وزیراعظم مودی کا کارروائی کا وعدہ، کاکروچ تحریک کے رہنما حکومت سے ملاقات کریں گے
وزیراعظم مودی کا کارروائی کا وعدہ، کاکروچ تحریک کے رہنما حکومت سے ملاقات کریں گے
جمعہ 24 جولائی 2026 9:18
کاکروچ پارٹی نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے ناکامیوں پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ’کاکروچ‘ تحریک کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ جمعے کو حکومت سے ملاقات کریں گے، اس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے افشا ہونے والوں کے خلاف قانونی اصلاحات اور فوری سزا دینے کا وعدہ کیا تھا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عوامی غصہ اس وقت بڑھ گیا تھا جب کئی امتحانات میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جن میں میڈیکل داخلہ امتحان کا پرچہ افشا ہونا اور ہائی سکول طلبہ کے لیے آن لائن مارکنگ سسٹم میں مسائل شامل ہیں۔
سوشل میڈیا پر چلنے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے احتجاج کی قیادت کی ہے اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے ناکامیوں پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سی جے پی کے ترجمان سورَو داس نے صحافیوں سے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت کھلے ذہن کے ساتھ آئے گی اور ان لوگوں کی بات سنے گی جو اتنے عرصے سے سڑکوں پر ہیں۔ ہم اپنے تمام مطالبات تفصیل سے بیان کریں گے اور امید ہے کہ حکومت ہماری بات سنے گی۔‘
رات گئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں مودی نے کہا کہ ان کی کابینہ جمعے کو ایسے اقدامات پر غور کرے گی جن سے امتحانی پرچوں کے افشا کرنے والوں کے خلاف عدالتی کارروائی تیز ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ ’کابینہ کے ساتھیوں کی تجاویز شامل کرنے کے بعد مسودہ قانون کو اس کی آخری شکل دی جائے گی۔‘
مودی نے مزید کہا کہ ’ہم پوری کوشش کریں گے کہ بل کو جلد از جلد ایوان میں پیش کر کے منظور کرایا جائے۔‘
بھوک ہڑتال
وزیرِاعظم کی مداخلت اس وقت سامنے آئی جب مظاہرین اور سول سوسائٹی گروپوں کی جانب سے تعلیمی اصلاحات کے مطالبے میں دباؤ بڑھ رہا تھا۔
پیر کو احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پولیس نے نئی دہلی میں ہزاروں مظاہرین پر آنسو گیس پھینکی (فوٹو: اے پی)
معروف کارکن سونم وانگچک، جنہوں نے جمعرات کو تحریک کی حمایت میں 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کی، نے کہا کہ حکومت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ پُرامن مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ پارلیمنٹ اس مسئلے پر اور تعلیم و امتحانی نظام میں جواب دہی بہتر بنانے پر مکمل بحث کرے گی۔‘
پیر کو احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پولیس نے نئی دہلی میں ہزاروں مظاہرین پر آنسو گیس پھینکی اور لاٹھیاں چلائیں، جو گذشتہ پانچ برسوں میں سب سے بڑا احتجاجی جلوس تھا۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا لیکن کہا کہ تحریک اپنی مہم اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک وزیرِ تعلیم استعفیٰ نہیں دیتے۔
ڈپکے، جو 30 برس کے ہیں، نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر آپ نے پوری قوم کے ضمیر کو جگا دیا۔‘
یہ احتجاج مودی کے لیے 2024 میں تیسری بارحکومت حاصل کرنے کے بعد سب سے بڑے سیاسی چیلنجز میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔