ریجن میں مختلف اقسام کے سیزنل پھل اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
الاحساء ریجن میں موسمِ گرما کے پھل اورسبزیوں کی کاشت جاری ہے۔ انواع و اقسام کے پھل اور سبزیاں مقامی منڈیوں میں پہنچ رہی ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق الاحساء ریجن کے کسان علاقے کی مخصوص بھنڈی کو ’خنیصری بامیہ‘ (چھوٹی انگلی کے سائز کی بھنڈی) یا ’بامیہ الھیل‘ (بڑی الائچی کی طرح ) کا نام دیتے ہیں۔
ریجن کی مخصوص پیداوار جسے مملکت میں ہی نہیں بلکہ خلیجی ممالک میں بھی کافی پسند کیا جاتا ہے کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
الاحساء میں کاشت کی جانے والی بھنڈی کی خاصیت یہ ہے کہ یہ سائز میں دیگر علاقوں کی بھنڈی سے قدرے چھوٹی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کا ذائقہ بھی منفرد ہوتا ہے۔
فصل توڑنے کے لیے کاشت کار صبح کا وقت منتخب کرتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
بھنڈی کی فصل کاشت کے تقریبا 3 ماہ بعد تیار ہو جاتی ہے۔ تیار فصل کی کٹائی صبح سویرے کے وقت میں کی جاتی ہے اس دوران مطلوبہ سائز کی بھنڈیوں کو پودے سے جدا کر لیا جاتا ہے جبکہ چھوٹی بھنڈیوں کو اگلی کٹائی کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔
اس حوالے سے ماہر زراعت عبداللہ السالم کا کہنا تھا کہ الاحساء ریجن کی بھنڈی اپنے منفرد ذائقے، رنگ اور چھوٹے سائز کی وجہ سے خاصی مقبول ہے۔ اس کی کاشت سردیوں اور گرمیوں دونوں موسموں میں کی جاتی ہے، تاہم گرمیوں میں پیداوار قدرے بہتر ہوتی ہے۔
بھنڈی کی فصل پودا لگانے کے 3 ماہ کے اندر تیار ہوتی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
دوسری جانب شاہ فیصل یونیورسٹی کے زرعی کالج کے پروفیسر ڈاکٹر محمد الموجی کا کہنا ہے کہ بھنڈی میں فائبر، وٹامنز، معدنیات، اینٹی آکسیڈنٹس اور مخصوص چکناہٹ والے مادے پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے متعدد فوائد کے حامل ہوتے ہیں۔
خیال رہے الاحساء ریجن میں تربوز، ٹماٹر، شہتوت، انجیر، لیموں، کھیرا، شملہ مرچ، لوبیا اور دیگر انواع و اقسام کے موسمی پھل اور سبزیاں کامیابی سے کاشت کی جاتی ہیں۔