Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وزیراعظم سے ’چیئرمین لہر‘ تک، نواز شریف کی نئی تقرری پر سوشل میڈیا پر تبصرے

فاطمہ عطا نے کہا قدیم لاہور کی بحالی نواز شریف کا دیرینہ وژن ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف سے متعلق حال ہی میں ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عام شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین کو بھی چونکا دیا ہے۔
پنجاب حکومت کے محکمہ لوکل گورنمنٹ اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ نوٹیفکیشن کے تحت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد کو ’لاہور ہیریٹیج ایریا ریوائیول‘ یعنی ’لہر‘ کے قائم کردہ نئے بورڈ کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے۔
پہلے وہ اس منصوبے کے سرپرستِ اعلیٰ تھے لیکن اب رولز میں آئینی و قانونی ترمیم کر کے ایک باقاعدہ بورڈ کی تشکیل دی گئی ہے جس کی باگ ڈور براہ راست تین بار کے سابق وزیراعظم کے ہاتھ میں تھما دی گئی ہے۔
اس فیصلے کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تبصروں کا ایک دلچسپ اور مزاح سے بھرپور طوفان آ گیا۔
صارفین نے اس بات کو خاصی شگفتگی سے دیکھا کہ جو شخصیت کبھی پورے ملک کے فیصلے کیا کرتی تھی، وہ اب صوبائی وزارتِ بلدیات کے نیچے بننے والے ایک شہری بورڈ کی چیئرمینی سنبھال رہی ہے۔
کچھ صارفین نے اسے نواز شریف کی اپنے شہر لاہور سے بے پناہ محبت کا نتیجہ قرار دیا تو کچھ نے اسے اقتدار کی مسند کے بدلے ایک مقامی عصبیت سے تعبیر کیا۔
حسن علی نامی ایک صارف نے اپنی ایک ایکس پوسٹ  میں لکھا کہ ’تین بار ملک کا وزیراعظم رہنے کے بعد اب مقامی حکومت کے ایک بورڈ کا چیئرمین بننا ثابت کرتا ہے کہ کام کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، بس دل میں لاہور کا درد ہونا چاہیے۔‘
اسی طرح سائمن ملک نے لکھا کہ ’شاید وزیراعظم ہاؤس سے زیادہ تسلی بخش کام اندرون لاہور کے پائے اور نان خطائی کی دکانوں کی بحالی ہے، اب کم از کم فوڈ سٹریٹ کے معاملات براہ راست نگہبانی میں ہوں گے۔‘
کچھ ایسا ہی طنز عائشہ خان نے بھی کیا کہ ’ترقی کی حد دیکھیے، ملک چلانے سے بات اب شاہی قلعے اور تاریخی گلیوں کی مرمت تک پہنچ گئی ہے، امید ہے کہ چیئرمین صاحب اب یہاں کے منصوبوں پر اپنی پوری توجہ دیں گے۔‘

’لہر‘ اندرونِ لاہور کی قدیم حویلیوں، گلیوں، دروازوں اور ثقافتی ورثے کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کا منصوبہ ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

مگر لاہور کو سمجھنے والے ایک صارف فیصل شفیق نے گفتگو کو کچھ ایسے سمیٹا کہ ’سیاست کا سفر بھی کتنا عجیب ہے، اقتدار کی اعلیٰ ترین مسند سے لے کر بلدیاتی بورڈ کے چیئرمین تک کا یہ فاصلہ صرف لاہور کی محبت ہی طے کروا سکتی ہے۔‘
اس تمام شگفتگی کے پسِ پردہ اگر اس معاملے کے سنجیدہ اور قانونی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو 23 جولائی کو پنجاب گزٹ میں شائع ہونے والے باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قدم ’پنجاب والڈ سٹیز اینڈ ہیریٹیج ایریاز اتھارٹی ایکٹ 2012‘ کی دفعہ 8-اے کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
گورنر پنجاب کی منظوری سے جاری ہونے والے اس اعلامیے کے بعد اب ’لاہور ہیریٹیج ایریا ریوائیول بورڈ‘ کا قیام عمل میں آ چکا ہے جس کے سربراہ محمد نواز شریف ہوں گے۔
اس سے قبل نواز شریف محض بطور سرپرستِ اعلیٰ مشورے دینے کی حد تک محدود تھے تاہم اس نئی تکنیکی و انتظامی تبدیلی کے بعد اس بورڈ کو مکمل ایگزیکٹو اور انتظامی اختیارات مل گئے ہیں تاکہ تاریخی مقامات کی بحالی کے کاموں میں بیوروکریسی کی سرخ فیتے کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
لاہور کا لہر منصوبہ ہے کیا؟
یہ دراصل اندرونِ لاہور کی تاریخی اہمیت، قدیم حویلیوں، گلیوں، دروازوں اور ثقافتی ورثے کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کا ایک جامع منصوبہ ہے۔
ماضی میں والڈ سٹی اتھارٹی کے قیام اور اس سے منسلک دیگر ترقیاتی کاموں کا بنیادی مقصد بھی لاہور کے صدیوں پرانے تاریخی حسن کو محفوظ بنانا تھا۔

فاطمہ عطا کا کہنا تھا کہ ’لہر‘ کے انتظامی اور عملی معاملات کو بہتر اور موثر بنانے کا عمل کافی عرصے سے جاری تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس پورے معاملے کی مزید تفصیلات اور انتظامی نوعیت پر جب ’لہر‘ کی ترجمان فاطمہ عطاء سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ’لہر‘ کے تحت کل 28 مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق ان تمام 28 منصوبوں کی مکمل فنڈنگ ’لہر‘ کی جانب سے کی جا رہی ہے، تاہم ان پر عملی کام کی تکمیل کے لیے مختلف محکمے اور ادارے میدانی سطح پر متحرک ہیں۔ 
ترجمان فاطمہ عطا کا مزید کہنا تھا کہ ’لہر‘ کے انتظامی اور عملی معاملات کو بہتر اور موثر بنانے کا عمل کافی عرصے سے جاری تھا اور حالیہ نوٹیفکیشن اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ چونکہ قدیم لاہور کی بحالی نواز شریف کا دیرینہ وژن ہے اور وہ اسے اپنی براہِ راست زیرِ نگرانی مکمل کروانا چاہتے ہیں، اس لیے اس نوٹیفکیشن کی ضرورت پیش آئی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’یہ محض کوئی عام ترقیاتی منصوبہ نہیں ہے بلکہ لاہور کی اصل، قدیم روایت اور اندرونِ لاہور کی صدیوں پرانی شناخت کو زندہ رکھنے کا ایک باقاعدہ اور منظم مشن ہے۔ اب اس نئے نوٹیفکیشن کے بعد لہر کا ایک باقاعدہ بورڈ تشکیل پا چکا ہے جس کے پاس تمام ایگزیکٹو اختیارات موجود ہوں گے تاکہ جہاں ضرورت پڑے وہیں سے بغیر کسی تاخیر کے براہِ راست اور فوری احکامات جاری کیے جا سکیں۔‘

 

شیئر: