Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ نے متعدد ایرانی ڈرونز مار گرائے، فریقین کا اب بھی ’معاہدہ قریب ہونے‘ پر اصرار

عباس عراقچی نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی۔‘ (فائل فوٹو: اسنا)
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے سنیچر کی صبح آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے متعدد ایرانی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ واقعہ فریقین کی جانب سے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کا معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب آ چکا ہے۔
ڈرونز کو فضاء میں تباہ کرنے کا یہ واقعہ تہران اور واشنگٹن کے مابین ہفتوں سے جاری تعطل کا شکار مذاکرات کے بعد پیش آیا ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کے دوران اپریل میں طے پانے والی نازک جنگ بندی کے باوجود دونوں جانب سے دھمکیوں اور فائرنگ کے تبادلوں کا سلسلہ دیکھا گیا ہے۔
خطے میں فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران نے ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں یکطرفہ حملہ کرنے والے متعدد ڈرونز (ون وے اٹیک ڈرونز) داغے تھے۔‘
سینٹکام نے بتایا کہ ’امریکی افواج نے حالیہ گھنٹوں میں ان تمام ڈرونز کو مار گرایا ہے، جبکہ اسٹریٹ سے بحری جہازوں کی آمد و رفت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔‘
سینٹکام نے مزید کہا کہ خلیج سے تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم ترین سمندری تجارتی راستہ آبنائے ہرمز جنگ کے آغاز سے نافذ العمل ایرانی ناکہ بندی کے باوجود ’آمد و رفت کے لیے کھلا ہے۔‘
فریقین کے مابین اختلافات اب بھی برقرار ہیں اور ایرانی سرکاری میڈیا نے میز پر موجود ممکنہ شرائط کی جو تفصیلات شائع کی ہیں۔ وہ واشنگٹن کے موقف سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) اب تک سب سے زیادہ قریب پہنچ چکی ہے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانیوں پر بدنیتی سے مذاکرات کرنے اور طے شدہ شرائط کو غلط رنگ میں پیش کرنے کا الزام لگایا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے اس کا حوالہ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کی نسبت سے دیا جہاں اس سے قبل امریکہ اور ایران کے مذاکرات کی میزبانی کی گئی تھی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے جمعے کی صبح ایرانیوں پر بدنیتی سے مذاکرات کرنے اور طے شدہ شرائط کو غلط رنگ میں پیش کرنے کا الزام لگایا تھا، نے محض چند گھنٹوں بعد اپنے اکاؤنٹ پر عباس عراقچی کے اسی پیغام کا سکرین شاٹ پوسٹ کر دیا۔
عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی وژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس معاہدے کے بارے میں کچھ تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت ایرانی بندرگاہوں پر قائم امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ کیا جائے گا اور آبنائے ہرمز کے انتظامی امور میں کچھ غیر واضح تبدیلیاں کی جائیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے نمٹنے کا واحد طریقہ اسے ’ایران کے اندر ہی پتلا (ڈائیلوٹ) کرنا ہے‘ واضح رہے کہ واشنگٹن کا الزام ہے کہ یہ یورینیم ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کا حصہ ہے۔
اس سے قبل ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ جاری جنگ میں سرخرو ہو کر ابھرا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ جنگ میں ایران فاتح رہا ہے۔‘

عباس عراقچی نے کہا کہ مجوزہ انتظامات کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت زیرِ بحث عبوری مفاہمت یہ ثابت کرتی ہے کہ مسلسل فوجی دباؤ کے باوجود ان کا ملک مزید مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔
امریکی اور ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ مذاکرات ایک ممکنہ فریم ورک معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں، تاہم تہران کے بعض اعلیٰ حکام کا اصرار ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی ہے۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے ’فارس نیوز ایجنسی‘ کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض غیر ملکی میڈیا کی وہ رپورٹس ’مکمل طور پر جھوٹی‘ ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک حتمی معاہدہ طے پا چکا ہے اور اتوار کو جنیوا میں اس پر دستخط کیے جائیں گے۔
مذکورہ ذریعے نے واضح کیا کہ ایران کا اندرونی جائزہ اور فیصلہ سازی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا اور انہوں نے حتمی معاہدے، اتوار کی تاریخ یا جنیوا میں دستخط کی تقریب سے متعلق تمام رپورٹس کی قطعی طور پر تردید کی۔

اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ واشنگٹن کے فوجی اقدامات نے آبنائے ہرمز کو ’پہلے سے زیادہ غیر محفوظ‘ بنا دیا ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی فوجی کارروائیوں نے آبنائے ہرمز کو ’انتہائی غیر معمولی طور پر غیر محفوظ‘ بنا دیا ہے۔
ان کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے فیصلہ کیا ہے کہ اب اس آبی راستے سے محفوظ آمدو رفت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی اور اسے بحری آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے یہ دعویٰ بھی کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے کسی معاہدے پر حتمی فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ ایرانی حکام مذاکرات کے دوران امریکی مؤقف میں بار بار تبدیلیوں کے باعث بداعتمادی کا شکار ہیں۔
عالمی منڈیوں کی مذاکرات پر نظریں
ممکنہ معاہدے کی طرف پیش رفت کی خبروں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے جہاں ایک موقع پر برینٹ خام تیل کی قیمت 3 فیصد سے زیادہ گر گئی۔
تاجر اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا آبنائے ہرمز بالآخر تجارتی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھل جائے گا۔

شیئر: