Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کی نئی گزرگاہ پر اتفاقِ رائے ہو گیا: ایران کا دعویٰ

ایران نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ مجوزہ راستے کے جغرافیائی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایک متفقہ راستے کا تعین کر لیا ہے اور اس گزرگاہ کو مشترکہ طور پر منتظم کرنے کے حوالے سے انتظامات کو حتمی شکل بھی دی جا رہی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ پر عملاً کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو عالمی توانائی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ ایران اس راستے کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کے لیے کسی معاہدے کا خواہاں ہے، تاہم ایران اس دعوے کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اس معاملے میں آبنائے کے دوسری جانب واقع اپنے ہمسایہ ملک عمان کے ساتھ معاملات طے کرے گا۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’دونوں فریقین کے درمیان مجوزہ راستے کے جغرافیائی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور اگر تیسرے فریق اس عمل میں رکاوٹ نہ ڈالیں تو دونوں ممالک کا مشترکہ اعلامیہ حتمی جائزے اور مسودہ سازی کے آخری مراحل میں ہے، جس میں بنیادی نکات اور باہمی اتفاق رائے شامل ہو گا۔‘
رپورٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عمان کے ساتھ بات چیت آگے بڑھ رہی ہے، تاہم ہم اگر کسی سمجھوتے پر پہنچ بھی گئے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کے لیے راستہ مکمل طور پر محفوظ ہو گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانے والے عوامل اب بھی موجود ہیں، جن میں امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی اور ایران اور اس کے مفادات کے خلاف دیگر جارحانہ اور دھمکی آمیز اقدامات شامل ہیں۔‘
جنگ سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کا تقریباً پانچویں حصہ تیل اور ایل این جی کی برآمدات گزرتی تھیں، اور اس آبی گزرگاہ پر تنازع شروع ہونے کے بعد سے قیمتوں میں بار بار اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث امریکہ پر اس مسئلے کو ختم کرنے کے لیے معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

شیئر: