Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: مغوی ڈی ایس پی کی لاش برآمد، پروجیکٹ مینیجر اور مزدوروں سمیت 12 افراد اغوا

حکام کے مطابق ’سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان کے ضلع بارکھان سے اغوا ہونے والے ڈی ایس پی کو شدت پسندوں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا جبکہ اُن کے گن کو چھوڑ دیا۔
صوبے کے دیگر اضلاع میں گذشتہ دو روز کے دوران شدت پسندوں کی مختلف کارروائیوں میں ایک مزدور سمیت دو افراد ہلاک جبکہ ایک ٹرک ڈرائیور زخمی ہوگیا۔
اس کے علاوہ ایک پروجیکٹ مینیجر اور چھ مزدوروں سمیت 12 افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے جبکہ مسلح افراد نے سات مال بردار گاڑیوں اور گیس باؤزرز کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔
پولیس کے مطابق پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سے متصل بلوچستان کے ضلع بارکھان میں منگل کی شام کو ڈی ایس پی مرید بگٹی اور ان کے گن مین کانسٹیبل رسول بخش کو اغوا کیا گیا۔
بارکھان پولیس کے ایک افسر کے مطابق ’مرید بگٹی رکھنی سے نجی گاڑی میں بارکھان کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد نے اسلحے کے زور پر انہیں روکا، گاڑی سے اُتارا اور پہاڑوں کی طرف لے کر فرار ہو گئے۔‘
اطلاع ملتے ہی پولیس، ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی اداروں کی بھاری نفری موقعے پر پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
بعد ازاں مقامی پولیس نے بتایا کہ ’سرچ آپریشن کے دوران پہاڑی علاقے سے گاڑی ملی جس میں ڈی ایس پی کی نعش پڑی ہوئی تھی جبکہ گن مین کو مسلح افراد نے چھوڑ دیا۔‘
وزیراعلٰی بلوچستان کے معاون شاہد رند نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’دہشت گردوں کی فائرنگ سے ڈی ایس پی مرید بگٹی شہید جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔‘
ایک بیان میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کردیا، دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری ہے۔‘
وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے ڈی ایس پی کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’بلوچستان پولیس اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیاں امن کے قیام کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘
دوسرا واقعہ پیر کی شام کیچ کے ضلعی ہیڈکوارٹرز تُربت میں تھانہ صدر کی حدود میں کلاتک کے مقام پر پیش آیا جہاں مسلح شدت پسندوں نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔

منگل کی شام بارکھان سے اغوا کیے گئے ڈی ایس پی مرید بگٹی کی نعش پہاڑی علاقے سے ملی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

مکران ڈویژن میں تعینات پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران وہاں سے گزرنے والی ایک گاڑی کو روک کر اس میں سوار سات مزدوروں کو اغوا کر لیا۔
یہ مزدور ایک تحصیل دار کے گھر میں تعمیراتی کام کر رہے تھے اور شام کو اپنے رہائشی کوارٹر کی طرف واپس جا رہے تھے۔
مسلح افراد نے مغویوں میں سے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے رہائشی جاوید خان کو گولیاں مار کر قتل کر دیا جبکہ باقی چھ افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اغوا ہونے والوں میں چار کا تعلق پنجاب اور دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔
اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز موقعے کی طرف روانہ ہوئیں تو مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کی زد میں آکر ایک مقامی راہگیر عبدالرزاق ہلاک ہو گیا۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے اس واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
تیسرا واقعہ خضدار میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے ایک تعمیراتی منصوبے پر کام کرنے والے پروجیکٹ مینیجر سمیت چار افراد کو اغوا کر لیا۔
خضدار ڈویژن کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ تین روز قبل پیش آیا۔

ضلع چاغی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کے بعد سات مال بردار گاڑیوں اور باؤزرز کو آگ لگا کر تباہ کر دیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری ایمرجنسی فلڈ اسسٹنس پروجیکٹ کے مینیجر آفتاب احمد منگی جب اپنی ٹیم کے ہمراہ کرخ سے خضدار کی طرف آرہے تھے تو اس وقت انہیں اغوا کیا گیا۔
مسلح افراد ان کی گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ دیگر مغویوں میں سعید اللہ، عبداللہ سولنگی اور ڈرائیور محی الدین شامل ہیں۔
چوتھا واقعہ ضلع چاغی میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے فائرنگ کے بعد سات مال بردار گاڑیوں اور باؤزرز کو آگ لگا کر تباہ کر دیا۔
فائرنگ کی زد میں آکر ایک ٹرک ڈرائیور زخمی بھی ہوا جسے نوشکی میں ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کوئٹہ کو تفتان سے ملانے والی قومی شاہراہ این 40 پر چاغی کے علاقے پدگ میں پیش آیا۔
مسلح افراد نے ایک ہوٹل کے سامنے کھڑے ہو کر فائرنگ کے بعد پانچ ٹرالرز اور دو گیس باؤزرز کو نذرِ آتش کر دیا۔
حکام کے مطابق بلوچستان میں اس شاہراہ پر گذشتہ دو ماہ کے دوران 100 سے زائد ٹرکوں، آئل ٹینکرز اور ایل پی جی گیس باؤزرز کو فائرنگ اور نذرِ آتش کر کے تباہ کیا جا چکا ہے، جبکہ ان مسلسل حملوں میں متعدد ڈرائیورز بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

این 40 شاہراہ پر دو ماہ کے دوران 100 ٹرکوں، آئل ٹینکرز اور ایل پی جی گیس باؤزرز کو  نذرِ آتش کیا جا چکا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ادھر بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے دو رہائشی نوجوان کراچی جاتے ہوئے پُراسرار طور پر لاپتا ہو گئے ہیں جس پر اُن کے لواحقین نے ان کی فوری رہائی کی اپیل کی ہے۔
لاپتا ہونے والے نوجوانوں کی شناخت محمد رمضان ولد فضل محمد اور میر وائس ولد موسیٰ جان کے ناموں سے ہوئی ہے۔ لواحقین  کے مطابق دونوں آپس میں رشتہ دار ہیں اور کراچی کی سبزی منڈی میں مزدوری کرتے تھے۔چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس کراچی کام پر جا رہے تھے۔
لواحقین کے مطابق دونوں پیر کو کوئٹہ سے کراچی کے لیے نکلے تھے۔مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ سے گزرنے کے بعد دونوں نوجوانوں سے رابطہ منقطع ہو گیا اور اس کے بعد سے ان کی کوئی خیر خبر نہیں ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 24 جولائی کو مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ سے نامعلوم افراد نے ایک کوریئر کمپنی کے ڈرائیور سمیت دو ملازمین کو کوئٹہ کراچی شاہراہ سے اغوا کیا تھا جن کو تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔ مغویوں کا تعلق کوئٹہ اور ہزارہ برداری سے بتایا جاتا ہے۔

شیئر: