پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ اور ایران ایک ایسے امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری تنازعے کا خاتمہ کرے گا، اور معاہدے کا حتمی متن بھی طے پا چکا ہے۔
شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان اب الیکٹرانک دستخط کے عمل کی تیاری کر رہا ہے، جو آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر متوقع ہے، جبکہ اس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز بھی کہا تھا کہ امریکہ اور ایران ایک ایسے معاہدے کی متن پر متفق ہو گئے ہیں جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ ہے، اور ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر معاہدے کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔
اس سے قبل بھی جلد پیش رفت کے کئی اعلانات ہوئے تھے، لیکن وہ عملی صورت اختیار نہ کر سکے۔
مذاکرات میں یہ بظاہر پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے اس ہفتے تین دن تک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جوابی حملوں کا تبادلہ کیا، جس سے پورے خطے میں ایک وسیع جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعہ کی رات سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ اس نے کئی ایرانی حملہ آور ڈرونز کو مار گرایا جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کو شدید متاثر کیا اور خلیجِ عرب سے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل تقریباً معطل ہو گئی۔ 7 اپریل سے ایک نازک جنگ بندی نافذ ہے۔