امریکہ، ایران امن معاہدے پر دستخط اگلے 24 گھنٹوں میں متوقع ہیں: شہباز شریف
امریکہ، ایران امن معاہدے پر دستخط اگلے 24 گھنٹوں میں متوقع ہیں: شہباز شریف
ہفتہ 13 جون 2026 15:02
شہباز شریف نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ امریکہ اور ایران امن معاہدے کے حتمی متن پر متفق ہو گئے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ اور ایران ایک ایسے امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری تنازعے کا خاتمہ کرے گا، اور معاہدے کا حتمی متن بھی طے پا چکا ہے۔
شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان اب الیکٹرانک دستخط کے عمل کی تیاری کر رہا ہے، جو آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر متوقع ہے، جبکہ اس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز بھی کہا تھا کہ امریکہ اور ایران ایک ایسے معاہدے کی متن پر متفق ہو گئے ہیں جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ ہے، اور ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر معاہدے کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔
اس سے قبل بھی جلد پیش رفت کے کئی اعلانات ہوئے تھے، لیکن وہ عملی صورت اختیار نہ کر سکے۔
مذاکرات میں یہ بظاہر پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے اس ہفتے تین دن تک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جوابی حملوں کا تبادلہ کیا، جس سے پورے خطے میں ایک وسیع جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعہ کی رات سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ اس نے کئی ایرانی حملہ آور ڈرونز کو مار گرایا جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کو شدید متاثر کیا اور خلیجِ عرب سے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل تقریباً معطل ہو گئی۔ 7 اپریل سے ایک نازک جنگ بندی نافذ ہے۔
متوقع معاہدے کے اہم نکات
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا تھا کہ ابتدائی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد 60 دن کے اندر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شرائط کو حتمی شکل دی جائے گی، اور ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کا جوہری پروگرام دونوں فریقوں کے درمیان ایک بنیادی اختلافی نکتہ رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کو خدشہ ہے کہ یہ پروگرام جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا باعث بن سکتا ہے، اور یہی ان کی جانب سے جنگ شروع کرنے کی ایک بڑی وجہ بتائی گئی تھی۔
دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مقرر کردہ اصولوں کے تحت نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بریفنگ دینے والے ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ مجوزہ معاہدہ تہران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کو تباہ کرنے یا وہاں سے ہٹانے کے عمل کا آغاز کرے گا۔
عہدیدار کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد 60 دن کی مدت تکنیکی تفصیلات طے کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی تاکہ ایران کے افزودہ یورینیم کو ہٹایا جا سکے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ اس عمل کی ذمہ داری کس کے سپرد کرنا چاہتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ یورینیم تین جوہری تنصیبات کے نیچے محفوظ ہے جنہیں گزشتہ سال امریکی حملوں میں نقصان پہنچا تھا۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شرائط بھی شامل ہوں گی
امریکی عہدیدار نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔
عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا تھا کہ ابتدائی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد 60 دن کے اندر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شرائط کو حتمی شکل دی جائے گی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس کے تحت تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ’فراہم کی گئی خدمات‘ کے عوض فیس وصول کر سکے۔ جنگ کے دوران ایران نے ایک ٹول سسٹم نافذ کیا تھا جسے امریکہ اور دیگر ممالک بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔
تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوئی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور خوراک سمیت بنیادی اشیاء مہنگی ہو گئیں، جس کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے گئے۔
معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہوگی
تین علاقائی عہدیداروں نے بتایا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کی شقیں بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے حکام کی منظوری کے بعد آئندہ چند دنوں میں معاہدے پر دستخط کی تقریب متوقع ہے۔