فلسطینیوں کی حمایت: ’لوز ویمن‘ سے ہٹائے جانے پر نادیہ سوالحہ کی آئی ٹی وی کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی
نادیہ سوالحہ نے کہا کہ انہوں نے پروگرام میں کبھی براہِ راست فلسطین کے معاملے پر بات نہیں کی۔ (فوٹو: نادیہ انسٹاگرام)
برطانوی ٹی وی میزبان نادیہ سوالحہ نے اسرائیل مخالف خیالات اور فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کے باعث انہیں دن کے وقت نشر ہونے والے ٹاک شو ’لوز ویمن‘ سے ہٹانے کا الزام لگاتے ہوئے نشریاتی ادارے آئی ٹی وی کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق انسٹاگرام پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں نادیہ سوالحہ نے کہا کہ ان کے وکلا نے آئی ٹی وی کو قانونی کارروائی سے قبل ایک نوٹس بھیجا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ادارے نے ان کے ساتھ ان کے ’صیہونیت مخالف نظریات‘ کی وجہ سے امتیازی سلوک اور ہراسانی کی۔
ان کے وکلا کے مطابق یہ نظریات برطانیہ کے ایکویلیٹی ایکٹ کے تحت پروٹیکٹڈ فلسفیانہ عقائد میں شامل ہیں۔
نادیہ سوالحہ نے بتایا کہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد دسمبر 2023 میں انہوں نے فلسطینیوں کے حق میں عوامی سطح پر آواز اٹھانا شروع کی، جس کے بعد وہ ’بدنام کرنے والی مہم، شکایات، مخالفانہ میڈیا کوریج اور لوز ویمن سے ہٹانے کے مطالبات‘ کا سامنا کرتی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’آئی ٹی وی نے مجھے بار بار لوز ویمن میں شامل اور خارج کیا، جبکہ ہر بار قواعد بدلتے رہے۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ مجھے دوبارہ نہیں ہٹایا جائے گا، کیونکہ یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ میں کیا کہتی ہوں۔‘
ان کے مطابق انہیں زیادہ تر یہی وجہ بتائی گئی کہ ’باہر کا ماحول ہمارے لیے بہت زیادہ شور والا ہے۔‘
نادیہ سوالحہ کا کہنا تھا کہ نشریاتی ادارے نے انہیں بتایا کہ ان کے عوامی بیانات سے پیدا ہونے والا تنازع اس کے فیصلوں میں ایک اہم عنصر تھا۔
انہوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ وہ یہود مخالف خیالات رکھتی ہیں۔ یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب جولائی میں اسرائیل کے حامی معروف میڈیا شخصیات کے ایک گروپ نے کھلے خط کے ذریعے آئی ٹی وی سے مطالبہ کیا کہ نادیہ سوالحہ کو دوبارہ پروگرام میں شامل نہ کیا جائے۔ خط میں ان پر اشتعال انگیز بیانیہ اور غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔
نادیہ سوالحہ نے کہا کہ انہیں اس دستاویز میں شامل الزامات کا جائزہ لینے یا جواب دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔
انہوں نے میڈیا میں شائع ہونے والے ان الزامات کو بھی مسترد کیا جن میں ان پر یہود دشمنی اور دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو اخبارات جنہوں نے ماضی میں ان اور ان کے شوہر کے خلاف الزامات شائع کیے تھے، بعد میں معذرت کر چکے ہیں اور ہرجانہ بھی ادا کیا، جبکہ ’دیگر معاملات ابھی زیرِ التوا ہیں۔‘
آئی ٹی وی کے خلاف ان کی قانونی کارروائی کو یورپی لیگل سپورٹ سینٹر کی حمایت حاصل ہے، جس کا کہنا ہے کہ نشریاتی ادارے نے میزبان کے ساتھ ان کے پروٹیکٹڈ فلسفیانہ عقائد کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا۔
نادیہ سوالحہ نے کہا کہ انہوں نے پروگرام میں کبھی براہِ راست فلسطین کے معاملے پر بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے ایک ایسی خاتون کے طور پر پروگرام میں شامل کیا گیا تھا جو اپنی رائے کا اظہار کرتی ہے، اور میں نے شو کے دوران کبھی فلسطین کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس موضوع پر بات کی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’صرف مجھے ہی اپنے خیالات کی وجہ سے نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔ ایسے اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسیں، فلاحی اداروں کے کارکن، سپر مارکیٹ کے ملازمین اور طلبہ بھی ہیں جنہوں نے اپنے ضمیر کے مطابق بات کی اور انہیں بھی میرے جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔‘