Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ: میرپور ڈویژن کی 13 میں سے 9 نشستوں پر ن لیگ کو برتری

انتخابات 27 جولائی سے مختلف ڈویژنوں میں تین مرحلوں میں منعقد ہوں گے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں کے لیے ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے ہیں۔
موصولہ نتائج کے مطابق میرپور ڈویژن کی تمام 13 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) مجموعی طور پر 9 نشستوں پر آگے ہے جن میں سے وہ سات نشستوں پر باضابطہ طور پر کامیاب ہو چکی ہے جبکہ دو نشستوں پر اسے واضح برتری حاصل ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے چار نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔
الیکشن کمیشن نے تاحال تین حلقوں کے رسمی نتائج کا اعلان کیا ہے جبکہ میرپور ڈویژن کے دو حلقوں (برنالہ اور سماہنی) میں کشیدہ صورتحال اور فنی وجوہات کے باعث نتائج کا حتمی اور رسمی اعلان مؤخر کیا گیا ہے۔
پہلے مرحلے کی پولنگ کے بعد اب دوسرے مرحلے کا انتخاب دو اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر ہوگا جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو ڈویژن پونچھ میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔
پہلے مرحلے کے نتائج اور اہم اپ سیٹ
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پہلے مرحلے میں جہاں کچھ روایت پسند سیاسی خاندان اپنی نشستیں بچانے میں کامیاب رہے وہیں کئی اہم سیاسی شخصیات کو غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سابق وزیراعظم کی شکست: ایل اے 7 بھمبر سے مسلم لیگ (ن) کے چوہدری طارق فاروق نے 35 ہزار 490 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ ان کے مدِمقابل آزاد امیدوار اور سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق 25 ہزار 100 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔ چوہدری انوار الحق گزشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے اور بعد ازاں فارورڈ بلاک تشکیل دے کر وزیراعظم بنے تھے۔

الیکشن کمیشن نے تاحال تین حلقوں کے رسمی نتائج کا اعلان کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

پیپلز پارٹی کے صدر کو ایک نشست پر شکست، دوسری پر کامیابی
ایل اے 12 کوٹلی 5 (چڑھوئی) میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور پارٹی صدر چوہدری محمد یاسین کو اپنے آبائی حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے راجہ ریاست خان کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے فارم 26 کے مطابق راجہ ریاست نے 35 ہزار 168 جبکہ چوہدری یاسین نے 30 ہزار 320 ووٹ حاصل کیے۔ تاہم، چوہدری یاسین ایل اے 10 (کوٹلی سٹی) سے 12 ہزار 421 ووٹ لے کر مسلم لیگ (ن) کے فاتح محمود الحسن (9063 ووٹ) کو ہرانے میں کامیاب رہے۔
دیگر اہم رہنماؤں کی ناکامی
کوٹلی کے حلقوں سے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما جاوید اقبال بڈھانوی (نکیال) اور ولید انقلابی (کھوئی رٹہ) بھی اپنی نشستیں نہ بچا سکے۔
پرتشدد واقعات اور غیر حتمی حلقے
پولنگ کے روز مختلف اضلاع بالخصوص نکیال اور بھمبر کے متعدد پولنگ اسٹیشنز پر سیاسی کارکنوں کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی اور تصادم کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک کارکن ہلاک ہو گیا، جس پر پیپلز پارٹی کی مرکزی و علاقائی قیادت نے گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور اپنے کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب پولیس اور انتظامیہ نے امن و امان میں خلل ڈالنے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مختلف مقامات سے 24 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
ایل اے 6 (سماہنی - بھمبر)
اس حلقے میں ووٹ جلائے جانے کے واقعے کے بعد حتمی نتیجہ روک دیا گیا ہے۔ یہاں مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد رزاق 23 ہزار 923 ووٹوں کے ساتھ واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، جبکہ استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے امیدوار علی شان سونی 12 ہزار 492 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ علی شان سونی کو پولیس نے پولنگ اسٹیشن پر حملے اور بیلٹ پیپرز جلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
ڈویژن میرپور کی 13 نشستوں کی مکمل صورتحال
میرپور ضلع (3 نشستیں)
ایل اے 1 (ڈڈیال): مسلم لیگ (ن) کے چوہدری اظہر صادق 15 ہزار 427 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے پہلے رسمی نتیجے کے طور پر اس کی تصدیق کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چوہدری افسر شاہد (9832 ووٹ) دوسرے نمبر پر رہے۔
ایل اے 2 (چکسواری/اسلام گڑھ)
پیپلز پارٹی کے قاسم مجید نے 12 ہزار 904 ووٹ لے کر فتح حاصل کی، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے عظیم بخش چوہدری (8182 ووٹ) دوسرے نمبر پر رہے۔
ایل اے 3 (میرپور سٹی)
پیپلز پارٹی کے یاسر سلطان 12 ہزار 590 ووٹ لے کر اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ ن لیگ کے چوہدری محمد سعید 11 ہزار 81 ووٹ حاصل کر سکے۔
ایل اے 4 (کھڑی شریف)
مسلم لیگ (ن) کے چوہدری رخسار احمد نے 20 ہزار 172 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی کے چوہدری صہیب ارشد (13865 ووٹ) دوسرے نمبر پر رہے۔
بھمبر ضلع (3 نشستیں)
ایل اے 5 (برنالہ): (غیر حتمی) ن لیگ کے کرنل (ر) وقار احمد نور (29875 ووٹ) کو پیپلز پارٹی کے چوہدری پرویز اشرف (29143 ووٹ) پر برتری حاصل ہے۔

نکیال اور بھمبر کے سیاسی کارکنوں کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی اور تصادم کے واقعات رپورٹ ہوئے (فائل فوٹو:ویڈیو گریب)

ایل اے 6 (سماہنی)
 (نتیجہ مؤخر) ن لیگ کے چوہدری محمد رزاق (23923 ووٹ) آگے، جبکہ آئی پی پی کے علی شان سونی (12492 ووٹ) دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایل اے 7 (بھمبر)
ن لیگ کے چوہدری طارق فاروق (35490 ووٹ) نے سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق (25100 ووٹ) کو شکست دی۔
کوٹلی ضلع (7 نشستیں)
ایل اے 8 (کوٹلی 1 راج محل)
پیپلز پارٹی کے ظفر اقبال ملک 19 ہزار 535 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ ن لیگ کے ملک محمد نواز خان (11966 ووٹ) دوسرے نمبر پر رہے۔
ایل اے 9 (کوٹلی 2 نکیال)
مسلم لیگ (ن) کے عمیر نعیم 31 ہزار 37 ووٹ حاصل کر کے پیپلز پارٹی کے جاوید اقبال بڈھانوی (28507 ووٹ) کو ہرانے میں کامیاب رہے۔
ایل اے 10 (کوٹلی سٹی)
پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری محمد یاسین 12 ہزار 421 ووٹوں کے ساتھ فاتح رہے، ن لیگ کے فاتح محمود الحسن نے 9 ہزار 63 ووٹ حاصل کیے۔
ایل اے 11 (کوٹلی 4 سہنسہ)
مسلم لیگ (ن) کے راجا محمد آصف 26 ہزار 190 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے، پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد اخلاق (21751 ووٹ) دوسرے نمبر پر رہے۔
ایل اے 12 (کوٹلی 5 چڑھوئی)
مسلم لیگ (ن) کے راجا ریاست خان (35168 ووٹ) نے پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد یاسین (30320 ووٹ) کو شکست دی۔
ایل اے 13 (کوٹلی 6 کھوئی رٹہ)
مسلم لیگ (ن) کے راجا ایاز احمد خان 21 ہزار 728 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، آئی پی پی کے انصر ابدالی (15648 ووٹ) دوسرے اور پی پی پی کے ولید انقلابی (14386 ووٹ) تیسرے نمبر پر رہے۔

میرپور ڈویژن میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری طرف انتخابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ راولا کوٹ اور اس کے گرد و نواح میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال کے باعث صورت حال مزید کشیدہ رہی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین کے درمیان اس وقت مڈبھیڑ اور روڈ بلاکنگ کے واقعات سامنے آئے جب سکیورٹی فورسز نے راستے کھلوانے اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی۔
اس وقت پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے تمام حساس پولنگ سٹیشنز، گنتی کے مرکزی مقامات اور اہم شاہراہوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات نافذ ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے باقی نشستوں کے غیر حتمی نتائج کو مرتب کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ عوام اور سیاسی جماعتوں کی نظریں پہلے مرحلے کے مکمل نتائج اور آنے والے دیگر مراحل کی سیاسی صورت حال پر ٹکی ہوئی ہیں۔

شیئر: