٹ نے گزشتہ چار برس کے دوران تقریباً 12 کروڑ وون (تقریباً دو کروڑ 27 لاکھ پاکستانی روپے) منافع حاصل کیا۔
اس مقدمے کا فیصلہ ستمبر میں سنائے جانے کا امکان ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق ریسٹورنٹ کے وکلا کا کہنا ہے کہ شیف نے میٹھے میں ’کھٹاس‘ پیدا کرنے کے لیے چیونٹیاں استعمال کیں۔(فوٹو:وزارتِ خوراک و ادویات)
جنوبی کوریا میں حشرات کھانا غیر معمولی بات نہیں۔ مثال کے طور پر ’بیونڈیگی ‘، یعنی بھاپ میں پکائے گئے ریشم کے کیڑے کے پیوپے، ملک کی ایک روایتی اسٹریٹ فوڈ ڈش ہے۔
تاہم جنوبی کوریا کے فوڈ سینیٹیشن ایکٹ کے تحت صرف 10 اقسام کے حشرات، جن میں ٹڈے اور ریشم کے کیڑے شامل ہیں، انسانی خوراک کے لیے منظور شدہ ہیں۔ چیونٹیوں سمیت کسی بھی دوسری قسم کے حشرات کو کھانے میں استعمال کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے خصوصی منظوری درکار ہوتی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق ریسٹورنٹ کے وکلا کا کہنا ہے کہ شیف نے میٹھے میں ’کھٹاس‘ پیدا کرنے کے لیے چیونٹیاں استعمال کیں۔ ان کے مطابق وہ پہلے امریکہ اور یورپ میں بھی یہی ترکیب استعمال کر چکا تھا اور اسے علم نہیں تھا کہ جنوبی کوریا میں یہ قانونی طور پر ممنوع ہے۔
وکلا نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ چیونٹیاں ہر گاہک کو پیش نہیں کی جاتی تھیں بلکہ تقریباً 60 فیصد صارفین کو یہ ڈش دی جاتی تھی، جبکہ مینو میں بھی واضح طور پر درج تھا کہ اس میں چیونٹیاں شامل ہیں۔
سی این این کے مطابق حالیہ برسوں میں امریکہ اور یورپ میں بھی حشرات پر مبنی خوراک کا رجحان بڑھا ہے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کم از کم دو ارب افراد روزانہ مختلف اقسام کے حشرات کھاتے ہیں۔
ایف اے او کے مطابق چیونٹیاں، بھونرے، شہد کی مکھیاں، سنڈیاں، جھینگر، ٹڈیاں، دیمک، مکھیوں کی بعض اقسام اور دیگر کئی حشرات دنیا کے مختلف خطوں میں خوراک کا حصہ ہیں۔
حشرات کو پروٹین کا مؤثر ذریعہ تصور کیا جاتا ہے اور ماہرین کے مطابق روایتی مویشیوں کے مقابلے میں ان کی افزائش کے لیے کم وسائل درکار ہوتے ہیں، اسی لیے انہیں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے ممکنہ ذرائع میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔
سی این این کے مطابق حالیہ برسوں میں امریکہ اور یورپ میں بھی حشرات پر مبنی خوراک کا رجحان بڑھا ہے۔
نیویارک سے تعلق رکھنے والے شیف جوزف یون مختلف حشرات سے تیار کردہ پکوان متعارف کرا چکے ہیں، جبکہ ڈنمارک کے دو مشیلن اسٹار رکھنے والے ریسٹورنٹ ’الکیمسٹ‘ نے سائنس دانوں کے تعاون سے چیونٹیوں کی مدد سے تیار کی گئی ڈیری مصنوعات اور چیونٹیوں سے متاثرہ میٹھا بھی پیش کیا ہے۔