Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، امریکہ کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

امریکہ نے ایران کے پُلوں اور اہم انفراسٹکچرز کو نشانہ بنایا تھا (فوٹو: ایکس)
امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود اپنے شہریوں کو غیر معمولی احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور جاری کشیدگی کے باعث کسی بھی وقت مزید بگڑ سکتی ہے۔
‘عرب نیوز‘ کے مطابق امریکی سفارت خانے نے جمعے کو جاری کردہ سیکیورٹی الرٹ میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہری ممکنہ طور پر پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور دیگر سفری رکاوٹوں کے لیے تیار رہیں، کیونکہ مختلف ایئرلائنز حالات کے پیش نظر اپنے فلائٹ شیڈول میں مسلسل تبدیلیاں کر رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سیکیورٹی کی صورتحال پیچیدہ ہے اور کسی بھی وقت غیر متوقع کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔‘
سفارت خانے نے خطے سے باہر موجود امریکی شہریوں کو بھی مشرقِ وسطیٰ کا سفر یا اس کے راستے سفر کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا، جبکہ سفر کرنے والوں کو ایئرلائنز اور ہوائی اڈوں سے متعلق تازہ معلومات پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان خطے میں جاری جھڑپوں میں مزید شدت آ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی افواج نے مسلسل 13ویں رات بھی ایرانی اہداف پر حملے کیے، جبکہ ایران نے بحرین، کویت اور اردن پر میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہر شروع کی، جس کے بعد ان ممالک میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے اور خلیجی فضائی دفاعی نظام نے متعدد حملے ناکام بنائے۔
امریکی سفارت خانے نے خبردار کیا کہ بیرونِ ملک امریکی سفارتی تنصیبات اور مفادات کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی سفارتی تنصیبات، حتیٰ کہ مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی، ماضی میں نشانہ بنائی جا چکی ہیں،‘ جبکہ مزید کہا گیا کہ ’ایران اور اس کے اتحادی گروپ دنیا بھر میں امریکی مفادات یا امریکہ اور امریکی شہریوں سے وابستہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘
امریکی محکمہ خارجہ نے شہریوں کو یاد دہانی کرائی کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث 27 فروری کو اسرائیل میں امریکی مشن سے غیر ہنگامی سرکاری عملے اور اہل خانہ کی روانگی کی اجازت دے دی گئی تھی۔

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ یروشلم اور تل ابیب میں اس کے قونصلر سیکشن معمول اور ہنگامی دونوں نوعیت کی خدمات کے لیے کھلے ہیں (فائل فوٹو: گیٹی)

ان انتباہات کے باوجود امریکی سفارت خانے نے کہا کہ یروشلم اور تل ابیب میں اس کے قونصلر سیکشن معمول اور ہنگامی دونوں نوعیت کی خدمات کے لیے کھلے ہیں۔
سفارت خانے نے اسرائیل میں موجود امریکی شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے قریب ترین محفوظ پناہ گاہ یا محفوظ مقام کی نشاندہی کریں، اسرائیلی فوج کی ہوم فرنٹ کمانڈ کی الرٹ ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کریں، ہنگامی صورتحال کے لیے ضروری سامان اپنے پاس رکھیں اور مظاہروں یا بڑے اجتماعات سے گریز کریں۔
بیان میں امریکی شہریوں پر زور دیا گیا کہ ’وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے باخبر رہیں، مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور ان مقامات پر خصوصی احتیاط برتیں جو عوامی طور پر امریکہ یا امریکی شہریوں سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔‘

شیئر: